تعلیمی نصاب پہ تجاویز

خلافت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالحمید نے فرمایا تھا۔

"میں ہر مسجد کے قریب ایک درسگاہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں پڑھی لکھی رعایا سے نہیں ڈرتا۔
دو چیزیں اس زندگی میں اہم ہیں۔ مذہب اور سائنس”

اسلامی ریاستوں کی درسگاہوں میں نصاب اس طرح سے ہوتا تھا کہ دینی و سائنسی علوم دونوں پڑھائے جاتے تھے۔  ان تعلیمی درسگاہوں میں فرض عین کی تعلیم ہر مسلمان کو دی جاتی تھی جبکہ ہر طالبعلم کے رحجان، خواہش کے مطابق وہ فلسفہ، ریاضی، کیمیا، طبیعات، ٹیکنالوجی، اعلی دینی تعلیم تک حاصل کرسکتا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ  اگر کوئی طالبعلم طب کے علوم میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ طب میں آگے تعلیم جاری رکھ سکے۔ ایسے ہی اگر کوئی طالبعلم دینی علوم فقہ، تفسیر، حدیث میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہے تو وہ ان میں سے کسی بھی شعبہ میں تعلیم حاصل کرسکے۔ یہ نہ ہوکہ دینی تعلیم والا دنیاوی علوم میں کوئی مہارت نہ حاصل کرسکتا ہو۔ تعلیم کو عام کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ ہر درسگاہ میں دینی اور جدید علوم کی تربیت دینے کا اہتمام ہونا چاہئے۔

"دینی و دنیاوی تعلیم اعلی سطح پہ الگ الگ ہوسکتی ہے لیکن ابتدائی سطح پہ دینی و دنیاوی تعلیم کو الگ الگ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
عالم بننا ہر مسلمان پہ فرض نہیں، فرض کفایہ ہےلیکن اسلام کی بنیادی معلومات حاصل کرنا ہر مسلمان پہ فرض عین ہے”

 دینی علوم خالق کائنات سے آگاہ کرتے ہیں اور جدید علوم خالق کائنات کی حقانیت طالب علم پہ آشکار کرتی ہے۔ دینی تعلیم خالق کائنات کی بندگی/عبادات کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ دینی تعلیم ہی حقوق العباد اور معاملات کی ادائیگی کا طریقہ کار واضح کرتی ہے۔معاشرے میں رہنے کا طریقہ سکھلاتی ہے۔ جبکہ جدید علوم سے ہی فلاح انسانیت ممکن ہے۔ نئی ایجادات کا مقصد انسانی زندگی کو آسان بنانا ہے۔

حصول علم میں زبان کی بہت اہمیت ہے۔ اپنی قومی زبان کو بالائے طاق رکھ کر بیرونی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو جدید علوم اور علمی ترقیوں سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ غیر زبان میں تعلیم دینے سے پورا ملک اس میں شریک نہیں ہوسکتا اور تعلیم و تعلم کی سرگرمیاں ایک مخصوص طبقہ تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔ جیسا کہ خطہ ہند میں علم پر انگریزوں کی حکومت کے اثرات اب تک ہیں۔ آج بھی انگریزی زبان کی وجہ سے اعلی صلاحیتوں کے مالک نوجوان نوکریوں سے محروم ہیں یا صرف انگریزی زبان کے بل بوتے پہ نوکریاں ملتی ہیں۔

قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ ،مقامی زبانوں کو بھی ضلع کونسل کے ذریعے نصاب میں شامل کیا جائے۔ انگریزی کی لازمی  شرط کو ہر سطح پہ ختم کیا جائے اور انگریزی کی تعلیم کی جگہ عربی کی لازمی تعلیم قرار دے دی جائے۔ عربی کی  لازمی تعلیم کا  بنیادی  سطح سےہی عام فہم تدریس کا بندوبست کیا جائے تاکہ قرآن فہمی کا ذوق پیدا ہواور دین کو سمجھنا آسان ہو اور امت مسلمہ کے باہمی رابطے کا سبب بھی بنے اور امت مسلمہ کا تاریخی ورثہ جو کہ عربی میں موجود ہے اس سے استفادہ کیا جاسکے۔ عربی زبان میں بھی تحقیق و علم کا ایک سمندر قید ہے۔ انگریزی زبان کے بھی ماہرین ہمارے پاس موجود ہیں۔ تمام زیادہ بولی، لکھی، پڑھی جانے والی زبانوں کے ماہرین کو،  دارالترجمہ میں تعینات کیا جائے اور کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔  دوسری زبانوں میں موجود علوم سے فائدہ اٹھایا جائے۔

دینی تعلیم کی ذمہ داری ہم نے وفاق المدارس کے ذمہ کی ہوئی ہے۔ درس نظامی، کوئی شک نہیں کہ ماشاء اللہ بہت اچھا تعلیمی نظام ہے لیکن وقت کے ساتھ مزید علوم کا اضافہ ضروری تھا۔ جبکہ اس میں اب شاید کچھ  اضافہ کیا گیا۔ لیکن دینی کتب کی کمی بھی کی گئی اور اس کو آسان کر لیا گیا۔ جبکہ چاہئے یہ تھا کہ اس میں جدید علوم اور دنیاوی علوم  کا اضافہ کرکے اس کو دنیوی تعلیم کے سکولوں سے بھی زیادہ بہتر کر لیا جاتا اور مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء دینی اور دنیاوی تعلیم پہ بیک وقت عبور رکھتے۔ اس طرح سے دینی مدارس سے نکلنے والے طلباء صرف مدارس یا مساجد تک محدود نہ رہ جاتے۔ بلکہ وہ جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے زیادہ مفید شہری ثابت ہوتے۔ مختلف محکموں میں بھرتی ہوسکتے اور ایک انقلاب آجاتا۔ کوئی مدارس سے نکل کر صحافت کے میدان میں آتا، کوئی قاضی بنتا۔ کوئی انتظامیہ میں آتا۔ کوئی قانون دان بنتا۔ کوئی فوجی افسر بنتا۔ اگر یہ مدارس دنیاوی علوم کو بھی دینی علوم کے ساتھ چلاتے تو یہ ممکن ہوسکتا۔ پہلے بھی ایسا ہی نظام تعلیم کام کررہا تھا۔ آج سالانہ لاکھوں طلباء ہر سال مدارس سے فارغ ہوتے ہیں لیکن وہ سوائے دین کی خدمت کرنے کے معاشرے میں کوئی دوسری ذمہ داری نہیں لے پاتے۔ یہ نہیں کہ وہ دینی تعلیم کا اہتمام نہیں کرپارہے یا دینی تعلیم ضروری نہیں بلکہ پاکستان کے مدارس دنیا کے بہترین دینی تعلیم کی درسگاہیں ہیں لیکن دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عیسائی اور ہندو چیف جسٹس تو بنے لیکن آج تک کوئی عالم چیف جسٹس نہ بن سکا۔ اس میں مدارس کا تعلیمی بورڈ  اور حکومتی انتظامیہ بالخصوص محکمہ تعلیم برابر کے غفلت کے ذمہ دار ہیں۔ جس کی وجہ سے مدارس سے فارغ التحصیل ماہرین کی اہمیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

آج کل موجودہ صورتحال کا علم  نہیں لیکن پاکستان میں کافی عرصہ یہ مسئلہ تک حل نہ ہوسکا کہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی وفاق المدارس سے جاری ہونی والی سند کی کون سی وزارت تصدیق کرے گی،  وزارت تعلیم یا وزارت مذہبی امور؟۔۔۔ جس ملک کا نظام و قانون اتنا فیصلہ نہ کرسکے اس نظام کی بساط ہ لپیٹنے میں ہی بھلائی ہے۔

