چین، پاکستان اور صنعت کاری

چین میں صنعت سازی کو فروغ دینے کے لیے 1898ء میں اصلاحات کی گئیں تھیں، لیکن وہ بری طرح سے ناکام ہو گئیں۔ اس کے بعد چین نے اپنے سیاسی نظام کی 1978 میں تنظیم نو کی۔ ان سیاسی نظام کی تبدیلیوں نے چین کو صنعتی اعتبار سے ایک عالمی قوت بنا دیا۔ سیاسی نظام کی اصلاح کی اہمیت کا اندازہ چین کی سیاسی اصلاحات سے لگایا جاسکتا ہے۔ چین کے مقامی نمائندے با اختیار اور فنڈ کو پیدا  کرتے ہیں اور فلاحی کاموں میں بھی استعمال کرتے ہیں اور وہاں کی قومی قیادت میں انجینئرز اور ماہرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور عوامی فلاح کے جذبے سے سرشار ہے۔ جاپان اور چین کی کامیاب صنعتی ترقی کو مدنظر رکھ کر ہم صنعتی انقلاب لاسکتے ہیں۔

قومی ترقیاتی نظام کے ذریعے صنعتی منصوبہ بندی کی جائے اور”پیداواری سائیکل” بنایا جائے کہ فلاں علاقے سے یہ خام مال حاصل ہوتا ہے، وہاں یہ یہ انڈسٹری لگائی جائے، جو کہ اس خام مال کو ریفائن کرے۔ ان فیکٹریوں سے جو فضلہ نکلے گا، اس کو اگلے مرحلے میں کون سی فیکٹریوں میں  استعمال میں لایا جاسکتاہے۔ ان فیکٹریوں کا خام مال ان کے قریب ترین ہی دستیاب ہوسکے اور ان کا فضلہ اگلے مرحلے میں کیسے استعمال ہوگا۔ اس طرح سے ترسیلاتی اخراجات میں کمی بھی واقع ہوسکے گی۔ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ برآمدات سےحکومت کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس سب کے لئے، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ماہر ارضیات اور ماہر کیمیات و طبیعات کی ایک کمیٹی بنائی جائے، جو کہ پیداواری سائیکل کی پلاننگ کرے۔ اس کام کے لئے ایک ادارہ پاکستان پلاننگ کمیشن کے نام سے بنایا گیا۔ جس نے بہترین منصوبے بنائے۔ افسوس کہ آج یہ ادارہ ایک عضو معطل بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ملکی سرمایہ کاروں کو پہلے موقع دیا جائے  کہ وہ سرمایہ کاری کریں، ورنہ غیرملکی فرموں کے ساتھ ملک کر ملکی سرمایہ کاروں کو صنعتیں لگانے کا موقع دیا جائے۔ اس میں مزید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر صنعت کے مالکان میں پاکستانی سرمایہ کاروں کا سرمایہ کم از کم نصف ہو۔اس سے مقامی سرمایہ کاروں اور غیرملکی سرمایہ کاروں دونوں کا اعتماد بڑھے گا۔ پاکستانی شہریوں کی تکنیکی تربیت کا انتظام ان کارخانوں کے ساتھ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کارخانوں کو چلانے کے لئے ماہرین بیرون ملک سے ہی بلانے پڑیں۔ جلد از جلد مقامی شہریوں کی تربیت کرنے کی کوشش کی جائے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے غیرسرکاری کارخانے اور ادارے بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ قومی معیشت کی بہتری کے لئے ،صنعتوں کے فروغ کے ذریعے  درآمدات  کو کم ازکم سطح پہ لانے کی پالیسی بنائی جائے۔دفاع اور تمام اشیائے صرف کو ملک میں تیار کرنے کی پالیسی بنائی جائے۔ صنعتی اور پیشہ وارانہ تعلیم کا دائرہ کار ان صنعتوں میں تعلیمی ادارے قائم کرکے باآسانی دیہاتوں تک بڑھایا جاسکتاہے۔ یہ ادارے مختصر تکنیکی تعلیم دے سکیں اور سند جاری کریں اور ان کو ملازمتیں بھی دیں۔ کچھ ممالک میں یہ کام بڑی کمپنیاں کرتی ہیں۔ وہ اپنے ملازمین کو باقاعدہ تربیت بھی دیتی ہیں اور سند بھی دیتی ہیں اور ملازمت بھی۔  تکنیکی تعلیم اور تجربہ  کی بنیاد پہ صنعتی بینک کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔ اس کی بہترین اور موثر پالیسی بنائی جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!