جاپان کا تعلیمی نظام

دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں جاپان کا تعلیمی نظام صف اول کے تعلیمی نظاموں پہ آتا ہے۔ جاپان میں پہلے چار تعلیمی سالوں میں سکولوں میں امتحان لینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جاپانی تعلیمی نظام کے مطابق کسی بھی جاپانی بچے کے سکول میں پہلے چار سالوں میں اس کی کردار سازی پر توجہ دی جاتی ہے اور انہیں والدین، اساتذہ، ہمسایوں اور ہم جماعتوں سے معاملات اور اخلاقیات کے اطوار سکھائے جاتے ہیں۔ بچوں کو بڑوں کی عزت اور دوسروں سے شفقت اور دیگر اخلاقی قدریں یعنی معاملات اور اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حروف تہجی اور الفاظ بنانے اور ان کو پڑھنے کا ہنر سکھایا جاتا ہے۔ جاپان میں نئے تعلیمی سال کا آغاز چیری کے شگوفوں کے کھلنے کے موسم میں ہوتا ہے اورگرمیوں کے موسم میں طلبہ کو چھ ہفتوں کی چھٹیاں دی جاتی ہیں ۔جاپان کے سکولوں میں بچے خود سکول کی صفائی کرتے ہیں۔ طالب علم اپنے کمرہ جماعت کے علاوہ بیت الخلاء بھی صاف کرتے ہیں۔ سکول انتظامیہ صفائی کا مکمل کام بچوں میں تقسیم کرتی ہے اور اس کی نگرانی کرتی ہے۔ جاپانیوں کے مطابق اپنے سکول کی صفائی کرنے سے بچوں کو صفائی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے نیز وہ اپنے اور دوسروں کے کام کی عزت کرنا بھی سیکھتے ہیں۔

کسی بھی جاپانی کے دماغ میں یہ بات نہیں ہے کہ اس کو تعلیم حاصل کرنا ہے تو انگریزی یا کوئی غیر ملکی زبان سیکھنا ضروری ہے۔ جتنے بھی جاپانی شہری کوئی غیرملکی زبان سیکھتے ہیں، وہ اپنی کسی تجارتی ضرورت کے تحت یا محض شوقیہ سیکھتے ہیں۔ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں جاپانیوں میں کوئی ایسا احساس کمتری نہیں ہے۔ جاپان کی قومی زبان سے ہٹ کر جاپانی کبھی کسی دوسری زبان میں ایک دوسرے سے ہم کلام نہیں ہوں گے ۔ جاپانی زبان میں ساری سائنسی اصطلاحات کے ترجمے موجود ہیں اور انہیں اپنی زبان میں کسی سائنسی، تکنیکی یا فنی موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے کبھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ کسی بیرونی زبان میں علم حاصل کرنے کی سوچیں۔ ان کی اپنی زبان میں دنیا کی تازہ ترین ساری دریافت اور حالات و واقعات کی تفصیلات مل جاتی ہیں۔ ہر موضوع پر اونچی سطح تک ان کی اپنی  زبان میں ان کے اپنے پروفیسروں کی لکھی ہوئی بے شمار کتابیں موجود ہیں اور دنیا کی ہر زبان کی تمام اہم کتابوں کے ترجمے بھی، ہر موضوع پر ، ان کی زبان میں مل جائیں گے۔

