نظریہ حقوق اور احتجاج

ہڑتال، احتجاج کے آغاز کا سہرا مغربی ممالک کے سر ہے۔ مغربی ممالک میں احتجاج کا طریقہ صنعتی انقلاب کے دوران شروع ہو ا صنعتی انقلاب کے احتجاج کو شروع شروع میں مغربی ممالک نے غیر قانونی قرار دیا۔ بعد ازاں احتجاج کو نہ صرف قانونی قرار دیا بلکہ اس کو جمہوریت کا نا قابل تنسیخ حصہ قرار دے دیا گیا۔ جمہوریت کے علمبرداروں نے اس کو "جمہوریت کا حسن” بھی کہہ ڈالا۔

مغربی جدیدیت نے جہاں بہت سے منفی نظریات کو متعارف کروایا وہاں ایک "نظریہ حقوق” بھی ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے حقوق کا احساس دلایا جائے۔ ہر ایک اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا سیکھے اور آواز بلند کرے۔ اس کیلئے مختلف طریقے متعارف کروائے گئے ہیں، جیسے پریس کلب کے سامنے احتجاج، دفاتر کے سامنے احتجاج، اپنی ذمہ داری کو احتجاج کی شکل میں ترک کرنا، دھرنا، جلسے جلوس وغیرہ۔ جو بھی احتجاج کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اس احتجاج کا نتیجہ ہمیشہ فساد کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔ یعنی فرائض کا احساس نہ دلایا جائے بلکہ حقوق کی فکر میں لگا دیا جائے۔ جبکہ اگر معاشرے کو اس طرح تشکیل دیا جائے کہ ہر ایک کو فرائض کی ادائیگی کی فکر ہو تو کسی کے حقوق بھی غصب نہ ہوں۔

اسلام فرائض کی ادائیگی کی ترغیب دیتا ہے۔ کوئی کسی کے حقوق غصب نہ کرے۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ آپ کے ذمہ والدین کے حقوق ہیں، بہن بھائیوں کے حقوق ہیں، رشتہ داروں کےحقوق ہیں، اساتذہ کے حقوق ہیں، ہمسایوں کے حقوق ہیں، آپ ملازمت کررہے ہیں، اس ذمہ داری کے فرض کو ادا کریں۔ اسلام  ان حقوق کی ادائیگی کی ترغیب دیتا ہے۔ جس کیلئے اسلام معاشرے میں موجود ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور فرائض کی ادائیگی کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کیلئے ادارے ہوتے ہیں اور حکومت ان حقوق کی ادائیگی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

اس نظام میں احتجاج ، مغربی جمہوریت کاحسن ہے ۔ آپ سڑک پر آئیں ، احتجاج کریں، اگر آپ کا مطالبہ سن لیا جائے تو ٹھیک ورنہ آپ کسی کھمبے پہ چڑھ جائیں یا آپ خود کشی کی کوشش کریں ، جس کا مقدمہ درج کرکے آپ کو قید کر لیا جائے گا۔ اگر آپ مرگئے تو وزیراعلی ر آئیں گے اور لواحقین سے افسوس کریں گے اور پھر آپ کو انصاف دلائیں گے۔ ورنہ احتجاج ریکارڈ کروانا آپ کا جمہوری حق ہے۔خودکشی کرکے حرام موت تو مرجائیں اور جمہوریت کے عذاب سے نکل کر اللہ کے عذاب میں چلے جائیں۔اگر آپ صرف احتجاج ہی پہ اکتفا کررہے ہیں تو آپ اس دوران فساد بھی ڈالیں گے۔ جیسے آپ سڑک بند کرکے بیٹھ جائیں گے۔ جس سے راہ گیر پریشان ہوں گے۔ آپ زبردستی دکانیں بند کروائیں گے ۔ تو بھی معاشی نقصان ہوگا۔ یا آپ احتجاجا اپنی دکان بند کرکے بیٹھ جائیں گے۔ جس سے آپ کا معاشی نقصان ہوگا۔ چھٹی کی وجہ سے آپ کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اگر آپ کا احتجاج ، بڑے پیمانے پہ جاتا ہے تو جانی ، مالی نقصان کا خدشہ بھی ہے ۔ المختصر میری تحقیق کے مطابق احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک فساد پھیلانے کا طریقہ ہے۔

