اسلام میں جمہوریت کی تعلیمات

یونانی فلسفے کے آنے کے بعد جب تعلیم و تحقیق کا باب کھلا تو باطل نظریات کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنا شروع کیا گیا۔ جس پہ فقہ کی تدوین کی ضرورت پیش آئی تاکہ آنے والے سوالوں کے جوابات اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں مرتب کردئیے جائیں۔ اسلام نے یونانی فلسفہ جمہوریت کی نفی کی۔ یعنی عوامی رائے کو رد کیا۔ اور جمہوریت کی اعلی اور جداگانہ تشریح کی جسے مدبر عقل انسانی اسے تسلیم کرتی ہے۔ تمام انسانوں کے حقوق ایک جیسے ہیں لیکن کسی انسان میں صلاحیتیں زیادہ ہیں تو وہ زیادہ ذمہ داریاں ادا کرسکتا ہے۔ اسی لئے اسلام ایسے باصلاحیت افراد پہ ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔ اسلام صاحب علم و قابلیت افراد کی رائے کو حکومت سازی میں زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ایسے ہی اسلام قانون سازی میں ایسے باصلاحیت افراد کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

"اسلام کے مطابق ایک شعبے کے ماہر، صاحب الرائے افراد کا ایک نقطہ پہ متفق ہوجانا، جمہوریت ہے”

اسلام کے مطابق "جمہوریت” کی حقیقت اور اصول یہ ہیں کہ اگر معیشت پہ بات ہو رہی ہے تو ماہرین معیشت کی رائے معتبر ہوگی۔ اگر طب کی بات ہورہی ہے تو ماہرین طب رائے زنی کریں گے۔ اگر تعمیرات کی بات ہورہی ہے تو تعمیراتی ماہرین کی رائے کو معتبر گردانا جائے گا۔ ایک سپاہی اور کیپٹن یا ایک میجر اور ایک جنرل کی رائے کیسے برابر ہوسکتی ہے؟۔۔۔ ایک جسٹس کی رائے اور ایک کلرک کی رائے کیسے برابر ہوسکتی ہے؟۔۔۔ ایک مزدور اور ایک انجینئر کی رائے کیسے برابر ہوسکتی ہے؟۔۔۔ ایک ساٹھ سالہ بوڑھے کی اور ایک بیس سالہ نوجوان کی رائے کیسے برابر ہوسکتی ہے؟۔۔۔ حکومت چونکہ کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور ریاست میں موجود بہت سے اداروں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس لئےحکومت کی تشکیل بھی ماہرین ہی کریں گے، جو حکومت کی تشکیل کے معاملے کو جانتے ہوں اور اس معاملے کی حساسیت کا علم رکھتے ہوں اور حکومت چلانے کی ذمہ داری ایک سربراہ مملکت کے حوالے کریں گے۔  سربراہ مملکت کو صدر کہیں، امیر کہیں، بادشاہ کہیں، اسلام اس سے نہیں روکتا۔ لیکن ماہرین فن میں یہ وصف ہرگز نہیں ہوتا جو آج کل ہوتا ہےکہ طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوتا ہے۔ اعتراض برائے اعتراض۔ مخالفت برائے مخالفت۔ نہ ہی اسلام کے مطابق  یہ جمہوریت ہے کہ عوامی نمائندے حکومت تشکیل دیں اور حکومت چلائیں۔

اسلام کی عطا کردہ تعلیمات بہت واضح اور مدبرانہ ہیں، جن سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایک "سربراہ مملکت”  ہو، جو کہ اسلام کے عطا کردہ احکامات کے مطابق امور ریاست چلائے۔  سربراہ مملکت کو "امام” یا "امیر” یا "صدر” یا "بادشاہ” یا "سلطان” کہا جائے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اصل اس کی یہ ہے کہ أمور ریاست چلانے کیلئے، اسلام کے مقرر کردہ حدود و قوانین کی عطا کردہ طاقت کا حامل عہد یدار ہے۔ جس ریاست کی سربراہی ایک خاندان تک محدود کرنا لازم ہوجائے، جیسے برطانیہ اور سعودی عرب  میں ایک ہی خاندان میں سے سربراہ مملکت مقرر ہوسکتا ہے۔  وہاں یہ "بادشاہی نظام حکومت” کہلاتاہے۔ بادشاہت میں ایک خاندان کی حکومت ہوتی ہے یعنی سربراہ مملکت ایک ہی خاندان میں سے ہوگا۔  اسلام کے مطابق خاندانی بادشاہت  کیلئے ضروری ہے کہ عوامی رحجان اس ایک خاندان کے برسر اقتدار ہونے کی جانب ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کیلئے نامزدگی کے وقت حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا کہ "اہل عرب، خاندان قریش کے علاوہ کسی کو بادشاہ تسلیم نہ کریں گے”۔ یعنی کسی خطہ میں اگر کسی ایک قبیلہ یا خاندان کو معتبر مانا جاتا ہےاور اس قبیلہ کی سربراہی کو ہی لوگ تسلیم کرتے ہیں تو حرج نہیں کہ اسی خاندان کے سب سے قابل فرد کو امیر منتخب کیا جائے۔ اسے آج کے دور میں خاندانی بادشاہت کہا جاتا ہے، جس میں حرج نہیں۔ لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایک قبیلے یا خاندان کے ہی افراد سربراہ مملکت کے عہدوں پہ تعینات ہوں تو یہ "بادشاہت” کہلائے گی۔ یعنی حکومت کی سربراہی ایک ہی قبیلے یا خاندان میں رہے۔ اس معاملے میں بھی اسلام نہیں روکتاکیونکہ اسلام کی تعلیمات معاشرے میں توازن چاہتی ہیں۔  اسلام کے سب اصول و قوانین معاشرے میں انتشار کو روکتے ہیں اور اگر عوام میں کسی خاندان کی پزیرائی زیادہ ہے اور عوام میں اس خاندان یا قبیلے کے علاوہ کسی کی سربراہی قبول نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو اہل شوری اس قبیلے یا خاندان کے بہترین فرد کو مملکت کی سربراہی دیں۔ اسلام یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ زندگی کا ہر انفرادی یا اجتماعی پہلو، کتاب اللہ اور سنت خیرالانام کے تابع ہو لیکن  کسی طرح کا فساد برپا نہ ہو، نہ ہی کسی کی حق تلفی ہو اور نہ ہی کسی پہ ظلم ہو۔ آج کل کے نظریات کے مطالعے سے بادشاہت کی  تعریف یوں کی جاتی ہے کہ مطلق العنان سربراہ مملکت جوکہ  کسی قانون کا پابند نہ ہو۔ اس کی مثالیں ہمیں غیرمسلم ریاستوں میں بکثرت ملتی ہیں لیکن اسلامی ریاستوں میں ایسی مثالیں بمشکل ہی ملتی ہیں۔

جدید جمہوریت میں ایسی سیاسی جماعتیں بنا لی گئی ہیں جو کسی نہ کسی خاندان کی ملکیت ہیں اور ان کے ذریعے وہ ملکی وسائل اور اختیارات پہ قابض ہوتے ہیں۔ ان کی حکومت ہو یا نہ ہو، وسائل و اختیارات  پہ یہ سیاسی جماعتیں حاوی رہتی ہیں۔ دیکھا جائے تو خاندانی بادشاہت اور خاندانی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں کوئی بڑا فرق نہیں۔ اسلام وسائل کی منصفانہ تقسیم کرتا ہے اور اختیارات کے صحیح منصفانہ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور حدود مقرر کرکے توازن لاتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!