جاپان کے شہر وں میں بہت سی لائبریریاں بھی ہیں اور شناختی کارڈ دکھا کر اپنے گھر کے قریب کی کسی لائبریری کا مفت رکن بن کر رکنیت کارڈ حاصل کیا جاسکتا ہے اوراس شہر کی ساری لائبریریوں سے ایک وقت میں 7 کتابیں پندرہ دن کیلئے لی جاسکتی ہیں۔ یہ لائبریریاں دیر تک کھلی رہتی ہیں تو یہاں بیٹھ کر بھی خوب مطالعہ کرسکتا ہوں۔ ان لائبریریوں میں یہ اصول ہے کہ انہوں نے کتابیں شائع کرنے والی ہر کمپنی کو یہ آرڈر دے رکھا ہے کہ ہر نئی کتاب کے پانچ دس نسخے انہیں فروخت کیے جائیں ، اس طرح ہر شہر کی مقامی کونسل کی لائبریریوں کے علاوہ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریاں بھی ہوتی ہیں جو اسی قسم کی ہر نئی کتاب کے چند نسخے ہمیشہ منگوا کر ضرور رکھتی ہیں۔ اس طرح پورے جاپان میں ہزاروں لائبریریاں ہیں جو بھی نئی کتاب شائع ہوتی ہے وہ ہزاروں دوکانوں پر فروخت ہونے کے علاوہ ہزاروں لائبریریوں کو بھی فروخت کی جاتی ہے۔ گویا ہر کتاب شائع کرنے والی کمپنی کی لاگت اور نفع پہلے ہفتہ ہی نکل آتا ہے ۔ اس لیے جاپان کے علاوہ یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اخبارات و رسائل میں اشتہارات چھپتے ہیں کہ ہمیں مختلف موضوعات پر چھاپنے کیلئے کتابیں لکھ کر دیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں کتابوں کے چھپنے چھپانے کا یہ سلسلہ جاپان جیسے ملک میں یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اتنے بڑے پیمانے پر اسی لیے چل رہا ہے کہ ان ممالک میں تعلیم ان کی اپنی قومی زبان ہے اور ہر شخص پڑھا لکھا ہے جو جدید اور تازہ ترین معلومات اور دریافتوں کو جاننے کیلئے فطری طور پر ایک علمی پیاس رکھتا ہے۔ اس طرح کی پیاس کا پیدا ہونا اور اس کا بجھانا ، اسی وقت ممکن ہے جبکہ ساری تعلیم کسی ملک کی قومی زبان میں ہو۔ یہ قومی زبان میں تعلیم دینے کا نتیجہ ہے کہ آج جاپان کی چھوٹی بستی میں بھی کتابوں اور رسائل کی بڑی بڑی دکانیں موجود ہیں۔ ٹوکیو میں نوکنیا نام کی ایک بہت بڑی کتابوں کی دکان ہے جو کہ ایک بڑی آٹھ منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ اس کی ہر ایک منزل پر جاپانی زبان میں کتابیں ہی کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ سال کے بارہ مہینے روزانہ صبح دس بجے سے رات آٹھ بجے تک کھلی رہتی ہے۔ اور یہاں شائقین کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور اس اژدھام میں ہر شخص کو اپنی مرضی کی کتاب اور رسالہ کی تلاش ہوتی ہے۔ کبھی چھٹی نہیں ہوتی بلکہ ہفتہ ، اتوار اور دوسری چھٹیوں کے دنوں میں یہاں کتابوں کے خریداروں کا ہجوم اور بڑھ جاتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں امریکہ نے نہتے شہریوں پر ایٹم بم پھینک کرلاکھوں انسانوں کو  موت کی نیند سلادیا۔ جاپانی حکمرانوں کے پاس ہتھیار پھینکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ امریکہ کے سامنے جاپانی بادشاہ نے ایک ہی شرط رکھی کہ تعلیمی نظام آپ کے حوالے نہیں کریں گے۔ جوکہ امریکہ نے زیادہ سنجیدہ نہ لیتے ہوئے قبول کرلیا۔ جبکہ شکست خوردہ قوموں کی شرائط امریکہ جیسے ممالک بالکل نہیں مانتے۔ لیکن فتح کے نشے میں یہ شرط مان لی گئی۔ اورجاپانی حکمرانوں نے مقصد بنالیا کہ "ہتھیار پھینک دو، قلم اور اوزار اٹھا لو”۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے پوری دنیا کو ٹیکنالوجی کے ذریعے فتح کرلیا۔انھوں نے تعلیمی پالیسی اپنی زبان میں خود بنائی اور تعلیم و تحقیق کو فروغ دیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!