مدرسہ میں پڑھانا ، مسجد میں امامت کروانا یا تصنیف و تالیف میں مشغول ہونا اچھی بات ہے لیکن ہمارے اکابرین نے انہی کاموں کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی کیا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھئے ۔ دور نبوت سے لے کر دور صحابہ تک ، تابعین سے آئمہ کرام اور مجتہدین تک سبھی لوگ کاروبار سے وابستہ رہے ۔ لیکن افسوس ہم ذریعہ معاش کیلئے کچھ سوچنا بھی توکل کے برعکس سمجھتے ہیں۔  مدرسے کے ایک محترم استاد  فرمایا کرتے تھے کہ محلے کی ایک مسجد پر نظر نہیں رکھنی۔ نہ ہی امام کے مرنے کا انتظار کرنا ہے بلکہ محلے کی پچاس دکانوں پر نظر رکھنی ہے۔ یعنی ان کی اس بات کا مقصد تھا کہ علماء اپنے آپ کو صرف مسجد و مدرسہ تک پابند کر کے نہ رکھیں، بلکہ دین کے اور میدان بھی ہیں۔وہاں جا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خدمات سرانجام دیں۔ ویسے بھی وقت کا تقاضا ہے کہ علماء کرام ہنر سیکھ کر  ہر شعبے میں انقلاب لاسکتے ہیں۔ شیخ سعدی شیرازی کا قول ہے اپنی اولاوں کو ہنر سیکھاؤ لوگ تمھارے پیچھے چلیں گے۔

قومی سطح پہ تعلیمی نصاب کی تیاری کیلئے ایک تعلیمی نصاب کا ادارہ قائم کیا جائے، جو جلد از جلد اسلام اور نظریہ پاکستان اور جدید علوم کو مدنظر رکھ کر نصاب مرتب کرے۔ دوسرے ممالک کے نصاب کو بھی دیکھا جائے کہ وہ کس ترتیب سے بچے کو جدید تعلیم دے رہے ہیں اوروہ نصاب پورے ملک میں بلاتخصیص نافذ العمل ہو۔

پاکستان کے تعلیمی نظام اور نصاب میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تمام ہائی سکولوں کو ہائر سیکنڈری کا درجہ دے دیا جائے۔کالجز کی جگہ پہ یونیورسٹی/ جامعات کے کیمپس بنائے جائیں یا نئی یونیورسٹیاں/ جامعات قائم کی جائیں۔ جہاں تکنیکی یا ضروری طبی تعلیم کا بھی اہتمام ہوسکے۔ تکنیکی / طبی تعلیم کی تربیت کسی نہ کسی انداز میں لازمی دی جائے۔ تاکہ ہر ایک کوئی نہ کوئی ہنر لیکر تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو اور وہ معاشرے میں مفید کردار ادا کرسکے اور اپنے روزگار کا بندوبست کرسکے۔  کاروبار یا تجارت کا طریقہ کار بھی سکھایا جائے تاکہ جو ملازمت نہ کرسکے ، وہ بھی کاروبار یا تجارت کے اصولوں سے واقفیت کی بناء پہ بجائے نقصان کرنے کے کاروبار کرسکے۔ جب اسے کاروبار کرنے کے اصولوں کا علم ہوگا تو کاروباری شراکت داری میں مسائل بھی کم بنیں گے اور ترقی کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔کاروبار کرنے کا طریقہ یا اصول  ہر کاروبار کرنے والے بندے کیلئے پڑھنا لازمی ہو۔تمام سکولوں اور مدرسوں کا ایک ہی  نصاب ، دینی اور دنیوی تعلیم سے آراستہ  مرتب کیا جائے۔ بڑے مدارس یا کالج جن کے پاس سہولتیں اور رقبہ یونیورسٹی کے برابر ہو، کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جائے۔ باقی قدرے چھوٹے مدارس  کودینی جامعات  کے کیمپس کا درجہ دیا جائے۔ چھوٹے مدارس کو سکول کا درجہ دیا جائے اوروہاں بھی وہی نصاب پڑھایا جائے جیسا نصاب عام سکول میں پڑھایا جارہا ہے جو کہ دینی و دنیاوی تعلیم سے بیک وقت آراستہ ہو۔  بڑے مدارس یعنی دینی یونیورسٹیوں میں  دینی تعلیم کے ماہرین تیار ہوں۔ ماسٹر سے لے کر پی ایچ ڈی تک ڈگری لے سکیں۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں کچھ تکنیکی یونیورسٹیاں، زرعی یونیورسٹیاں، آئی ٹی  یونیورسٹیاں، میڈیکل یونیورسٹیاں، مینجمنٹ کی یونیورسٹیاں اور حسابیات کی یونیورسٹیاں بھی موجود ہیں۔ ایسے ہی دینی علوم کی یونیورسٹیوں کی تخصیص بھی کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

