اسلامی جمہوریہ پاکستان

ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں، یہ ریاست ” پاکستان” ہے۔ ہم نے دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ بہت کوششوں اور قربانیوں کے بعد ایک خطہ پاکستان حاصل کیا۔ مسلمانوں کی حکومت برصغیر پہ تھی۔ جس میں برما سے لے کر دکن پھر ہمالیہ تک مسلمان حکومت کررہے تھے۔ لیکن انگریز خطہ ہند پہ قابض ہوگئے اور انگریزوں کے غاصبانہ قبضے سے جان چھڑواتے چھڑواتے ہم مجبور ہوگئے کہ مسلم اکثریتی علاقہ مسلمانوں کو مل جائے تاکہ مسلمان آزاد فضا میں اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ہم نے جس مقصد کے تحت ایک الگ خطہ حاصل کیااس مقصد کو ہم فراموش کرگئے۔ مقصد تھا اطاعت الہی، ایک ایسا خطہ جہاں اللہ کی حکمرانی قائم کرسکیں اور اللہ وحدہ لاشریک کے احکامات و قوانین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

"اللہ کریم کی واحد ذات ہی خالق ہیں اور وہی نظام کائنات کو چلارہے ہیں۔
اللہ ہی ہر شے پہ ہر طرح کی قدرت رکھتے ہیں۔
ہمیں زندگیاں، آسائشیں اور آسانیاں سب اللہ تعالی نے عطا کی ہیں۔
خالق کائنات کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے۔
تمام کائنات کا اقتدار اعلی اور حکمرانی صرف اللہ ہی کے لئے ہے”

بلاشک و شبہ پاکستان کا معرض وجود میں آنے کا مقصد اللہ کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کرنا، اللہ کی حاکمیت کو نافذ کرنا اور قرآن وسنت کے احکام اور  اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے انسانیت کے لئے اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے ایک قابل تقلید مثالی ریاست بنانا تھا۔

۲۳ مارچ ۱۹۵۶ کو ” اسلامی جمہوریہ  پاکستان ” کا خطاب دستور ساز اسمبلی نے آئین کی منظوری کے ساتھ پاکستان کو دیا اور آئین کی منظوری کے ساتھ ہی آزادی ایکٹ ۱۹۳۵ کےقانون کے تحت ہمیشہ کے لئے انگلستان / برطانیہ کے اثر سے پاکستان آزاد ہوگیا۔ پاکستان بننے کے مقصد اور لاکھوں قربانیوں  کو "اسلامی جمہوریہ” بنا کر محض نو سال بعد ہی پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ کیونکہ اس ریاست کی بنیاد صرف اور صرف  اسلام کے نام پہ رکھی گئی تھی اور جہاں اسلام کو مانا اور اپنایا جاتا ہے، وہا ں پہ صرف اسلام ہی ہوتا ہے۔ جب آپ اللہ کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے میں آمیزش کریں یا تبدیلی کریں تو عین اسلام پہ عمل کا دعوی نہیں رہتا۔ جیسے آج کل ہم دعوی مسلمان ہونے کا کرتے ہیں اور پاکستان کو ایک "لبرل ریاست” بنانا چاہتے ہیں۔ یہ مسلمانی ہرگز نہیں کہ آپ نماز پڑھیں،حج کریں،  دعوی اللہ کی اطاعت کا کریں لیکن جہاں دل چاہا احکامات الہی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی من مانی بھی کرلیں، یہ یزیدیت ہے۔ ایسی من مانیوں کو روکنے کا نام "حسینیت” ہے۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نےاسلام سے استفادہ کیا ۔ جیسا کہ آج غیرمسلم اسلام کے اصولوں سے استفادہ کررہے ہیں۔

پاکستان کو اسلام کی بجائے آج تک مغربی جمہوری طرز حکمرانی پہ چلایا جارہا ہے۔ مغربی جمہوریت میں بھی پارلیمانی طرز حکمرانی ہے، نہ کہ صدارتی طرز حکمرانی۔ مغربی جمہوریت پرستی  میں ہم اتنا آگے چلے گئے کہ امریکہ کا صدر تو بائیبل پہ ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے لیکن اسلامی ممالک میں صدر، وزیراعظم چیف جسٹس صاحب یا آرمی آفیسر قرآن پہ ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھاتے کہ ہم اپنے اختیارات کے استعمال  میں قرآن و سنت کے پابند رہیں گے۔غیراسلامی  رواج کو اپنانے کے عمل کو شرک کہیں گے یا کچھ اور ۔۔۔ کہ ہم اللہ کے احکامات کے ساتھ، انسانوں کی مرضی کے احکامات کو بھی چلانے کا دعوی کرتے ہیں لیکن مغربی جمہوریت اور مغربی تہذیب پہ عمل شوق سے کرتے ہیں اور اسلام پہ عمل مجبوری میں کرتے ہیں۔ ویسے بھی  قرآن و سنت میں بیان کردہ قانون کی بجائے، اسمبلی میں بیٹھے افراد کو قانون سازی کا اختیار دینا مسلمانی نہیں ہے کہ ان میں سے اکثریت کے پاس قرآن و سنت کا علم نہیں ہے اور نہ ہی دستور سازی کی قابلیت۔ اللہ کریم ، قرآن مجید میں  فرماتے ہیں کہ

میں نے تمہارے لئے دین اسلام کی صورت میں تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں

ہم  قرآن و سنت سے اپنے مسائل کا حل نکالنے کی بجائے، اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں اور مغربی نظام حکومت اور غیر اسلامی ملکوں میں بننے والے دستور کی نقل کرتے ہیں۔ جبکہ

"مدینہ منورہ کی ریاست کے بعد ، پاکستان وہ واحد ریاست ہے ، جس کا قیام خالصتا اسلام کے نام پہ ہوا ”
اور ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔
"لا الہ الا اللہ"

یہ نعرہ خود ہی  پاکستان کے قیام کا مقصد واضح کرتا ہےکہ

” اس خطہ ءارض پہ کسی کی مرضی نہیں چلے گی  ،سوائے اللہ رب العزت کی مرضی کے”

ہمارا تو حال یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے اسلام کی شکل میں باغ عطا کیا ہے جس میں ہر نعمت ہے۔ لیکن ہم نے باغ کے باہر گندگی سے جاکر کھانا ہے۔ جوہڑ سے پانی پینا ہے۔ لیکن باغ میں موجود ٹھنڈے چشمے کا پانی نہیں پینا۔ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے حکم کے مطابق ہی ہم اس باغ میں رہیں گےاور آپ کی اجازت کے مطابق ہی سب نعمتیں استعمال کریں گے۔ "لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ” ہی ہمارا مقصد حیات ہوگا۔  لاکھوں جانیں اس وعدے پہ قربان ہوئیں۔ لاکھوں عزتیں لٹ گئیں۔ لاکھوں بچے یتیم ہوگئے۔ لیکن جب ہم نے اللہ تعالی سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا تو ہم کیسے کیسے عذاب کا شکار ہوئے ۔ زلزلے آئے، سیلاب کی تباہ کاریاں آئیں،  ٹیکسز کا ناجائز بوجھ، مہنگائی،  بم دھماکے، خودکش حملے، ڈاکہ زنی اور دیگر بے شمار مظالم  کا شکار ہوئے ۔ ذرائع ابلاغ کی ترغیب پہ لیبر ڈے،ویلنٹائن ڈے و دیگر دن بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم نے اللہ تعالی کے حکم پہ  کان دھرنے کی زحمت من حیث القوم نہیں کی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!