پاکستان میں معدنیات کے ذخائر

پاکستان کی معدنی اور زرعی طور پر آمدنی کا بیشتر حصہ "رکاز” کی مد میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرتا ہے۔ جس کیلئے ہرمقامی  کونسل کی سطح پہ کم ازکم ایک یا ضرورت کے تحت زیادہ ملازم، بیت المال کے موجود ہوں جو کہ معدنیات پہ رکاز کی وصولی کرکے رسید جاری کرسکیں۔

پاکستان کی سرزمین معدنیات کی مد میں بہت زرخیز ہے۔ تیل، گیس، لوہا، سنگ مرمر، قیمتی جوہری پتھر، کرومائیٹ ، تانبا، سونا، کوئلہ وغیرہ کی کثیر مقدار سے اللہ کریم نے اس خطے کو نوازا ہے۔ ہر نعمت وافر مقدار میں اللہ کریم نے ہمیں عطا کی ہے۔ اس کی بہتری کیلئے متعلقہ محکمے اقدامات کریں۔ نئی تکنیک کو استعمال میں لانا لازمی قرار دیا جائے، جس سے پیداوار میں اضافہ اور ضیاع کم ہو۔

حکومتی تخمینے کے مطابق پاکستان میں 460 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ یہ مالیت خام حالت میں ہے پاکستان میں اب تک کل 74 معدنیات دریافت ہوئی ہیں۔ جن سے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ان معدنیات میں 23 دھاتی معدنیات اور 18 غیر دھاتی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ان  دھاتوں کی صنعتیں لگا کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ  پاکستان میں 33 قیمتی پتھر، سنگ جواہر پائے جاتے ہیں جو کہ ایک الگ صنعت ہے، جس سے بیش بہا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں تیل،گیس، سونا، تانبا، یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائیٹ، فلورائٹ، گندھک ، گریفائٹ ، چونے کاپتھر، کھریامٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیئم کے وسیع زخائر موجود ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی نمک کا ذخیرہ پاکستان میں ہے۔ نمک یعنی سوڈیم کلورائیڈ کے ذریعے بیسیوں صنعتیں چلتی ہیں ۔

اس وقت دنیا کی تجارت کا 60 فیصد صرف موبائل ،لیپ ٹاپ اور الیکٹرانک اشیا پر مشتمل ہے۔ بینکاروں کے بعد دنیا کے امیر ترین لوگ اور کمپنیاں اسی شعبے سے منسلک ہیں۔  اس صنعت کی بنیاد "ریت” ہے،جس سے یہ ساری الیکٹرانک اشیاء بنائی جا رہی ہیں ۔ ریت کو 1800 ڈگری سینٹی گریڈ پربھٹی میں کوئلے یا لکڑی کی موجودگی میں پگھلایا جاتا ہے  اور 99 فیصد خالص سیلیکون علیحدہ کرلی جاتی ہے۔ اس کو مزید99.99فیصد خالص سیلیکون حاصل کرنے کیلئے اسکی کسری کشید کی جاتی ہے۔ خالص سیلیکون سے کمپیوٹر چپ بنتی ہیں ۔ ریت سے ہی شیشہ بنایا جاتا ہے ریت ،چونا اور سوڈا ایش کو مکس کر کے پگھلا کر شیشہ بنایا جاتا ہے جو کنسٹرکشن میں کھڑکیوں کے شیشے،برتن، کیمیکل بیکرز،کیمرے کے لینز وغیرہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے  جو کہ کھربوں ڈالر کی انڈسٹری ہے ۔ آپٹیکل فائبر بھی ریت سے ہی بنتی ہے جس نے انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن میں انقلاب برپا کردیا ہے۔

شمسی توانائی سے بجلی بنانے کیلئے سولر سیل کا استعمال دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور بہت بڑی صنعت وجود میں آچکی ہے۔ ریت سے حاصل ہونے والی سیلیکون میں فاسفورس مکس کرکے این ٹائپ میٹیریل یعنی مثبت چارج والا میٹیریل بنایا جاتا ہے۔  سیلیکون میں بورون کی مکسنگ کرکے پی ٹائپ میٹیریل یعنی منفی چارج والا میٹیریل بنایا جاتا ہے ۔ پی ٹائپ کے اوپر این ٹائپ کی تہہ لگادیں تو سولر سیل بن جاتا ہے۔ پی اور این ٹائپ کو ملا کر ڈائیوڈ بنایا جاتا ہے جوکہ تمام جدید الیکٹرونکس کی ماں ہے ۔ اسی پی اور این ٹائپ میٹیریل سے ایل ای ڈی لائیٹ بنائی جارہی ہے۔ جس نے بلب اور ٹیوب لائیٹ کا صفایا کردیا۔ یہ بھی بہت بڑی صنعت  ہے۔ اسی سیلیکون سے ٹچ سکرین بنائی جارہی ہیں اور ایل ای ڈی سکرین بھی اسی سے بنائے جا رہے ہیں۔ سادہ کیمیکل ری ایکشن سے سیلیکا جیل بنائی جاتی ہے جو ڈائیپرز اور ادویات میں نمی جذب کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