دینی تعلیم اس لئے ضروری ہے کہ ہر طالبعلم معاملات اور اخلاقیات یعنی معاشرے میں رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ معاملات اور اخلاقی اقدار  کا علم ہوسکےاور دنیاوی تعلیم اس لئے ضروری ہے کہ جدید علوم میں مہارت حاصل کی جاسکے۔ موجودہ دور میں ہمارے دینی تعلیمی نصاب میں جدید علوم کی تدریس کا بندوبست نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے آج مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کو مدرس یا مسجد کے خطیب یا منتظم مدرس کے علاوہ کوئی وسیلہء روزگارنہیں ملتا۔ لیکن اب اس میں بھی  بہتری آگئی ہے اور مدارس کے نصاب کو جدید علوم سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ لیکن دینی و دنیاوی علوم کو یکجا کرکے ایک ہی تعلیمی نصاب مرتب کیا جائے۔ تاکہ جو طالب علم بھی تعلیم مکمل کرے، اسے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا علم ہو۔  اگر ہم تاریخ سے سبق لیں تو اسلامی درس گاہیں اسی طرز پہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور ان درس گاہوں سے ایسے ایسے افراد دنیا کو ملے جنھوں نے تحقیقات کرکے دنیا کو جدید علوم سے روشناس کروایا ۔ اسلامی تعلیمی اور تربیتی نظام کا عالم یہ تھا کہ سولہ سالہ اسامہ بن زید، اکابر صحابہ کے لشکر کی قیادت کرتےہیں۔ محمد بن قاسم تابعی ہیں اور صحابہ اکرام سے تعلیم یافتہ  ہیں اور سولہ سال کی عمر میں بطور سپہ سالار ایک لشکر کی قیادت کرتے ہیں اور ہندمیں مظلوم مسلمانوں کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ انھیں تعلیمات اسلامی کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی سیکھائے گئے اور جس کا جس شعبے میں رحجان ہوتا تھا، اس کو اسی شعبے میں تربیت دی جاتی تھی، جس سے کم عمری میں ہی صلاحیتیں اجاگر ہوجاتی تھیں اور وہ صرف معاشرے کیلئے ہی نہیں بلکہ انسانیت کیلئے مفید ثابت ہوئے۔ عمر کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم سائنسدان، سپہ سالار، ماہر علم فلکیات، کیمیا دان یا جغرافیہ دان وغیرہ بن جاتا تھا۔ بنیادی تعلیم بھی مقرر کی جائے جو کہ ہر ایک کیلئے حاصل کرنا لازمی ہو اوراس کا خرچ حکومت برداشت کرے۔