حکومت کے خلاف احتجاج کرنا، اعلان بغاوت کرنا جمہوریت میں ہر شہری کا حق ہے۔ اگر انھیں کہہ ہی دیا جائے کہ اس سب سے انتشار پھیل رہا ہے اور اللہ تعالی نے زمین میں فساد پھیلانے سے منع کیا ہے تو  بے اعتنائی سے ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔  یعنی اللہ کی نہیں ماننی، جمہوریت کے مطابق ہی سیاست چلانی ہے۔ یہ لوگ حکومت میں آ کر کیسے قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا فرض ادا کریں گے اور حکومت چلائیں گے؟۔۔۔ بڑے احتجاج پر تشدد ہوتے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع پہ جا کر ختم ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں انتخابات ہویا احتجاج یا کوئی جلسہ، کئی بندے  اپنی جانوں سےہاتھ دھوتے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بھی کبھی حتمی نہیں بتائی جاتی۔ اگر زخمیوں کی صحیح تعداد بتا دی جائے تو حالات سنبھالنا مشکل ہوجائیں۔ ویسے بھی سیاستدان ذرائع ابلاغ پہ عموما یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس احتجاج کی وجہ سے بندے مریں گے۔ یعنی ان کا مقصد ہی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔  اور یہ ثابت کرتا ہے کہ حصول اقتدار کیلئے یا اپنی بات منوانے کیلئے جمہوریت میں انسانی جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

پاکستان میں احتجاجوں کے دوران بہت سے لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ لانگ مارچ اور احتجاج اور دھرنوں میں بھی بہت سی جانیں گئیں۔ جس ماں نے اس بیٹے کو جنم دیا اس سے پوچھا جائے کہ مغربی جمہوریت کی خاطر آپ کے بیٹے نے جان دی آپ کیا سمجھتی ہیں؟ ۔۔۔تو اس کا جواب کبھی بھی اطمینان بخش نہیں ہوگا۔ وہ اگر بہت مطمئن بھی ہوئی تو وہ یہ نہیں کہہ سکے گی کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا۔ کیونکہ مرنے والے کے ماں یا باپ یا بھائی یا بہن کو بھی پتہ ہے کہ یہ اقتدار کی لڑائی  تھی یا کم از کم اسلام  کے کسی حکم کے نفاذ کی کوشش ہرگز نہیں تھی۔

آج کل احتجاج میں کچھ اضافے ہوچکے ہیں۔ رات کو لڑکے اور لڑکیاں گانوں، سیاسی جماعتوں کے  گانوں پہ بیہودہ لباس پہن کر ناچتے ہیں۔ سر عام  حکمرانوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ ناچ ناچ کرحیا کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مغربی نائٹ کلبوں کا ساسماں  ہوتا ہے اور ایک طوفان بد تمیزی برپا ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب اس حد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ریاستی اداروں پہ  دھاوا بول دیاجاتا ہے  اور جب  پولیس روکنے یا منتشر کرنے کےلئے کاروائی کرتی ہےتو کہتے ہیں کہ حکومت نے ہم پہ حملہ کیا ہے، حکومت غلط کررہی ہے، ہم حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اس میں ملک کا ذرائع ابلاغ بھی پیچھے نہیں رہتا اور آزادی صحافت کے نام پہ  احتجاج اور ریاست پہ چڑھائی کرنے کے مناظر براہ راست دکھائے جارہے ہوتے ہیں۔ مقصد صرف حکومت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔

بیسویں صدی کے آخر میں ایک مذہبی جماعت کے دھرنے میں پانچ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور حکومت ختم ہوئی لیکن اسلامی احکامات کا نفاذ مقصود نہ تھا۔ لیکن پورا ملک مفلوج کردیا گیا۔پھر لانگ مارچ کا موسم آیا اور اعلی عدلیہ کے کچھ جسٹس بحال ہوسکے۔ انتخابات سے کچھ ماہ قبل ایک اور مذہبی جماعت کے  زرداری حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنے سے   اسلام آباد میں دھرنوں کا رواج پھر سے چل پڑا۔ پھر لندن پلان بنا اور اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کی بھرپور مدد سے دھرنے کا اسی مذیبی جماعت اور جمہوری جماعت نے آغاز کیا۔ جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ مخالفین کیلئے انتہائی نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ تشدد پہ اکسایا گیا۔ پولیس کو مارا گیا۔ جتھوں کی صورت میں سرکاری املاک پہ حملہ آور ہوئے اور سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ پوری دنیا میں ملک کا مذاق بن گیا۔ دوسرے ممالک کے سربراہان کے دورے ملتوی ہوگئے۔   اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں سے ٹرکوں میں جن لوگوں کا مال تجارت ، جوکہ پھل یا دیگر اجناس کی شکل میں تھارستوں میں ہی خراب ہوگیا۔ جبکہ قبائلی تاجروں کی سال بھر کی گزر بسر اسی رسد پہ ہوتی ہے، کیونکہ برف کی وجہ سے رستے بند ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی راولپنڈی / اسلام آباد جڑواں شہروں کو مفلوج کردیا  جاتا ہےاور نظام حکومت درہم برہم ہوجاتا ہے۔ پولیس بجائے امن و امان کو کنٹرول کرنے کے، اسلام آباد میں حالات کو معمول پہ لانے کی کوشش میں مصروف رہی۔ ذرائع رسد متاثر ہونے اور  طلب میں کمی واقع ہونے سے کارخانے بند ہوجاتے ہیں اور  بے شمار لوگ کارخانوں سے نکال دئیے جاتے ہیں۔ کنٹینرز پکڑے جاتے ہیں، جن میں سامان رسد ہوتا ہے۔ تاجروں کا اربوں کا نقصان ہوجاتا ہے۔ لیکن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے اور احتجاج کرنا جمہوری حق ہے۔

