خواتین کا گھر سے باہر کردار

ہر خاتون کی گھر سے باہر گھریلو زندگی کے حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں لیکن کچھ خواتین کو گھر کی چاردیواری سے باہر فلاح انسانیت کیلئے کچھ ذمہ داریاں ادا کرنا پڑسکتی ہیں۔ ایک ماں اوراستانی بچوں کو بہترین سوچ، کردار دے سکتی ہے۔ جہاں بچوں کی مائیں انھیں ایک مفید شہری بناسکتی ہیں وہیں ایک استاد کے بغیر بھی یہ کام تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ ننھے ننھے بچوں کی تعلیم و تربیت ایک خاتون سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔ اگر غور کیا جائے تو جو خواتین معاشرے کے آنے والے معماروں کی ذہنی، تعلیمی تربیت کرکے انھیں جینے کا ڈھنگ سکھا رہی ہیں۔ بچے کی ماں اور استاد نے ہی اس بچے کو بولنا، چلنا، سوچنا، غور کرنا، پڑھنا، لکھنا سیکھایا۔ ماں اور استاد کا کسی بھی بچے کی زندگی میں بہت اہم کردار ہیں اور وہ استاد ایک خاتون سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتا۔ خواتین اساتذہ بچوں کی والدہ کا ہی درجہ رکھتی ہیں۔ ان کا احترام اور اکرام ویسے ہی ہوگا جیسے والدہ کا ہوتا ہے۔ بچوں کو جو راہ دکھائی جائے گی وہی وہ اپنائے گا تو استانی اور ماں نے ہی اسے سیکھانا ہے کہ وہ سچ بولے، جھوٹ سے نفرت کرے، کسی کو نقصان نہ پہنچائے، کسی کی چیز بغیر پوچھے نہ اٹھائے، سلام کرے، بڑوں کا ادب کرے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں وغیرہ ۔۔۔ یہ ایسی تربیت ہے جو کہ بچے کی زندگی کی ابتدا میں ایک خاتون ہی بہتر کرسکتی ہے۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ چھوٹے بچوں کی تعلیم کے علاوہ، بچیوں کی تعلیم کی بھی ذمہ داری خواتین اساتذہ کے ذمہ ہی ہوسکتی ہے۔ جس کیلئے بھی پڑھی لکھی خواتین کی ضرورت ہے۔ خواتین اساتذہ زیادہ سے زیادہ تعینات کی جائیں اور ان خواتین کو ننھے نونہالوں کو تعلیم دینے کی خصوصی تربیت دی جائے۔

خواتین کے طبی مسائل کا ایک خاتون طبیب ہی بہتر علاج کرسکتی ہے۔ ظاہری بات ہے اگر خواتین طب کا علم حاصل نہیں کریں گی تو وہ کیسے دوسری خواتین کا علاج کرسکیں گی۔ خواتین کے علاج معالجے کیلئے خواتین ڈاکٹرز، خواتین نرسز انتہائی ضروری ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی ضرورت ہے تاکہ خاتون مدعی یا ملزم کے معاملات کو دیکھ سکیں۔ ایسے ہی خواتین وکلاء کی ضرورت ہے جو کہ خواتین کے مسائل کو سمجھ کر عدالت کے سامنے پیش کرسکیں۔ خواتین ماہر نفسیات کی ضرورت ہے جو خواتین کا علاج کرسکیں۔  آج کل خواتین زنانہ لباس کا بہت اچھا کاروبار کررہی ہیں اور شرعی طور پر بھی خواتین کا لباس خواتین کو ہی سینہ چاہئے۔ اسلام نے خواتین کو کاروبار کرنے سے نہیں روکا۔ ہر ایک کام کے کرنے کی حدود و قیود اسلام نے مقرر کی ہیں۔ خواتین کے لباس کی سلائی کڑھائی، نکھار ایک خاتون ہی اچھے انداز میں کرسکتی ہے۔ عہد رسالت مآب میں بھی صحابیات کاروبار کرتی تھیں۔ ایک صحابیہ خوشبو کا کاروبار کرتی تھیں۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تجارت کرتی تھیں۔