ایسا نصاب مرتب کیا جائے کہ مقرر کردہ بنیادی تعلیم سے آگے طالبعلم اپنی تعلیمی قابلیت کے ذریعے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکے۔ اگر وہ تکنیکی علوم حاصل کرنے کی فطری صلاحیت رکھتا ہو  تو وہ انجینرنگ کی تعلیم جاری رکھے۔ ایسے ہی انجینرنگ میں اس کا رحجان کس شعبے کی طرف ہے، اس شعبے کی تعلیم دی جائے۔ اگر طالبعلم کی فطری  استعداد طب کے شعبے میں ہے تو ان علوم میں مہارت حاصل کرسکے۔ہر طالبعلم اپنی علمی مہارت کے مطابق ہی اپنے روزگار کا بندوبست کر سکے۔ اگر ایک طالبعلم عسکری میدان میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے تو بنیادی تعلیم کے بعد وہ عسکری تربیت کی طرف چلا جائے۔ جیسے آج کل کیڈٹ کالج موجود ہیں۔ تعلیمی میدان کے انتخاب میں اساتذہ بھی طالبعلموں کےممدو معاون ہوں اور طالبعلموں کی رہنمائی کریں۔ ہرطالبعلم میں اس کے فطری رحجان اور استعداد کی نشاندہی کریں  اور اسی نشاندہی کی بنیاد پہ طالبعلم کو آگے تعلیم  دی جائے۔ جو بچے دینی رحجان رکھتے ہوں اور مزید دینی علوم پہ عبور حاصل کرنا چاہیں، انھیں مدارس میں داخلہ  دیا جائے۔ ایسا ہرگز  نہ ہوکہ ایک طالب علم طب یا انجینئرنگ کے میدان میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے لیکن وہ فوج یا پولیس یا سول سروس میں آنا چاہتا ہے اور وہ جبر کرکرکے اپنی تعلیمی قابلیت کو بڑھا کر فوج یا پولیس یا سول سروس میں چلا جائے۔ جبکہ اس کا ذہنی رحجان اس معاملے کا متقاضی نہیں ہے۔ ایسے ہی کچھ طالبعلم قانون دان بن جاتے ہیں جبکہ وہ قانون دان بن کر بھی روزگار کیلئے پریشان رہتے ہیں کیونکہ ان کا مزاج اور ذہنی رحجان کسی اور شعبے میں ہوتا ہے۔ پھر وہ جبر کرکے امتحان دے کر سول جج لگ جاتے ہیں اور پھر وکیل اور سائلین ان سے پریشان ہوجاتے ہیں۔  ایسے ہی طالبعلم جو دینی رجحان رکھتے ہوں وہ زندگی کے کسی بھی حصے میں مدارس یا دینی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکیں۔ مدارس بھی حکومتی سرپرستی میں ہی ہوں۔  مدارس انھیں فقہ، حدیث اور دیگر شعبوں میں تعلیم دیں اور انھیں انسانیت کی فلاح اور تربیت کا ذریعہ بنائیں۔ دینی مدارس میں بنیادی تعلیم کے حصول کے بعد ہی عالم یا مفتی یا محدث کی جماعتوں میں داخلہ دیا جائے  اور ان کو سپیشلائزیشن کروائی جائے۔ دینی علوم جیسے اسلامیات، فقہ، تفسیر، دورہ حدیث میں ماسٹر کی ڈگری صرف دینی جامعات ہی جاری کرسکیں۔

ناظرہ و حفظ کے شعبے ، مساجد میں قائم کئے جائیں۔ جہاں ایک ہی مقررہ وقت میں ناظرہ و حفظ کی کلاسز کا اہتمام ہو۔چند بچوں کی بجائےمسجد میں باقاعدہ ناظرہ و حفظ کا اہتمام کیا جائے۔ وقت مقررہ پر حاضری کانظام ہو۔ جو قاری حضرات اس کیلئے وقت دیں ان کو حکومت تنخواہ دے۔ضلعی  علماء کونسل ان قاری حضرات کی تعیناتی اور اس نظام کو موثر کرنے کی ذمہ دار ہو۔

