پاکستان میں دینی تعلیم

 دینی تعلیم کی ذمہ داری ہم نے وفاق المدارس کے ذمہ کی ہوئی ہے۔ درس نظامی، کوئی شک نہیں کہ ماشاء اللہ بہت اچھا تعلیمی نظام ہے لیکن وقت کے ساتھ مزید علوم کا اضافہ ضروری تھا۔ جبکہ اس میں اب شاید کچھ اضافہ کیا گیا۔ لیکن دینی کتب کی کمی بھی کی گئی۔ اور اس کو آسان کرلیا گیا۔ جدید علوم کو شامل کرنے کی غرض سے انگریزی کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ جبکہ چاہئے یہ تھا کہ اس میں جدید تکنیکی علوم اور سائنسی علوم  کا اضافہ کرکے اس کو دنیوی تعلیم کے سکولوں سے بھی زیادہ بہتر کر لیا جاتا اور مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء دینی اور دنیوی تعلیم پہ بیک وقت عبور رکھتے۔ اس طرح سے دینی مدارس سے نکلنے والے طلباء صرف مدارس یا مساجد تک محدود نہ رہ جاتے۔ بلکہ وہ جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے زیادہ مفید شہری ثابت ہوتے۔ مختلف محکموں میں بھرتی ہوسکتے اور ایک انقلاب آجاتا۔ کوئی مدارس سے نکل کر صحافت کے میدان میں آتا، کوئی قاضی بنتا۔ کوئی انتظامیہ میں آتا۔ کوئی قانون دان بنتا۔ کوئی فوجی افسر بنتا۔ اگر یہ مدارس دنیاوی علوم کو بھی دینی علوم کے ساتھ چلاتے تو یہ ممکن ہوسکتا۔ پہلے بھی ایسا ہی نظام تعلیم کام کررہا تھا۔ آج سالانہ لاکھوں طلباء ہر سال مدارس سے فارغ ہوتے ہیں اور صلاحیت اور سوچ میں بھی دنیاوی تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں لیکن وہ سوائے دین کی خدمت کرنے کے معاشرے میں کوئی دوسری ذمہ داری نہیں لے پاتے۔ ہم یہ نہیں کررہے کہ وہ دینی تعلیم کا اہتمام نہیں کرپارہے یا دینی تعلیم ضروری نہیں۔ لیکن دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں عیسائی اور ہندو چیف جسٹس تو بنے لیکن آج تک کوئی عالم چیف جسٹس نہ بن سکا۔ موجودہ صورتحال کا علم  نہیں لیکن پاکستان میں کافی عرصہ یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا کہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی وفاق المدارس سے جاری ہونی والی سند کی کون سی وزارت تصدیق کرے گی۔ وزارت تعلیم یا وزارت مذہبی امور؟۔۔۔ جبکہ وفاق المدارس کو وزارت صنعت سے منسلک رکھا گیا تھا۔ اب جا کر دینی تعلیم کے بورڈ وزارت تعلیم سے منسلک کئے گئے ہیں۔ جس ملک کا نظام و قانون اتنا فیصلہ نہ کرسکے اس نظام کی بساط ہی لپیٹ دینے میں بھلائی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!