سیلیکان اور نمک کے ری ایکشن سے  سوڈیم سیلیکیٹ بنتا ہے جس کو واٹر گلاس بھی کہتے ہیں جو مختلف چیزوں کو جوڑنے کے کام آتا ہے۔  کنسٹرکشن میں کنکریٹ کو طاقت دیتا ہے۔ سوڈیم سیلیکیٹ مٹی کے برتن بنانے میں بھی استعمال ہورہا ہے۔ پیپر ٹیوب اور ریگمال بنانے میں بائینڈر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔  انڈوں کو ایک سال تک محفوظ کرنے کیلئے انڈوں کو سوڈیم سیلیکیٹ اور پانی کے محلول میں ڈبو کر رکھا جاتا ہے۔ کاسمیٹکس میں سوڈیم سیلیکیٹ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پرزے بنانے کیلئے مولڈ کی مٹی میں بھی سوڈیم سیلیکیٹ کو ملایا جاتا ہے۔  ڈائنگ میں فکسر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ صابن اور پینٹ انڈسٹری میں استعمال ہے۔ زمین  میں بھی فصل کو نمی زیادہ دیر تک مہیا کرنے کیلئے ڈالا جاتا ہے۔

اور بہت سی معدنیات ہیں جن کی صنعتیں لگا کر کھربوں ڈالر کاکاروبار کیا جارہا ہے۔ جس میں ہمارا حصہ صفر ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، طلباء کو صرف کلرک بنا بنا کر مارکیٹ میں دھکے کھانے نہ بھیجیں۔بلکہ ایسے ماہرین نکلیں جنھیں بینک شراکت داری کی بنیاد پہ قرض دیں اور وہ صنعتیں لگائیں اور ملک و انسانیت کی مثبت ترقی میں کردار ادا کریں۔

کوئلہ توانائی پیداکرنے کاایک اوراہم ذریعہ ہے۔ صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن پہ کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے علاقوں ڈھکی، ہرنائی، کنگری، مچھ، زیارت، چمالانگ اور ابھیگم میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں۔ جن کا اندازہ 217 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔  40 کلومیڑ طویل کوئلے کی کنگری کانوں میں اعلیٰ قسم کا کوئلہ موجود ہے۔ جس کے ذخائر کا تخمینہ 6ملین ٹن لگایا گیا ہے۔

 صوبہ بلوچستان زیادہ تربے آب وگیاہ پہاڑوں،تاحد نظر پھیلے ہوئے صحراؤں‘ ریگستانوں اورخشک وبنجر میدانی علاقوں پرمشتمل ہے۔ قابل کاشت اراضی کل رقبے کا صرف6  فیصد ہے،جو آبپاشی کے محدود وسائل کی وجہ سے اناج کی ضرورت پوری نہیں کرسکتی۔ جبکہ یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔ فاضل آمدنی سے اس صوبے کو دنیا کا امیر ترین خطہ بنایاجاسکتا ہے۔ بلوچستان میں ریکوڈک میں تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جن کے کل معدنی ذخائر 5.9 بلین ٹن تک خام تانبا ہیں۔ جہاں کی چٹانوں میں 0.41 فیصد تناسب کے ساتھ مٹی میں تانبا اور 0.22 گرام فی ٹن سونا موجود ہے۔ جو ذخائر معاشی طور پر زیادہ قابل عمل ہیں ان کے ذخائر 2.2بلین ٹن ہیں۔ جن کی چٹانوں میں 0.53 فیصد تانبا اور 0.30 گرام فی ٹن سے بھی زیادہ مقدار میں سونا موجود ہے اور جہاں سے سالانہ دو لاکھ ٹن تانبا اور سالانہ اڑھائی لاکھ اونس سونا نکالا جا سکتا ہے۔ سینڈک میں بھی سونے کے وسیع ذخائر ہیں۔

پاکستان کاساحلی و سمندری علاقہ اپنے محل وقوع کے علاوہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔گوادر، پسنی، جیوانی اور ماڑا کے نزدیک سمندر میں تیل اورگیس کے بے پنا ہ ذخائر کی تصدیق ہوئی ہے۔ ساحل مکران کے آس پاس قدرتی گیس کے ذخائر جبکہ بحیرہ عرب کے ساتھ ہماری سمندری حدود میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات بھی معدنیات کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ 1952ء سے گیس اور کوئلے کی بھاری مقدار بھی نکالی جارہی ہے۔  تاہم اس کا فائدہ سرمایہ کارکمپنیوں یااداروں کو ہورہاہے، مقامی لوگوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