مخلوط طریقے سے تعلیم و تعلم  کو ختم کیا جائے۔ جیسے آپ یونیورسٹیوں یا کالجز میں لڑکیوں  کی کلاسز الگ کردیں اگر ان کی تعداد کم ہے تو لڑکیوں کیلئے کلاس روم میں ہی الگ پردے کا انتظام ہو اور ان کیلئے فارغ اوقات میں بیٹھنے کیلئے الگ کمرہ یا جگہ  موجود ہو۔ جہاں وہ آرام سے بیٹھ سکیں اور تبادلہ خیال کرسکیں۔ مرد و زن کے اختلاط کی گنجائش کہیں بھی نہ ہو۔ تمام طلباء و طالبات  کو گھرسے لے جانے اور لانے کیلئے الگ سے ٹرانسپورٹ کا انتظام ہو۔ سات/آٹھ  سال کی عمر تک یا  تیسری جماعت تک چھوٹے بچوں کی مخلوط تعلیم میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کی نشستیں الگ الگ ہوں۔ اگر  ابتدائی تعلیم کے اداروں کو اس طرح سے تشکیل دیا جاتا ہے  تو اس میں کوئی شرعی ممانعت بھی نہیں اور تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔

موجودہ نظام امتحانات کی بجائے ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے طلباء کی استعداد کار کو صحیح جانچا جاسکےاور امتحانات میں کسی قسم کی بد عنوانی کی گنجائش نہ ہو۔طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کردارسازی ، جسمانی ، ذہنی  اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔تاکہ ایک مضبوط قوم تشکیل پاسکے۔تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا یکساں نصاب ہواور سرکاری اداروں میں تمام تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے۔

طب میں بے شمار علاج کے طریقہ کار آچکے ہیں۔ جیسے جڑی بوٹیوں سے علاج، ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک وغیرہ۔ ضرورت پڑنے پہ سرجری بھی کی جاتی ہے۔لیکن انسانی جسم کی ساخت تو وہی ہے۔ تمام طبی شعبوں کے طلباء کو ایک جیسی انسانی جسمانی ساخت پڑھائی جائے۔ اس کےلئے مختلف قسم کے طبی نصاب کو ختم کرکے ایک نصاب مرتب کیا جائے۔ جس میں باٹنی اور دیگر ابتدائی طبی تعلیم دی جائے لیکن اس کے بعد طلباء کے رحجان  یا برابر تقسیم کے تحت ادویات کے ذریعے طریقہ علاج پڑھایا جائے۔  وہ جڑی بوٹیوں سے علاج پڑھنا چاہے تو ٹھیک، ورنہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج پڑھ لے، ورنہ ایلو پیتھک کا طریقہ علاج پڑھے۔ ہر طبی طالبعلم کو ضروری سرجری اور ہنگامی حالات سے نبٹنا آتا ہو۔ ایمرجنسی کی صورت میں مرہم پٹی کرسکے۔ یہ نہیں کہ اس نے جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج کرنا سیکھا ہے تو اسے مرہم پٹی بھی نہیں کرنی آتی ہے یا وہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج جانتا ہے اور وہ ایک انجکشن بھی نہیں لگا سکتا۔ ابتدائی نگہداشت، علاج بالدوا اور مزید علاج کرنے کی مہارت اپنی جگہ ہے۔ ایمرجنسی میں مریضوں کو ہر طبی ماہر فوری طبی امداد دے سکے۔ ہر طالبعلم کو ڈگری ایک طب کی اعلی یونیورسٹی ہی دے رہی ہو۔ مزید مہارت کیلئے طب کی بڑی یونیورسٹیوں میں داخلہ ممکن ہوسکے۔ جیسے طب پہ ہمدرد یونیورسٹی موجود ہے۔ طبی ماہرین کی مدد کیلئے سٹاف کی ضرورت ہے۔ اب ایک طالبعلم کا طبعی رحجان تو طب کی جانب تھا لیکن وہ مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پارہا۔ اب اس نے جتنا مطالعہ کرلیا ہے، اس کے مطابق اسے سند جاری کردی جائے۔ جو طالبعلم ذہین ہوں یا اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہوں، انھیں آگے تعلیم دی جائے۔ اس طرح جو تعلیم مکمل نہ کرسکیں انھیں ڈاکٹر کے مددگار کی ذمہ داری دی جائے۔ اب نرسنگ کا کورس چار سال کا ہے اور ڈاکٹر بننے کیلئےپانچ سال یا اس سے کچھ زیادہ  درکار ہیں۔ نرسنگ سٹاف بھی ڈاکٹر کا اسسٹنٹ ہے۔ نرسنگ کا کورس کم و بیش چار سال، اتنا طویل کیوں ہے؟۔۔۔  اس کا سدباب کیا جائے۔ایسے ہی ادویات سازی کا شعبہ ہے۔ ایلو پیتھک ادویات کی تیاری، جڑی بوٹیوں سے ادویات سازی اور ہومیوپیتھک ادویات سازی۔ ان کی تعلیم کا بھی الگ سے بندوبست کیا جائے۔ جو دوا سازی نہ سیکھ سکے، وہ کم از کم دوا کو فروخت کرنے کا مجاز ہوسکے۔ جس میں ادویات کی تعلیم کی درجہ بندی کی جائے۔ لیکن جو ادویات سازی سیکھیں وہ ادویات بنانے کے کارخانے بنا سکیں یا کوئی ایک معیاری ادویہ بنا کر متعلقہ محکمے سے اجازت لے کر فروخت کرسکیں۔

