اردو کا پہلا تعلیمی نصاب

تقسیم ہند سے پہلے ہی اردو میں تعلیمی نصاب کو مرتب کیا گیا۔ جو کہ اردو زبان کی مقبولیت اور اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے حیدر آباد دکن الگ ریاست تھی اور اس کی سرکاری و دفتری زبان اردو تھی۔ تاریخ، جغرافیہ، اردو ادب کے علاوہ طبیعات، کیمیا، ریاضی، نباتات، حیوانیات، جمادات، فلکیات، عمرانیات غرض سارے سائنسی اور غیر سائنسی علوم کو حیدرآباد دکن میں اردو زبان میں منتقل کیا گیا تھا۔ نظام حیدر آباد، میر عثمان علی خان  نے جو دنیا کے چند دولت مندوں میں شمار کیے جاتے تھے، کافی پیسہ لگا کر حیدر آباد میں ایک دارالترجمہ قائم کیا تھا اور تقسیم ہند سے قبل کے سارے مسلمان جید علماء اور پروفیسروں کو حیدر آباد میں پرکشش تنخواہوں پر دعوت دی تھی کہ وہ سارے علوم و فنون اور سائنس کی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کریں اور ان اصطلاحات کو بنیاد بنا کر اردو زبان میں اعلی تعلیم کے نصاب کی کتابیں لکھیں اور غیرملکی زبانوں سے ترجمے بھی کریں۔ مرحوم مولوی عبدالحق جنہیں "بابائے اردو” کہا جاتا ہے کو اس دارالترجمہ کا صدر بنایا تھا ۔ جامعہ عثمانیہ میں سائنس کے سارے شعبوں کی تعلیم ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی سطح تک سب اردو میں ہوا کرتی تھی۔ اس جامعہ کی شان بان اور سہولتیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ طالبعلموں کی نہیں نوابوں کی جامعہ ہے۔

تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی سی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لئے تعلیمی نصاب سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیمی نصاب پہ ہی قوم کے معماروں کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ تعلیمی پالیسی کے بغیر کوئی ملک کامیاب نہیں ہوسکتا۔ تکنیکی تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ وضاحت کی طلبگار نہیں ہے لیکن ہمارے ملک میں روایتی، تکنیکی اور دینی تعلیم کو حد تک یکجا  کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ان تمام شعبوں کو یکجا کرکے ایک نئی تعلیمی پالیسی کے بغیر ہم بحیثیت قوم کامیاب نہیں ہوسکتے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!