پاکستان کا موجودہ تعلیمی نصاب

ایک بہترین تعلیمی نظام سب سے پہلے ایک بچے کو اس کا تعارف اس کی مادری زبان میں سکھاتا ہے۔ کہ وہ کس مذہب و ملت سے ہے، اس کے  حقوق و فرائض کیا ہیں۔ بحیثیت شہری کون کون سی ذمہ داریاں اسے نبھانی ہیں۔ مخلوق خدا ہونے کے ناطے کون کون سی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ والدین کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے۔ بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے۔ ساتھ ساتھ قومی زبان کو پڑھنا اور لکھنا سیکھایا جاتا ہے۔ مادری زبان میں ہی جدید علوم، ریاضی، سائنس کے ساتھ ساتھ معاشرت، معاملات،  اخلاقیات وغیرہ سکھائی جاتی ہے تاکہ ننھے نونہال کے ذہنوں کو تصور واضح ہوسکے۔

اسلامی ریاستوں نے ہی علم و تحقیق کو فروغ دیا۔ تحقیق کے نتیجے میں علم کے اتنے ابواب قائم کئے گئے کہ تاریخ میں کوئی ایسا شعبہ نہیں، جس کی بنیاد مسلمانوں نے نہ رکھی ہو۔ حتی کہ آج بھی مسلمانوں کی تحقیق سے کسی نہ کسی انداز میں استفادہ ضرور کیا جارہاہے۔ مسلمانوں کے تدریسی معیار کا اندازہ آپ اس واقعہ سے لگائیں کہ بچے میدان میں کھیل رہے تھے ۔ ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا تو انھوں نے شفقت سے ایک بچے سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھیل رہے؟۔۔۔ بچے نے جواب دیا کہ” کیا اللہ تعالی نے ہمیں اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم کھیل کود میں وقت گزاریں؟۔۔۔ ہمیں تو اللہ نے اطاعت /بندگی کیلئے پیدا کیا ہے”۔ اسلامی تعلیمی نظام ، وہ شعور اور پہچان دیتاہے کہ جس کی تربیت کی بنیاد پہ اپنی ذات یا اپنے گھرانے کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کی فلاح و بہبود کا سوچتا ہے۔

ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کو ہمارے اپنے تعلیمی ماہرین ڈیزائن کرنے کی بجائے، غیرمسلم ممالک کے ماہرین آکر ڈیزائن کرتے ہیں اور ہمارے ہاں کے ماہرین کا سارا زور انگریزی زبان پہ ہے کہ کہیں رسم غلامی چھوٹ نہ جائے۔ پھر دینی تعلیم کی جانب ہماری کوئی تعلیمی پالیسی ہے ہی نہیں۔ جبکہ دینی تعلیم کے بغیر ہم معاشرے میں ایمانیات، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور جدید علوم  کو فروغ ہی نہیں دے سکتے۔

کسی ملک کے نونہالوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہوتا ہوگا جیسا پاکستان میں پاکستانی نونہالوں کے ساتھ تعلیمی نصاب کی بنیاد پہ کیا جارہاہے۔ برطانیہ سے ایک ماہر تعلیم پاکستان آیا تو اسے بہت فخر سے  سکولوں میں انگریزی بولنے والے طالبعلموں سے ملوایا گیا۔ اس نے کہا کہ اگر میں اپنے ملک کے نونہالوں کیلئے کسی دوسری زبان میں تعلیم کا تصور دیتا تو مجھے پاگل قرار دے دیا جاتا۔ لیکن شاید اس نے انگریزی میں یہ بات کی تھی، اس لئے ہمارے ماہرین تعلیم کو وہ شرمندگی محسوس ہی نہیں ہوئی ہوگی، جو کہ ہونا چاہئے تھی۔

پاکستان میں بہت عرصے تک سرکاری تعلیمی اداروں نے راج کیااوربہت  بہتر کردار ادا کیا۔ لیکن ان میں بھی دینی تعلیم کا اہتمام نہ ہونے کے برابر ہی رہا۔ لیکن بنیادی مسائل کی آگاہی کی حد تک یہ کمی اساتذہ اکرام بہت حد تک پوری کرتے رہے۔ یہاں بھی نظام حکومت  کی  بے حسی ہی سامنے آتی ہے۔ اب تو سرکاری اداروں کے معیار ایسے ہیں کہ کوئی صاحب ثروت پاکستانی اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں  داخل نہیں کرواتا۔ البتہ دیہی علاقوں میں نجی سکولوں کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے والدین سرکاری سکولوں میں داخلہ کروا دیتے ہیں۔ سکول سے صرف گھر کا کام دے دیا جاتا ہے اور والدین کے ذمہ لگا دیا جاتا ہے کہ آپ گھرکا کام کروائیں اور پڑھائیں، سمجھائیں بھی۔ اب یہ ذمہ داری والدین اگر پوری نہ کر سکتے ہوں تو وہ ٹیوشن کا اہتمام کریں گے۔ اب والدین کو ٹیوشن سنٹر کی فیس ادا کرنا پڑے گی۔ جس میں داخلہ طلباءکیلئے لازمی نہیں تو  کم از کم مجبوری ضرور ہوتا ہے۔ کیا ہی تعلیمی نظام چل رہا ہے؟۔۔۔

