امور ریاست بطرز پبلک لیمیٹڈ کمپنی

جمہوریت کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کے نظام حکومت کو لیمیٹڈ کمپنی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ عوام اپنے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کے ذریعے  ملک کے حاکم اور مالک ہیں۔ عدلیہ، فوج، انتظامیہ اور دیگر شعبے ملک کے ملازم ہیں۔ جیسے لیمیٹڈ کمپنی میں ہر شعبہ آزاد ہوتا ہے، ویسے ہی عدلیہ آزاد ہے، فوج ایک خودمختار ادارہ ہے۔ جو چاہے، جیسے چاہے کرے۔ ہر شعبے کا سربراہ اس شعبے کو چلانے کا ذمہ دار  ہے۔ کمپنی کے مالک کو مستقل تنخواہ اور مراعات مل رہی ہوتی ہیں، ویسے ہی عوامی نمائندوں کو تنخواہ اور مراعات مل رہی ہوں اور ان  کا اقتدار میں حصہ، عوامی رائے کے مطابق بڑھتا اور کم ہوتا رہے اور یہ طبقہ ایوانان حکومت میں بیٹھا رہے۔ انھی عوامی نمائندوں کے ذریعے منتخب کردہ سربراہ مملکت بھی برائے نام ہی ہو۔ سربراہ مملکت صرف توثیق کے دستخط ہر قانون یا مسودہ پہ ثبت کرنے کا پابند ہو۔ یہ باطل اور غیرفطری نظریہ مغربی جمہوریت کے ذریعے پروان چڑھ رہا ہے جو اقتدار کی مرکزیت کو ختم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں مسائل پہ کوئی ایک فرد جواب دہ نہیں ہوتا اور مسائل بڑھتے جاتے  ہیں۔ جیسے آج کل بیشمار مسائل کو ہر محکمہ دوسرے محکموں پہ ڈال دیتا ہے لیکن کوئی بھی محکمہ ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!