زبانیں اور تعلیمی نظام

دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان چائنیز ہے اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی زبان عربی ہے۔ دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سپینش ہے۔ تیسرے نمبر پہ بولی جانے والی زبان  انگریزی زبان ہے اور چوتھے نمبر پہ سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے۔ جسے "خطہ ہند ” میں پیدا ہونے کی وجہ سے ہندی بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ دراصل اردو ہی ہے اور دنیا پہ واحد ملک پاکستان ہے جس کی قومی زبان ہے۔ پوری دنیا میں کسی لحاظ سے بھی انگریزی کو   بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ ہم انگریزی کو ترک کرکے دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔ لیکن نو آبادیاتی نظام کی باقیات میں نظام حکومت کے ساتھ ساتھ  ایک انگریزی بھی ہمیں ورثہ میں دے دی گئی۔  پنجابی والدین ، پنجابی زبان سے سوتیلوں والا سلوک کرتے ہیں۔ جیسے کہ پنجابی زبان ایک گالی ہو۔ قبائلی علاقوں کی ماں اپنے بچوں کو پشتو زبان سکھاتی ہے۔ بلوچی والدین بلوچی زبان سکھاتے ہیں۔ سندھی والدین سندھی زبان سکھاتے ہیں۔ لیکن پنجابی والدین اپنے بچوں کو گھر میں پنجابی نہیں سکھاتے۔ اب وہ گھر میں اردو سیکھ کر جاتے ہیں۔ سکول میں انگریزی، گلی میں پنجابی اور مدرسے میں عربی پڑھنا سیکھتے ہیں تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرسکیں۔ جبکہ انگریزی کی جگہ عربی کو سیکھنا لازمی ہونا چاہئے تاکہ ہم احکامات الہی کو سمجھ سکیں کیونکہ قرآن مجید احکامات الہی کی کتاب ہے اور اسی پہ عمل کرکے ہم پوری دنیا کے لئے فلاح کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہم جب تک اپنی قومی زبان میں تعلیم کو عام نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کرسکیں گے۔ ہم گھروں اور گلیوں میں اردو / پنجابی، اردو / پشتو، اردو / سندھی یا اردو / بلوچی زبان بولتے ہیں لیکن سکول میں داخل ہوتے ہی انگریزی زبان سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ بچوں کو اردو میں اصلاحات کا ہی نہیں پتہ، حتی کہ اردو میں بچوں کو گنتی بھی نہیں آتی۔ جتنی توانائی معاشرے میں ہم بچوں کو انگریزی سکھانے میں لگا رہے ہیں اور انگریزی سیکھنے میں بچہ جتنا ذہنی دباﺅ جھیل رہا ہے۔ اس کی بجائے اگر ہم پاکستان کے ماحول کے مطابق قومی زبان میں تعلیم دیں گے تو کم وقت میں بچہ زیادہ علم سیکھ سکے گا۔ ویسے بھی حصول تعلیم میں نظریات اورتصور کا واضح ہونا ضروری ہے، جو کہ مقامی زبان میں ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان  کی ساری جامعات اور کالجوں میں آج بھی اعلی تعلیم انگریزی ہی میں ممکن ہے۔ اس طرح سے اردو دان طبقہ کو مزید جاہل بنا کر رکھ دیا گیا۔ جس میں انتظامیہ جسے بیوروکریسی کہا جاتا ہے، ذمہ دار ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اردو میں نہ تو اعلی علمی معیاری کتب دستیاب ہیں اور نہ ہی کوئی ہمت کرے تو ایسا کاروبار ہوسکتا ہے۔ اس طرح ہم نے اپنی آبادی کے بیشتر حصہ کو علم کی روشنی سے محروم کردیا ہے اور ان کے اندر علم کی وہ پیاس ہی پیدا نہیں ہونے دی جو ہر ترقی یافتہ ملک کے ہر باشندے میں پائی جاتی ہے۔  تعلیمی نظام کے قومی زبان میں ہونے کے ملک گیر جو اثرات ہوتے ہیں اس سے ہر شخص ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ بٹانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے اختتام تک دنیا پرمغربی حکومت کا سکہ جما ہوا تھا اور ان کی ایسی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ علم و فن ، ثقافت و لباس ، ہر چیز میں ان کی نقالی کو قابل فخر سمجھا جاتا تھا اور ہمارے ملک میں اسی طرز کی غلامانہ ذہنیت انگریزی زبان کی نقالی کی صورت میں آج بھی موجود ہے کہ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کیے ہوئے لوگ اپنے آپ کو معاشرہ میں "بڑی چیز” سمجھتے ہیں اور انگریزی نہ جاننے والے بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ میں ایک ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ایسی قوم نے ترقی کی ہو جس کا ذریعہ تعلیم کوئی غیر ملکی زبان رہی ہو۔ ملک کی آبادی کا کثیر حصہ جہالت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایک ایک شہری پہ توجہ دی جائے۔ تعلیمی نظام کو بہترین خطوط پہ استوار کرے تو  ہر شہری ریاست کے لئے مفید شہری ثابت ہوگا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!