وسائل اور ذرائع آمدورفت

اسلام میں راستوں کی بہت اہمیت ہے۔ خلفاء راشدین کے ادوار میں راستوں کی حفاظت کیلئے چوکیاں اور مسافروں کے رات گزارنے کیلئے سرائے بنائے گئے تھے۔ جہاں تازہ دم گھوڑوں کے علاوہ چارہ، چراہگاہیں بھی موجود ہوتی تھیں۔

عثمانی خلیفہ، سلطان عبد الحمید نے ترکی سے عراق، اردن، شام، فلسطین کو جوڑتے ہوئے مکہ مکرمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا تو کفریہ طاقتوں نے اس منصوبے کو روکنے اور ناکام کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن یہ منصوبہ مکمل ہوگیا۔ جب 1916ء میں عرب ممالک میں بغاوت کروا کر کر ان کو خلافت سے الگ کیا اور مشہور جاسوس لارنس آف عربیہ کی قیادت میں ریلوے  لائن کو بارود سے بھی اڑایا گیا۔  اس کے بعد جرمنی نے بھی ایک ایسا ہی منصوبہ بنایا جو کہ عالمی جنگ کا سبب بنا۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ طاغوتی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ذرائع آمدورفت اتنے آسان ہوں کہ آزادانہ تجارت کو فروغ ملے۔ اب اسرائیل اسی منصوبے کو دوبارہ عملی شکل میں لارہا ہے اور اسرائیل کے وزراء عرب ملکوں کے دوروں  پہ ہیں۔کسی اسلامی ملک نے اس منصوبے پہ اعتراض نہیں کیا جبکہ اس منصوبے کے طاغوتی طاقتوں کے گڑھ، اسرائیل کے زیراثر ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

راستوں اور نہروں کیلئے عمارتوں کے علاوہ ،مسجد اور قبرستانوں کو بھی ہٹانے کی اجازت ہے۔ سڑکوں کے نظام کو موثر بنانا ،  پاکستان کی معیشت کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔پاکستان  کی جغرافیائی حدود ایسی ہیں کہ پاکستان بہت سے ملکوں کی راہداری کیلئے مجبوری ہے۔سڑکوں کا نظام بہترہونے سے بہت سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ چین، روس، افغانستان اور روس سے آزاد ہونے والی اسلامی ریاستوں کو تجارتی سامان کی ترسیل کا راستہ دیکر پاکستان اپنی آمدنی میں بے پناہ اضافہ کرسکتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کی کامیابی سے سڑکوں کے جال، ریلوے ٹریک ، بجلی، کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت میں اضافہ ہوگا اور عشور/کسٹم کے ذریعے حکومتی آمدن بھی بڑھے گی۔

پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ سی پیک کی وجہ سے ہم اپنی آمدنی میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کی کامیابی سے لے کر سڑکوں کے جال، ریلوے ٹریک ، بجلی، کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت میں اضافہ ہوگا اور حکومتی آمدن بھی بڑھے گی۔ سی پیک  میں ملکی وقار اور آزادی کو ملحوظ رکھا جائے۔سڑکوں کے نظام کو موثر بنانا،  پاکستان کی معیشت کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام میں بھی راستوں کی بہت اہمیت ہے۔ راستوں اور نہروں کے لئے عمارتوں کے علاوہ مسجد اور قبرستان تک کو بھی باامر مجبوری منتقل کرنے کی اجازت ہے۔ پاکستان  کی جغرافیائی حدود ایسی ہیں کہ پاکستان بہت سے ملکوں کی راہداری کے لئے مجبوری ہے۔سڑکوں کا نظام بہترکرکے ہم نہ صرف بہت سی آمدنی حاصل کرسکتے ہیں ،بلکہ بہت سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

معدنیات اور فصلوں کی ترسیل کیلئے بھی سڑکوں اور ریلوے کا نظام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ریلوے کی مدد سے معدنیات کو لے جانے کا نظام مرتب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو سفری سہولیات بھی میسر آسکیں گی اور باقی دنیا سے ان کا رابطہ بھی استوار ہوگا۔