سول انجینرنگ میں آپ کو سروئیر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، بلڈنگ کنسٹرکشن کی تعلیم دی جاتی ہے۔نقشہ سازی کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن یہ الگ الگ کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ اب ایک بندہ ٹھیکیدار ہے لیکن اس کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے۔ وہ تعمیرات کا کورس کرے تاکہ اسے علم ہو کہ عمارت کیسے تعمیر کرنی ہے۔ جو جتنی تعلیم حاصل کرے اسے اتنی سند ملنی یقینی ہونا چاہئے۔ اگر اس نے نقشہ سازی سیکھ لی تھی تو اسے نقشہ سازی کی سند جاری کردی جائے۔ اگر وہ تعمیرات کا ہنر بھی سیکھ چکا تھا تو اسے اس کی سند بھی جاری ہونی چاہئے۔  بعد ازاں ان اسناد کو جمع کرکےایک حتمی سند بھی جاری کی جاسکے۔ جیسے ایک طالبعلم نے عمارت کی نقشہ سازی اور تعمیرسازی کی تعلیم لے لی اور وہ باقی مضامین میں تعلیم نہیں حاصل کرنا چاہ رہا یا تعلیم جاری نہیں رکھ سکا تو کم از کم تعمیرات کی تعلیم مکمل ہونے پہ اسے تعمیرات کروانے کی اجازت دی جائے۔ اسی طرز پہ تمام شعبوں میں مضامین کی تعلیم کو ایسے ترتیب دیا جائے کہ تعلیم مکمل نہ کرسکنے والے طالبعلم بھی روزگار کا بندوبست کرسکیں اور تعلیم یافتہ ہوں۔

یونیورسٹیوں کے شعبہ جات کے سربراہان کے آپس میں مکالمے اور بحث مباحثے اور نئی ایجادات /تحقیقات کے تبادلے کا نظام مرتب کیا جائے۔ جس پہ متعلقہ کونسلز خصوصی توجہ دیں اور ان کی جدید تحقیقات سے استفادہ کا مستقل نظام بنایا جائے اور ان کی تحقیقات کو عملی جامہ پہنانے اور فروغ دینے میں بھی کردار ادا کریں اور انھیں تحقیق کیلئے نئے مواقع بھی فراہم کریں۔  جامعات کے طلباء کا آپس میں میل جول بڑھایا جائے۔ ان کو جدید علوم سے روشناس کروانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ کسی بھی چھوٹے منصوبے سے لیکر کسی بڑے منصوبے کیلئے ان کی کونسل کی سفارش پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ جس سے طبیعات، حیاتیات، کیمیا، کمپیوٹر سائنسز، برقیات اور ہر شعبے میں انقلابی ترقی دیکھنے کو ملے گی۔ جدید تعلیم کے حصول کیلئے دوسرے ممالک کے نصاب  سے بھی استفادہ کیا جائے۔