حکومت کی مخالفت میں ایک جمہوری سیاستدان اور سابق وزیر اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے تقریر کے دوران  "جلاؤ، گھیراؤ، مرو، مارو” کا عوام کو کہا۔ کس کو جلاؤ اور کیوں؟۔۔۔ کس کا گھیراؤ اور کیوں؟۔۔۔ مرو یعنی خود کشی کرو، مگر کیوں؟۔۔۔ مارو یعنی قتل کرو، کس کو اور کیوں؟۔۔۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ کیا یہ سب فساد پھیلانے والی باتیں نہیں؟۔۔۔ جبکہ قرآن کی رو سے  فساد پھیلانا حرام ہے۔ ایسے لوگوں کو سیاست سے باہر کرنے  کیلئے، قانون ایسے بے بس ہے جیسے ملک میں کوئی قانون ہی نہیں۔

آپ پاکستان میں ہیں جیسے مرضی ریاست کے ساتھ کھیلیں، یہ ہے مغربی جمہوریت۔ یہ نظام تو ذرا سی بغاوت کے سامنے ہی ڈھیر ہوجاتا ہے۔ یہ سب ریاست کے ساتھ گھناؤنا کھیل نہیں تو اور کیا ہے۔ موجودہ نظام حکومت توحکمرانوں کی عزت کی حفاظت کرنے سے بھی قاصر ہے۔

پاکستان کے ایک شہر میں گرمیوں میں احتجاج کے دوران گھٹن کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ لیکن کسی نے ذمہ داری قبول نہ کی۔ ابھی بھی وہی سوال اٹھتا ہے کہ ان ماں باپ کا کیا قصور جنہوں نے اس نوجوان کو پیدا کیا اور پال پوس کر بڑا کیا۔ ایسے ہی متعدد جلسوں میں مردو خواتین کے اختلاط کا ماحول  بنایا گیا تاکہ جلسے میں زیادہ لوگ آئیں۔ خواتین کو اوباشوں نے اتنا پریشان کیا کہ خواتین کو اعلان کرکے  گھر بھیجنا پڑا۔ اور تو اور احتجاج کی آڑ لیکر  جمہوریت میں حقوق نسواں کی آڑ میں خواتین کی تذلیل کی جاتی ہے۔

انتخابات پہ ووٹ کیلئے آئے لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے پہ ڈنڈے اور کرسیاں برساتے ہیں اور یہاں تک کہ گولی تک چلا دیتے ہیں۔ اگر ایک سیاسی جماعت احتجاج کررہی ہے اور دوسری جماعت کے کسی فرد یا جتھے کو غصہ آ گیا تو اس نے  لڑائی شروع کردی یا گولی چلاکر احتجاج کرنے والی سیاسی جماعت کے کچھ کارکنان ماردئیے۔ کیا مرنے والا اللہ کی خوشنودی کیلئے آیا تھا؟۔۔۔ کیا مارنے والا اللہ کی خوشنودی کیلئے ماررہا تھا؟۔۔۔ کیا وہ آپس میں اللہ کی خوشنودی کیلئے لڑے؟۔۔۔ مجھے تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان سے لے کر قائدین تک  ہمیشہ اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں  ملا۔

پاکستان میں ہونے والے احتجاجوں میں سے کتنے احتجاج میں کسی نیک مقصد میں کامیابی کا مقصد کارفرما تھا؟۔۔۔

کتنے احتجاجوں میں اللہ کی رضا مقصود تھی؟۔۔۔

کیا کسی اسلامی قانون کےنفاذ کا مطالبہ تھا؟۔۔۔

کیا کسی بھی اسلام کے حکم کو پورا کرنے کےلیے احتجاج کیا گیا؟۔۔۔

احتجاج کرکے فساد برپا کرنا اور حکومت کو چیلنج کرنا، ایک کھیل بنا لیاگیا ہے۔

"جب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں،ہم تو
اصلاح کرنے والے ہیں۔ یاد رکھو، یہی لوگ فسادی ہیں، مگر سمجھتے نہیں”

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے روئے زمین پہ فنتہ و فساد اور انتشار پھیلانے والوں کی  نشانی بیان فرمائی۔ اسلام میں رستوں اور نہروں کیلئے، قبرستان یا مسجد کو بھی منتقل کرنے کی اجازت ہے ۔ جبکہ مغربی جمہوریت میں رستے بند کرنا، فساد پھیلانا حسن ہے۔اسلام میں بھوک ہڑتال، بازار بند کرنے، سڑکیں بند کرنے، جلسہ جلوس کرنے، ریلیاں نکالنے، دھرنا دینا، خود سوزی یا خود کشی سب ناجائز افعال ہیں۔ اس کی شرعی اجازت  ہرگز نہیں ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!