فورجنریشن وار، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا

آج انٹرنیٹ، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا  کے ذریعے آنے والی نسلوں کو معاشرتی طور پہ مختلف برائیوں میں مبتلا کیا جارہا ہے۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے بھی بے حیائی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انٹرنیٹ کے استعمال کو ترک بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک، ٹویٹر جیسی ویب سائٹس پہ پابندی لگنی چاہئے۔ ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے ہر ایک کی ذاتی معلومات ہی نہیں بلکہ سوچ، خواہشات کی تفصیلات تک ان کمپنیوں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پہ یہ معلومات بکتی ہیں۔ ایران، کوریا اور چائنہ میں پہلے ہی فیس بک اور ایسی سوشل ویب سائٹس پہ پابندی ہے۔ وٹس ایپ میسنجر(messenger) کے علاوہ باقی میسنجرز پہ پابندی لگائی جائے۔ ٹیلی گرام مسینجر کے ایک گروپ کو دیکھا جہاں پی ڈی ایف کی شکل میں ہزاروں کتب موجود تھیں اور اس گروپ کے منتظمین نئی کتابوں کے اضافے کے ساتھ ساتھ، ممبران اگر کسی کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کتاب کی فراہمی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان میسنجرز پہ مختلف روم یا گروپ بھی بنے ہوتے ہیں جہاں مرد و عورت کے اختلاط کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس کی نسبت بلاگنگ ایک اچھا معلوماتی ذریعہ ہے۔ ویب سائٹس باآسانی بنائی جاسکتی ہیں یا بنوائی جاسکتی ہیں جو کہ بہت مہنگا بھی نہیں ہے۔ سرچ انجن کے ذریعے ان معلومات تک باآسانی رسائی بھی مل سکتی ہے۔ اردو زبان کو انٹرنیٹ پہ متعارف کروانے میں میری نظر سے بہت سی ویب سائٹس گزریں جن پہ بہت اچھے پڑھے لکھے، تجربہ کار اور ماہر پاکستانی افراد موجود تھے اور ان کا بحث و مباحثہ بہت معلوماتی بھی تھا۔ ادارے اور کونسل اپنی اس طرح کی سوشل ویب سائٹس بنالیں، جن پہ صرف ان کے متعلقہ لوگ ہی رجسٹر ہوں۔ تاکہ وہ معلومات کا تبادلہ کرسکیں۔ حکومت نہ صرف اس کی اجازت دے بلکہ ایسی سہولتیں دے جن سےتحقیق کا شوق اجاگر ہو اور معلومات کے تبادلے کو فروغ ملے۔ ان پہ کڑی نظر بھی رکھی جائے تاکہ کوئی اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف اقدامات نہ ہورہے ہوں یا جھوٹ نہ بولا جارہا ہو۔ ایسے ہی یو ٹیوب پہ تکنیکی، تعلیمی اور بہت سی معلومات کا ذخیرہ ہے۔ جدید دنیا اور معلومات سے کسی کو دور نہیں کیا جاسکتا لیکن سوشل ویب سائٹس اور موبائل نمبر سے چلنے والے  میسنجرز کے علاوہ میسنجرز کو بلاک کرکے ہم بہت سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

فیشن کے نام پہ معاشرے پہ بگاڑ پیدا کیا جارہا ہے۔ اگر مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تو خواتین کو بھی اسلام نے کچھ حدود و قیود کا پابند کیا ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق لباس زیب تن کریں اور پردے کا خیال رکھیں۔ فحاشی اور عریانی کو روکنے میں مرد و خواتین دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ان میں سے ایک بھی اللہ کے احکامات کی پیروی نہیں کرے گا تو معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔

اب حکومت نے سرکاری درسگاہوں اور پولیس اسٹیشن میں بھی خواتین کو تعینات کیا ہے۔ لیکن ہرتھانے میں خواتین کی سہولت کے لئے الگ خواتین کا مکمل شعبہ قائم کردیا جائے۔ جس کی سربراہ بھی خاتون ہی ہو۔خواتین کی حوالات بھی الگ ہوں۔ سرکاری درس گاہوں میں یا مرد اساتذہ تعینات ہوں یا خواتین اساتذہ اورمرد اساتذہ پہ مرد استاد سربراہ ہوں اور اگر خواتین اساتذہ ہیں تو خاتون سربراہ ہوں۔ سرکاری یا غیرسرکاری کسی بھی سطح پہ مرد و زن  کے آزادانہ میل ملاپ کو روکا جائے۔ تاکہ معاشرے میں بگاڑ نہ پیدا ہو۔ اس کی نسبت شادی کو آسان بنایا جائے۔  بے پردگی پہ پابندی لگائی جائے۔

ایسے ہی بچوں سے شفقت سے پیش آنے کا حکم ہے۔ ان کی اچھی تربیت کرنے کا حکم ہے۔

معاشرے کی اصلاح حکمرانوں کے فرائض میں سے ہے اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب حکمران کو اپنے فرائض حکمرانی کا علم ہو۔ لیکن اس وقت پوری دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ حکمرانوں کو علم ہی نہیں کہ ان کے فرائض حکمرانی کیا ہیں اور کیسے امور ریاست چلانے ہیں۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا کے نظام عدم توازن کا شکار ہوچکے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!