پاکستان اور میدان صنعت

  پاکستان صنعتی پیداوار اور صنعتوں کے لحاظ سے  چھیاسٹھ واں بڑا ملک ہے اور سالانہ ملکی پیداوار میں صرف دس فیصد حصہ صنعتی پیداوار کا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان صنعتی اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔جبکہ معدنیات سے مالا مال ہونے کی وجہ سے وطن عزیز کو دنیا کے صف اول کے صنعتی ممالک میں شمار ہونا چاہئے۔ جس کی بڑی وجہ تحقیق پہ بہت کم سرمایہ کاری ہے۔ جبکہ مسلمانوں نے دنیا کو تحقیق کا درس دیا اور تحقیق کو ہر شعبے اور ہر سطح پہ فروغ دیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکٹریکل، الیکٹرونکس، ہوابازی، خلابازی، سافٹ وئیر، الغرض تمام جدید شعبوں میں تحقیقات کے شعبوں کو جامعات کی سطح پہ مزید فروغ دیا جائے۔

پاکستان میں صنعت کے فروغ کے بہت مواقع موجود ہیں، کیونکہ پاکستان زرعی ملک ہی نہیں بلکہ معدنی ملک بھی ہے۔ صنعتوں کے ذریعے، معدنیات جو کہ خام مال کی صورت میں ہوتی ہیں، ان کو پراسیس کرکے اور مطلوبہ شکل میں تیار کرکے، برآمد کرکے، دوسرےممالک سے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتاہے۔ تکنیکی تعلیمی اداروں کے ذریعے مختلف صنعتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ بجلی اور سڑکوں / ریلوے کا نظام بہتر کرکے صنعتوں سے مزید فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔صنعتوں سے بھی زکوۃ و عشر  کی مد میں بہت سی آمدن حکومت کو ہوسکتی ہے۔ ملک میں خام مال کواستعمال میں لانے والی صنعتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ گھریلو صنعت کاری کو بھی فروغ دیا جائے۔ پاکستان میں کراچی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، ملتان، پشاور جیسے بڑے شہر تجارتی ہی نہیں بلکہ صنعتی لحاظ سے بھی اہم گردانے جاتے ہیں۔

درآمدات کے ساتھ ٹیکنالوجی کے حصول کو بھی مشروط کیا جائے۔

آجر و اجیر کے درمیان اسلامی تعلقات کی بنیاد پہ پالیسی مرتب کی جائے۔ آجر و اجیر کے درمیان منصفانہ اور بہتر تعلقات کے لئے اسلامی اصولوں پہ مبنی قومی پالیسی بنائی جائے۔ملکی صنعت کو تحفظ دینے کے لئے ملک میں تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد پہ پابندی لگائی جائے یا کسٹم کی شرح زیادہ وصول کی جائے۔ خام مال کی برآمد کی  بھی حوصلہ شکنی کی جائے اور ہر طرح کا مال یہاں تیار کرنے کی کوشش کی جائے۔  صنعتیں لگائی جائیں۔ تیار مال کی برآمدات کے لئے پہلے طلب اور منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو مزید متحرک اور موثر بنایا جائے۔صرف ان  اشیاء کی فروخت اور برآمدات کی اجازت دی جائے جو کہ بین الاقوامی معیار پہ پورا اترتی ہوں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!