پاکستان کی زراعت میں جدت اور آمدن

پاکستان صنعتی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زرعی ملک بھی ہے۔ لیکن زراعت کے شعبے میں بہت ہی کم تحقیقات ہورہی ہیں۔ اس کے باوجود اس وقت عالمی سطح پہ پاکستان کپاس کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ چنا کی پیداوار میں تیسرا بڑا ملک ،مختلف دالوں اور ہلدی کی پیداوار میں دوسرا بڑا ملک، آم کی پیداوار میں پانچواں بڑا ملک، خوبانی کی پیداوار کرنے والا دوسرا بڑا ملک ،بھنڈی کی پیداوار میں پانچواں بڑا ملک، گنا کی پیداوار میں پانچواں بڑا ملک ہے۔ جانوروں کی افزائش نسل کے لحاظ سے بکریوں کی پیدوار کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ بکریوں کے دودھ کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک اور بھینسوں کے دودھ کی پیداوار میں دوسرا بڑا ملک ہے۔ حیوانات کی افزائش نسل اور دودھ کی زیادہ پیدوار کو بہتر بنانا چاہئے۔

ہر کاشتکار کو زراعت کی تعلیم دی جائے۔ بالخصوص ان کے بچوں کو زراعت کی اعلی سے اعلی تعلیم دی جائے۔ تاکہ کاشتکاری میں نئی تکنیک کو اختیار کر کے ذریعےبہتر فصل اور پیداوار حاصل کی جاسکے۔ کم وقت اور کم خرچ سے بہتر پیداوار کا حصول ممکن ہو۔ اس لئے کسانوں کو جدید زرعی تحقیقات سے آگاہی کا نظام بنایا جائے۔ ضلعی بنیادوں پر زمین کا تجزیہ اور بیج کی جدید پیداواری صلاحیت کیلئے مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر  اور موثر بنایا جائے۔ آج جبکہ بائیو کھادیں پوری دنیا میں استعمال ہورہی ہیں لیکن پاکستان میں آج تک وہی کیمیکل  کھادیں استعمال کی جارہی ہیں۔ کیمیکل کھادیں استعمال  کرنے سے ہم کاشتکاری کے قابل زمینوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کیمیائی کھادوں سے ہماری پھلوں کی صنعت کو ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ فصلیں بھی اچھی نہیں ہورہی ہیں۔ زمینوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی جارہی ہے، جس سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر ہم نے زرعی اداروں کو موثر نہ بنایا تو ہم بہت نقصان کریں گے۔ جبکہ پاکستان میں سالانہ آٹھ سو ارب روپے کی کیمیائی کھاد کاشتکاری میں استعمال ہورہی ہے۔ اب کچھ کمپنیوں نے بائیو کھاد پاکستان میں متعارف کروانی شروع کردی ہے جن سے پیداوار بھی بڑھی ہے اور زمین کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر بائیو کھادکا استعمال عام کیا جائے تو یہ کھاد کی لاگت نصف یا اس سے بھی کم ہوجائے گی اور زمین کی طاقت اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

جانوروں پہ بھی زکوۃ ہے۔ جو کہ حکومتی آمدن کا باعث بنے گی۔جانوروں کے دودھ کے بعد افزائش نسل سے حلال گوشت بھی پوری دنیا کو برآمد کیا جاسکتا ہے۔ صرف موٹر وے کے ساتھ ساتھ جنگلہ لگا کر ہرن، ہڑیال، شتر مرغ  جیسے جانور پالے جاسکتے ہیں اور پاکستان گائے، بکری، ہرن، شترمرغ کے گوشت میں خودکفیل ہوکر دوسرے ممالک کو برآمد کرکے زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن اور موٹروے کے ساتھ ایسے فارم بنائے جاسکتے ہیں جہاں سے دودھ اور گوشت کی ترسیل بھی آسان ہو۔ ان جانوروں کے گوشت کی برآمدات  سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔  زراعت کے شعبے کے ساتھ جانوروں کی افزائش بھی ایک بڑی آمدن کا ذریعہ ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!