چین کا تعلیمی نظام

چین میں تعلیمی ادارے مکمل طور پر حکومت کی زیر سرپرستی کام کرتے ہیں۔ 2005ء میں غیرسرکاری تعلیمی اداروں کو صرف اعلی تعلیم کے لئے کھولنے کی اجازت دی گئی، جس کے لئے ماسٹر یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری لازمی قرار دی گئی۔ چین میں بھی چینی زبان میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔

ایک ایسا واقعہ میری نظر سے گزرا کہ جس کے بعد ہمارے حکمرانوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے تھا۔ یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم چین کے دورے پہ گئے۔ چین کی ایک یونیورسٹی میں انھیں خطاب کی دعوت تھی۔ وہاں پہ صرف ملکی سربراہان کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ سوالات کے وقفے کے دوران طلباء نے اردو زبان میں سوال کئے۔ بعد میں پتہ کیا گیا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ شعبہ اردو کی انچارج کو بلایا۔ وہ پاکستانی خاتون تھیں۔ انھوں نے بتایا  کہ  چین میں سب سے مقبول شعبہ اردو زبان کا ہے۔ اردو زبان پہ عبور حاصل کرنے والوں  کو اعلی محکمے نوکریوں کا بندوبست کرکے دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں دنیا کی اگلی تیزی سے ابھرنے والی زبان "اردو” ہے۔ معاشی گزرگاہ کے حامل ملک پاکستان سے فائدہ لینے کے لئے اردو زبان پہ عبور ضروری ہے۔ جس قوم نے عربی، ہسپانوی، انگریزی نہیں سیکھی وہ اردو سیکھ رہی ہے، جس کا مقصد صرف تجارتی ہے۔ تمام یورپی ممالک میں بھی  اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کوقبول نہیں کرتے۔ لسانی تعصب اکثر ممالک میں بہت زیادہ ہے،یہاں تک کہ کچھ ممالک اپنی صوبائی زبانوں کو فروغ دینے میں بہت زیادہ متعصب ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!