ہم اور بنیادی اصلاح

معاشرتی نظام، جس کے بے شمار شعبے ہیں کی اصلاح سے ہی ہم ایک بہترین ملک تشکیل پا سکتے ہیں۔ ہندو ازم، سکھ ازم کے اثرات ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو کہ فوتیدگی اور خوشی غمی کے مواقع پہ سامنے آتے ہیں۔ ان کو ختم کرنے کے لئے مساجد میں علماء کی تعیناتی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ فوتیدگی کی صورت میں تین دن سوگ کی شرعی اجازت ہے۔ علماء تین دن سے زیادہ سوگ کے رواج کو ختم کریں اور قل ، دسویں، چالیسویں کی رسموں کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں۔ غیر شرعی رسموں کی وجہ سے وارثوں کو بےجا خرچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی غیر شرعی کام پہ مقامی عالم دین  پولیس کو بلاسکیں اور اس غیر شرعی کام کو طاقت کے ذریعے روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسا کوئی غیر شرعی کام نہ ہوسکے۔ اس سے تبلیغ و ترغیب   ہی نہیں ہوگی بلکہ قانون نافذ ہوگا اور ہم اسلام پہ عمل کرکے ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔ تین دن تک سوگ منانے کی شرعی اجازت ہے۔ میت کی تدفین  سے لیکر تین دن  سوگ تک اس گھرانے کے کھانے پینے اور مہمانوں کے خیال  کا بندوبست اہل محلہ کریں۔ ایسے  بھائی چارے کی فضا کو فروغ ملے گا۔ تجویز ہے کہ اس کے لئے مقامی سطح پہ اس محلے کے نمائندہ کے ذریعے مستقلا فنڈ اکٹھا کرنے کا اہتمام کیا جائے جو کہ ایسے رفاہی کاموں کے لئے ہی ہو۔

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہونے کے ساتھ، کثیر مسلم آبادی کا علاقہ ہے۔ اسلام غیرمسلموں کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دیتا۔ کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مرتبہ ایک حاکم نے کچھ لوگوں کو دھمکا کر زبردستی مسلمان بنالیا۔ قاضی کے سامنے زبردستی مسلمان کرنے کے گواہ و ثبوت پیش کیے گئے۔ قاضی نے بھی فیصلہ دے دیا کہ انہیں اپنے مذہب پہ واپس جانے اور عمل کرنے کا اختیار ہے۔ معاملہ بڑھا تو اس وقت کے مفتی حضرات نے فتوی دیا کہ چونکہ ان پر زبردستی کی گئی ہے اس لئے انہیں اپنے مذہب پہ جانے کا حق حاصل ہے۔ یہ معاشرے میں توازن پیدا کرنے اور برداشت کا مادہ ابھارنے کا درس ہے۔ لیکن جو مسلمان ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے لئے اسلام پہ عمل کرنے کا آزادانہ ماحول مہیا کرے اور ان کو اسلام پہ عمل کروانے کے لئے تعلیم و ترغیب کا اہتمام کیا جائے اور نماز، زکوۃ اور دیگر احکامات اسلام پہ عمل کروایا جائے۔ البتہ توہین مذہب، توہین پروردگار عالم، توہین رسالت و تکمیل نبوت کے معاملے میں قصوروار پہ مقدمہ چلا کر اس کو فی الفور سزا دے کر عمل درآمد کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عمر فاروق کے پاس بصرہ سے ایک وفد آیا تو ان سے پوچھا کہ وہاں مسلمان، غیرمسلم شہریوں کو کوئی تکلیف تو نہیں دیتے؟۔۔۔ وفد کے لوگوں نے بتایا کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ مسلمان ہی غیرمسلموں کو ان کے حقوق دیتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!