ریلوے اسٹیشنز اور موٹر ویز کے انٹر چینج کے قریب زمینوں کو سبزیوں کے اگانے کیلئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے قریبی علاقوں سے سبزی و دیگر اجناس کی ترسیل کیلئے چھوٹی گاڑیاں بھی چلائی جاسکتی ہیں۔ جس سے نہ صرف پاکستان  کے پس ماندہ علاقوں تک سستی سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل بروقت اور کم خرچ ہوجائے گی بلکہ وطن عزیز سبزیوں اور پھلوں میں خود کفیل ہو جائے  گا اور اگر پیداوار زیادہ ہو تو  برآمد بھی کی جاسکتی ہیں۔   ان وسائل سے وطن عزیز میں خوشحالی آئے گی۔ ذرائع ترسیل کے بہتر ہونے سے اور شعبوں کی ترقی سے زراعت، معدنیات وغیرہ سے حکومت کو زکوۃ و عشر کی مد میں آمدنی بھی ملے گی اور مزیدملک کی خوشحالی کا سبب بھی  بنے گا۔

ریلوے ٹریکس کے ساتھ پڑی خالی جگہ اور موٹر وے کے ساتھ پڑی خالی جگہ کو زیر استعمال لاکر بہت سی آمدنی اکٹھی کی جاسکتی ہے۔ ایک تجویز کے مطابق موٹر وے کے ساتھ ہرن کی افزائش نسل سے پاکستان ہرن کے گوشت میں نہ صرف خود کفیل ہو سکتاہے بلکہ دوسروں ملکوں کو ہرن، گائے، بکریوں کے گوشت کی فروخت کرکے زرمبادلہ کمایا جاسکتاہے۔اس کے علاوہ یہ جگہ مختلف پھلوں کے باغات کو اگانے کیلئے بھی استعمال میں لائی جاسکتی ہے ۔ گوشت، پھلوں  کو برآمد کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ اور ملک  کےزرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔

ریلوے  کے ٹریکس کو ڈرائی پورٹس تک پہنچا کر مال گاڑیوں کے ذریعے بھی بہت سی آمدنی کا حصول ممکن ہے اور ترسیلات کے اخراجات میں کمی کا باعث بھی بن سکے گا۔

ریلوے اور موٹر ویز کے ساتھ ساتھ کچھ جگہ خالی موجود ہے اور مزید انتہائی سستے داموں خریدی بھی جا سکتی ہے۔ ان جگہوں پہ شمسی اور ہوا سے  بھی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ  کوئی بھی پیداواری طریقہ فضائی آلودگی کا سبب نہ بن پائے۔ موٹر ویز کے ساتھ ساتھ اور ریلوےکے ٹریکس کے اوپر سولر پینل کی ٹنلز بنانے کا منصوبہ شروع کیا جاسکتاہے۔ ریلوے، موٹروےجیسے محکمے بجلی کی پیداوار کا شعبہ بنا کر پیداوار  لے سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس رستوں کے ساتھ ساتھ بہت سی جگہ خالی پڑی ہے۔ جس سے پہلے مرحلے میں ریلوے اپنے ڈیزل یا کوئلے کے انجنوں کی بجائے برقی انجن لائے جو کہ ماحول دوست بھی ہوں گے۔  ریلوے اسٹیشنز کی بجلی میں بھی ریلوے خود کفیل ہو جائےگا  اور اگر بجلی ضرورت سے زیادہ ہو تو بجلی کی ترسیل کرنے والے محکموں  کو سپلائی دی جاسکتی ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق صرف ریلوے کا محکمہ پاکستان کی تمام بجلی کی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے۔

ریلوے کا نظام ، نہ صرف اپ گریڈ کیا جائے بلکہ اس کو مزید تیز رفتار بنایا جائے۔ جدید ریلوے بوگیاں پہلے ہی پاکستان ریلوے خود تیار کررہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مزید جدید طرز پہ ریلوے کو استوار کیا جائے۔ مقامی سطح پہ ہی ریلوے انجن تیار کئے جائیں، جس کیلئے نئی اور کامیاب ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنایا جائے۔

ریلوے اسٹیشنز کے پاس سستی وسیع پارکنگ کا بندوبست ہو۔ تاکہ عوام ریلوے کے ذریعے سفر کرنے کو ترجیح دیں۔ ذرائع آمدورفت کی پلاننگ میں فوج کی نقل و حرکت اور دفاع کو لازمی مدنظر رکھا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!