دین اسلام نے عورت کو وہ تقدس اور احترام عطا کیا ہے، جو تاریخ انسانی میں کسی معاشرے نے عطا نہیں کیا۔ اسلام نے عورت کی تذلیل کی اجازت نہیں دی کہ عورت کو ایسے گرداب میں پھنسا دیا جائے کہ وہ سڑکوں یا دفاتر میں ماری ماری پھر رہی ہوں۔ خواتین کی عزت و وقار کو اسلام نے ہر سطح پہ ملحوظ رکھا ہے۔ لیکن خواتین  کو بے حجابی کی اجازت کسی طور بھی نہیں۔ ڈیلی میل کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں دفاتر میں مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے والی 90فیصد خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ وہاں آزادانہ جنسی روابط، دوستیوں اور عیاشیوں پہ کوئی پابندی نہیں۔

جتنا مرد زکوۃ دینے کا پابند ہے، اگر خاتون بھی صاحب نصاب ہے تو وہ بھی   زکوۃ ادا کرنے کی پابند ہے۔  اگر اسلام میں خواتین کےکمانے پہ پابندی ہوتی توزکوۃ کا حکم خواتین کیلئے ہونا ہی نہیں تھا۔ خواتین کو معروف ذرائع آمدن اختیار کرنے کی اجازت کے باوجود مرد کو عورت کا کفیل بنایا ہے۔ ایک خاتون کی جتنی بھی آمدن ہو، لیکن باپ پہلے ہر طرح کی ضرورتیں پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر باپ نہیں تو بھائی اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ اگر خاتون شادی شدہ ہے تو شوہر ہر ضرورت پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر بیٹا کفیل ہے تو وہ ماں کی  ہر خواہش پوری کرنے کا پابند ہے، خدمت کا پابند ہے۔ اس کی نسبت ایک عورت کو صرف گھر کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے اور بچوں کی پیدائش، تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھائے۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی سی ذمہ داری ہے لیکن یہیں سے معاشرہ تشکیل پانا شروع ہوتا ہے۔جبکہ ایک مرد کو ماں کی بھی خدمت کرنا ہے، بیوی کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بھی ہے، بچوں کی پرورش اور ضرورتوں کا بھی کفیل ہے۔

اگر ایک طرف مجاہدین میدان جہاد میں برسر پیکار ہیں تو اسی میدان میں خواتین اسلام زخمیوں کو اٹھا کر لاتی ہیں اور پانی پلاتی ہیں اور مرہم پٹی کرتی نظر آتی ہیں۔ ہمیں تاریخ اسلامی میں کئی خواتین فنون حرب میں ماہر اور مردوں کے دوش بدوش میدان جہاد میں شہسواری اور شمشیر زنی کے جوہر دکھاتی نظر آتی ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ خواتین کی فنون حرب کی تربیت کا اہتمام ہوگا تو ہی وہ عسکری ماہر بن سکتی ہیں۔  لیکن پردے کا اہتمام کرتی ہیں اور اپنا وقار اور مقام کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ 18 نومبر 1913ء کو بلقیس شوکت حانم نے بلقان کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے اور بلقان پر اطالویوں کی بمباری کے جواب میں ان کی مدد کرنے کیلئے اپنا جہاز اڑایا اور اطالویوں کا مقابلہ کرتی ہوئی شہید ہوگئیں۔ اطالوی فضائیہ نے ان کے جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ جہاز بھی خلیفہ غازی محمد خامس (رشاد) نےاس مجاہدہ کو خلافت کی طرف سے ہدیہ کے طور پر دیا کیونکہ یہ خاتون بلقان کے جنگ سے متاثرہ مسلمانوں کے لیے خیراتی کام کرتی تھیں۔

 اسلامی تاریخ ماہر خواتین سے بھری پڑی ہیں اور ان کا وجود حجاب میں اور ان کے کام، ان کے علمی پایہ اور ہنر مندی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاریخ اسلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام خواتین کو چار دیواری سے باہر جانے سے بالکل منع نہیں کرتا بلکہ ان کی خواہشات کے مصداق ان کی تعلیم و تربیت، کاروبار، نوکری اور ہنر کا اہتمام شرعی احکامات کی روشنی میں کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!