غیرسرکاری تعلیمی ادارے آکسفورڈ کا نصاب پڑھاتے ہیں اور جب  امتحانات کی باری آتی ہے تو سرکاری نصاب پڑھانا شروع کردیا جاتا ہے۔یعنی تعلیمی نصاب بھی مرتب کرنے کی صلاحیت ہمارے محکمہ تعلیم میں موجود نہیں۔ تدریسی کتب ایسی کہ "اللہ کی پناہ”۔ نصاب میں انگریزی ہی انگریزی ہے۔ بچوں کی کتابوں کے بستے کا بوجھ ایسا کہ "استغفراللہ”۔ مجھے تو تمام بچوں پہ ترس آتا ہے۔ ان کی جسمانی ساخت اتنا بوجھ اٹھانے کی حامل ہرگز نہیں ہے۔  ہمارے ملک میں ایک اور سہولت بھی میسر ہے۔ ہمارے ملک میں  تعلیمی نظام کئی قسم کے دستیاب ہیں۔ آپ کئی طرح کے تعلیمی نظام میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔ آپ کو امریکہ، برطانیہ وغیرہ کے نصاب بھی مل جائیں گے اور ان کے نظام تعلیم کے تحت چلنے والے ادارےبھی مل جائیں گے۔ تعلیم کے نام پر نجی سکول مافیا، تعلیمی بورڈز، محکمہ تعلیم، اساتذہ، اکیڈمیوں والے اور سب سے بڑھ کر والدین جو شرمناک اور گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں، اس کے نتائج آنا شروع ہوچکے ہیں۔ بچے اب روبوٹ، رٹو طوطے بن گئے ہیں۔کیا بنے گا جب ریاستی مشینری مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں آجائے گی؟۔۔۔ ہزار نمبر لینے والے بچے سے نصاب سے ہٹ کر کچھ پوچھ لیں، آپ کو اس تعلیمی نظام کی قابلیت کا پتا چل جائے گا۔ آج کے والدین کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں پر کیا ظلم کربیٹھے ہیں؟۔۔۔ ان بچوں  سے کھیل کا میدان چھین لیا گیا ہے۔یہ بچے رٹا تو لگا لیتے ہوں گے لیکن ان کے دماغ سلیٹ کی طرح صاف ہیں۔

ایک دن بزرگوں کی صحبت میں میں نے عرض کیا کہ میں بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں بہت پریشان ہوں۔ ایک بزرگ، ریٹائرڈ ہیڈماسٹر، میاں عبدالرشید صاحب نے کہا کہ تم ہی پریشان نہیں بلکہ ہم بھی بہت پریشان ہیں۔ اتنے معزز اور تجربہ کار اساتذہ بھی موجودہ تعلیمی نظام سے اتنے پریشان ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ محکمہ تعلیم کے افسران کیوں تعلیمی نظام کو جدید اور کامیاب طریقوں پہ استوار نہیں کررہے؟۔۔۔ جو اسلام اور نظریہ پاکستان کا حامل تعلیمی نظام ہو۔

سوائے اردو ،اسلامیات کے سب مضامین بچوں کو انگریزی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اب جبکہ میں اپنے بچوں کو انگریزی زبان کی کتاب تک باامر مجبوری پڑھوا رہا ہوں لیکن اب تو باقی مضامین بھی انگریزی میں ہی پڑھانے پڑھتے ہیں۔ جب میں دس / بیس یا پچاس کا لفظ گھر میں بولتا ہوں تو میرے بچوں کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ کیا کہہ رہے ہیں؟۔۔۔ پھر انھیں بتانا پڑتا ہے کہ twenty/fifty اس وقت میرا دل چاہتا ہے کہ میں حکومتی پالیسی کو جلا کر راکھ کردوں۔ میرا مستقبل تباہ کیا جارہا ہے۔ میرے ملک کا مستقبل تباہ کیا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کے نظام تعلیم میں انگریزی، انگریزی مضمون نویسی اور پھر انگریزی ہی ہے۔ کسی ملک کے بچوں پہ یہ ظلم نہیں کیا جاتا جو ہمارے ملک کے بچوں پہ ہو رہا ہے۔ میرے ایک دوست کے بیٹے نے اس کا ایک حل نکالا، دونوں میاں بیوی پڑھے لکھے ہیں. وہ اپنے دونوں بچوں کے سامنے شروع سے ہی انگریزی میں بات کرتے ہیں تاکہ بچہ صرف انگریزی، انگریزی اور انگریزی سیکھ سکے اور کل کو اعلی سطح کا سرکاری یا غیرسرکاری نوکر بن سکے۔

موجودہ دور میں ذہین طلباء انجینرنگ، میڈیکل، الیکٹرونکس، کمپیوٹر سائنس کے میدان چنتے ہیں۔  لیکن بہت ہی کم ذہین طلباء کاروبار، صنعت سازی  یا میدان سیاست کی جانب آتے ہیں۔ اس کی وجہ جہاں ہمارا تعلیمی نظام ہے، وہیں ہمارا ماحول بھی ذمہ دار ہے کیونکہ منزل نوکری کرنا ہوتا ہے۔ لیکن  جو نالائق طلباء ہوتے ہیں وہ کاروبار کی طرف مائل ہوتے ہیں یا پھر سیاست میں آجاتے ہیں۔ اب ایک ایسا طالبعلم جو دوران تعلیم معاملات کو بہتر نہ سمجھ سکا، وہ کاروبار یا سیاست میں کون سے گل کھلائے گا، وہ ہمیں جمہوریت میں ایوانان سیاست میں نظر آتا ہے۔ اگر ایسے لوگوں کے پاس سرمایہ ہو تو صنعت سازی میں آتے ہیں تو اعلی تعلیم یافتہ ان کے ملازم کے طور پہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ تعلیمی نظام اور ماحول میں صرف نوکری کی استعداد پیدا کرنے والے ہی پیدا کئے جارہے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!