نہروں، ڈیموں، پانی کا نظام اور برقی پیداوار

پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بہترین اور بڑے نہری نظاموں میں شمار ہوتاہے۔ ڈیموں کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ ، مزید ڈیم بنانے کی گنجائش موجود ہے، جس سے نہری نظام کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے ۔پن بجلی سے سستی بجلی کی پیداوار بھی ممکن ہے اور غیر کاشت زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی۔ نہری نظام کی از سر نو تشکیل کرکے پانی کی ترسیل کو آخر تک یقینی بنایا جائے۔ نہروں کا نظام مرتب کرتے ہوئے جہاں زراعت اور زرعی پیداوار  کو مدنظر رکھا جائے، وہاں دفاع کو بھی ملحوظ خاطررکھ کے منصوبہ بندی کی جائے۔

ہمارے ملک میں نیشنل گرڈ کے ذریعے تمام گرڈ سٹیشن آپس میں منسلک ہیں۔ نیشنل گرڈ کی صلاحیت بجلی کی طلب کی نسبت  کم ہے۔ اب اگر ہم چین یا کسی دوسرے ملک سے یا بجلی کی پیداوارلیکر بندوبست کر بھی لیں تو بھی بجلی کی فراہمی بلاتعطل نہیں  کرسکتے کیونکہ  ہمارا نیشنل گرڈ  ٹرپ کر جائے گا۔ ماضی میں کئی دفعہ ایسا ہوچکا ہے۔ فوری طورپر ایسے ٹیکنیکل انتظامات کیے جاسکتے ہیں کہ جس سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ نیشنل گرڈ کی دو یا تین حصوں میں پیداوار کے حساب سے تقسیم کرکے بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر کیا جاسکتا ہے اور لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے۔   بتدریج نیشنل گرڈ کو اپ گریڈ کرکے بعد میں نیشنل گرڈ کا آپس میں ربط قائم کردیا جائے۔ گرڈ اسٹیشنز کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، جس پہ بھی بہت تیزی سے کام ہورہا ہے کیونکہ اب بجلی کی طلب میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔

بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے شمسی توانائی ، ہوا سے توانائی کاحصول،  ایٹمی بجلی گھروں کے ذریعے بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے علاوہ ، پاکستان میں نہروں اور دریاؤں سے ابھی بھی کئی ہزار ہی نہیں بلکہ کئی لاکھ میگاواٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہے۔ کوئلے سے بجلی کی پیداروار اگر سستی پڑتی ہو تو اس ذرائع سے بھی بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کچھ ممالک میں کچرے سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے، جس سے آلودگی اور گندگی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ امریکہ میں بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی تیاری کا پلانٹ شہر کے کچرے سے اسی فیصد بجلی پیدا کرتا ہے اور کچرا  اکٹھا کرنے کے تمام اخراجات بھی کمپنی خود برداشت کرتی ہے۔   فیول، گیس سے بجلی پیدا کرنا ہمارے لئے معاشی طور پہ بہت نقصان دہ ہے، اس سلسلے کو ختم کیا جائے اور ان پیداواری یونٹس کو فوری کسی متبادل سستے ذرائع پہ منتقل کیا جائے یا بند کردیا جائے۔

واپڈا یا دیگر اداروں  کے ملازمین کیلئے بجلی کے کچھ یونٹ کا کوٹہ ہوتا ہے۔ ان کا کوٹہ کم یا ختم  کیاجائے،کیونکہ وہ اپنے کام کی تنخواہ وصول کررہے ہیں۔ ویسے بھی ان کا بوجھ عام صارفین پہ ہی منتقل ہوجاتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!