طالبعلم دنیا کے جس کونے میں جا کر پڑھنا چاہے ، ہر طالب علم کی تعلیم کے تمام تر اخراجات حکومت برداشت کرے۔  لیکن طالبعلم پابند ہو کہ وہ اپنے ملک میں واپس آئے گا۔ کیونکہ ملک نے اس پہ سرمایہ کاری کی ہے اور اسے مفید شہری بننے کا موقع دیا ہے۔ وہ بیرون ملک حکومت کی اجازت کے بغیررک  نہیں سکتا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنی کاروباری تجاویز حکومت کو پیش کرے۔ جس کو ماہرین دیکھیں۔ اس دوران اس کوکاروبار کو چلانے کی تربیت دی جائے اور اس کی تجاویز کو متعلقہ ماہرین طالب علم کے ساتھ بیٹھ کر حتمی شکل دیں۔ اب وہ  کاروبار کے حتمی نتیجے  پر پہنچ گیا ہے۔ اب ملکی یا بین الاقوامی سطح پہ ایک بہترین کاروبار کیلئے حکومت  شراکت داری  کا بندوبست کروائے۔ اس کے ساتھ بینک کی شراکت داری کروائے۔ حکومت صنعت یا منصوبہ لانچ کروائے۔ ماہر اساتذہ، کونسل کے وفود  گاہے بگاہے اس کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیں، جن پر رپورٹس بنیں۔ وزارت خارجہ میں برآمدی ماہرین اور حکومتی سفیر ان اشیاء کیلئے مختلف ملکوں میں کام کریں ۔ اس طرح معاشی طور پر دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔  ماسٹر یا پی ایچ ڈی کی اسناد کو بینک بطورضمانت قبول کرے اور بینک اسناد کی بنیاد پہ شراکت داری کریں ۔ اس سے اسناد کی اہمیت بڑھے گی، تعلیم اور تحقیق کا شوق پیدا ہوگا اور پڑھے لکھے کاروباری حضرات سےملک کا  زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس تمام طریقے سے بینک کو بھی منافع ہوگا اور بینک کے کھاتہ داروں کو بھی منافع میں سے جائز حصہ ملے گا۔

بنیادی تعلیم کے بعد ایک جوان نے عسکری تربیت لے لی ہے۔ اب وہ پولیس یا فوج میں بھرتی ہونے کے اہل نہیں لیکن اس کا حق ہے کہ اس کو عسکری تربیت کی بناء پہ ذاتی اور گھر کی حفاظت کیلئے اسلحہ رکھنے کی اجازت  دی جائے۔ غیر تربیت یافتہ افرادکو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔  ایک طالبعلم کا رحجان مکینکل میں ہے۔ اس کو گاڑیوں، موٹر سائیکل کی تکنیکی تعلیم دی جائے۔ اب جتنے علوم  وہ سیکھ لے،  اتنی سند جاری کردی جائے تاکہ وہ روزگار کا بندوبست کرسکے لیکن ایک طالبعلم مزید علم حاصل کررہا ہے یہاں تک کہ اسے کارسازی یا موٹرسائیکل بنانے میں دلچسپی ہے یا وہ کوئی پرزہ بنانا چاہتا ہے تو اسے وہ تعلیم دی جائے۔ ہر معاملے میں تعلیم و تربیت کو بتدریج یقینی بنایا جائے۔ہر طالبعلم جتنی تعلیم حاصل کرنا چاہے اسے حکومت تعلیم دے۔ تاکہ وہ مفید شہری بن سکے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!