جنرل ضیاالحق کے دور میں تیل کی تلاش کیلئے تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ پاکستان تین سال میں محص 3ارب ڈالر کے اخراجات کرکے تیل کی پیداوارمیں خودکفیل ہوسکتا ہے۔ کراچی کے قریب سمندر میں تیل کی ڈرلنگ بھی شروع ہوگئی۔ مگر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کونہ پہنچ سکا۔ 2009ء پنڈی گھیب میں میانوالہ ون نامی رگ لگایا گیا تو یہاں اعلان تک کر دیا گیا کہ ایشیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ نکل آیا ہے ۔ تیل اور گیس کا پریشر اتنا تھا کہ رگ کے سیفٹی والو تک پھٹ گئے گاؤں خالی کرانے کے آرڈر تک آ گئے ۔پھر امریکہ سے ہائی پریشر والو خصوصی آرڈر پر بنوائے گئے ۔ محدود پیمانے پر سپلائی بھی شروع کر دی گئی اوریہاں سے تیل  ریفائنری تک لے جانے کیلئے  پائپ لائن بھی بچھ گئی مگر دو سال بعد اس کنویں کو جہاں ایشیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود تھے اچانک بند کر دیا گیا ۔

کیکڑا ون پہ 100 ملین ڈالر لگے اور سہانے خواب دکھائے گئے۔ جب بھی کہیں کوئی ڈرلنگ کی جاتی ہے ا س سے پہلے وہاں جدید ترین مشینری سے جائزہ لیا جاتا ہے ۔یہ زمین کی نیچے کی پرتوں کا ایک ایکسرے ہوتا ہے جس میں تیل و گیس کے ذخائر کو با آسانی ماپا جا سکتا ہے تاہم اس کی کوالٹی کو اندازہ ڈرلنگ کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ اس لئے ایگزون موبل نے 100 ملین ڈالر کا ٹھیکہ لے کر دنیا کا دوسرا بڑا ڈرلنگ رگ لگایا وہ محض تخمینوں پر نہیں لگایا گیا۔ وہاں تیل کے سو فیصد ذخائر موجود ہیں مگر انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت روک دیا گیا ۔

2016ء میں پاکستان کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان اپنی 45فیصد تیل کی ضروریات خود پوری کر رہا ہے۔ جس کے ساتھ امریکن بلاک سے نکل کر چینی اور روسی بلاک کی جانب رحجان کے ساتھ مقامی کرنسیوں کے تبادلے کے معاہدے کئے گئے۔ توانائی کے حصول کے تحت تاجکستان سے گیس کے معاہدے کئے گئے۔ تجارتی گزرگاہ ہونے کے پیش نظر موٹرویز کی تعمیر پہ کام تیز کردیا گیا۔ ان میں سب سے خاص یہ ہوا کہ 2016ء میں پاکستان نے مزید بیرونی قرض نہ لینے کا اعلان کردیا۔ پاکستان کی ترقی اور خودکفالت کی وجہ سے طاغوتی طاقتوں نے پاکستان میں سیاسی افراتفری اور کشیدگی میں اضافہ کردیا۔ جس کا نتیجہ ملک میں سیاسی و معاشی بحران کی شکل میں آیا۔  ان حالات میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تیل کی صورت  پاکستان کے ہاتھ میں دس سے پندرہ ارب ڈالر سالانہ کی لاٹری دے دی جائے۔  یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکی اور یورپی کمپنیاں اور ان کے ساتھ پاکستانی کمپنیاں جو ڈرلنگ کرتی ہیں وہ ناکام کیوں ہوتی ہے اور چینی کمپنیاں جو ڈرلنگ کر رہی ہیں ان میں کامیابی کا تناسب کیوں زیادہ ہے ؟۔۔۔ ان سب کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو قرضوں کے  جال میں پھنسانا تھا تاکہ کڑی شرائط منوا نے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروایا جا سکے ۔ جبکہ پاکستان نے 2016ء میں بین الاقوامی اداروں سے مزید قرض نہ لینے کا اعلان کردیا تھا۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ  اور عالمی اداروں کی جانب سے سخت شرائط کا مقصد بھی یہی ہے کہ ملک کو معاشی انارکی کی طرف لے جایا جائے ۔

طاغوتی طاقتوں نے دنیا کی دولت، وسائل اور طاقت کو اپنے زیر اثر رکھنے کیلئے بہت سے ملکوں پہ پابندیاں لگا کر کیسے ان کی عوام کو بھوک، افلاس کے ہاتھوں پیس رکھا ہے، اس کا اندازہ ہمیں ایران اور روس جیسے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک پہ پابندیوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی اسی کی کڑی ہے۔  پاکستان کو بھی تیل اور گیس نکالنے کے معاملے میں بہت سے طاغوتی ایجنٹوں کی سازشوں کا سامنا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!