جرمنی کا تعلیم نظام

جرمنی میں بچوں کی تعلیم کا آغاز چار سال کی عمر میں پرائمری سکول سے ہوتا ہے۔ یہاں پر ہر ماہ بچوں کے ٹیسٹ ہوتے ہیں بچوں کو ہر مضمون کا روزانہ گھر کا کام دیا جاتا ہے مگر کسی بھی بچے کا روزانہ گھر کا کام چیک نہیں کیا جاتا بلکہ ہر مہینے جب ان کا امتحان ہوتا ہے تو اس وقت  روزانہ کا گھر کا کام دیکھا جاتا ہے اور نمبر دیئے جاتے ہیں۔ ہر مضمون کے 100 نمبر میں سے 40 امتحان کے، 30 گھر ک کام کے اور30 نمبر بچے کی جماعت میں پڑھائی میں توجہ اور سوالات کے جواب دینے کے حساب سے دیئے جاتے ہیں۔ چوتھی جماعت کے بعد بچے کو سند دی جاتی ہے کہ یہ طالب علم کس سکول میں جائے گا۔ یہاں چار قسم کے سکول ہیں سب سے لائق بچوں کو جمنیزیم اور دوسرے نمبر پر رئیل، تیسرے نمبر پر ہیوٹ اور آخری نمبر پر ریجنل سکول میں داخل کروانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ معذور بچوں کیلئے الگ سکول ہیں۔ سکول بچوں کی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے بچے کو کس سکول میں داخل کروایا جائے، کا مشورہ دیتا ہے۔ مگر والدین آزاد ہوتے ہیں، وہ اپنی مرضی سے بچوں کو اپنی پسند کے سکول میں داخل کروا سکتے ہیں۔ اگر بچہ اس سکول میں چل جائے تو ٹھیک ورنہ دوسرے سکول میں بھیج دیا جاتا ہے۔ بچوں کو سکول اوقات کے بعد مختلف کورسز بھی کروائے جاتے ہیں جن میں کمپیوٹر کورسز اور ڈرائیونگ کے لائسنس کا کورس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سکول میں مختلف کھیلوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ ہیوٹ سکول میں نو سال تک بجے کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بچے پروفیشنل اور ٹیکنیکل سکول میں چلے جاتے ہیں اگر کوئی بچہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے تو ایک امتحان کے بعد رئیل اور جمنیزیم سکول میں بھی داخلہ لے سکتا ہے۔ رئیل سکول 10سال اور جمنیزیم سکول میں 13 سال تک تعلیم دی جاتی ہے اس کے بعد جو بچے یونیورسٹی میں جانا چاہتے ہیں یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں یہاں ہر کسی کو کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ڈپلومہ کرنا پڑتا ہے اس کے بعد ہی کام کی اجازت ملتی ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہاں ہیئر ڈریسر ، درزی، کارپینٹر اور مستری کو بھی ڈپلومہ کرنا پڑتا ہے۔ جو بچے ڈاکٹر یا وکیل بننا چاہتے ہیں ان کا معیار 100 فیصد ہونا چاہیے۔ ہر کسی کی بنیادی تنخواہ مقرر ہے اس کے بعد پیشے اور قابلیت سے تنخواہوں کا تعین ہوتا ہے مگر یہاں کم از کم تنخواہ بھی اتنی ضرور ہوتی ہے کہ ایک فیملی کی ضروریات آسانی سے پوری ہوجاتی ہیں۔ یہاں پر غیرسرکاری سکول بہت کم ہیں، غیرسرکاری سکولوں کے بچے بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ تعلیم مفت ہے مگر یونیورسٹی میں فیس لی جاتی ہے۔ جو بچے یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں، ان کیلئے محکمہ تعلیم قرض کا بندوبست کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرسکیں اور جب وہ کام پر لگ جاتا ہے تو قرضہ اقساط میں وصول کیا جاتا ہے۔ یہاں جو طالبعلم ڈپلومہ کرتے ہیں ان کو ہفتے میں صرف دو دن سکول جانا ہوتا ہے۔ باقی تین دن وہ اپنے شعبے میں پریکٹیکل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے بچوں کو پارٹ ٹائم جاب بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے بچے حکومت سے قرضےیا فارغ أوقات میں نوکری سے اپنے اخراجات خود پورے کرتے ہیں۔ یہاں یونیورسٹی کے طلبا کو 22 گھنٹے ایک ہفتہ میں کام دیا جاسکتا ہے۔ جو ان کے اپنے مضامین سے متعلق ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ ایم بی اے کررہا ہے تو اس کو کسی کاروباری فرم میں جاب فراہم کی جاتی ہے اور اگر کوئی وکیل بن رہا ہے تو طالبعلم کو کسی قانونی فرم میں پارٹ ٹائم جاب فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اس شعبہ میں تجربہ حاصل کرسکے۔ سکول کی نسبت یونیورسٹی کے طلبا کے تعلیمی معیار پر خصوصی توجہ دی جاتی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!