خواتین اور حکومت

جیسے عورت کسی صورت میں بھی نماز میں امامت نہیں کرسکتی خواہ وہ جماعت عورتوں کی ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی عورت اسلام کے مطابق، حکومت کی سربراہ نہیں بن سکتی، حکومت بھی مردوں کیلئے مخصوص ہے قرآن سے یہ ثابت ہے کہ

"ہم نے مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا”

ایک اور حدیث مبارک ہے کہ

"وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جس نے حکومت عورت کے سپرد کردی”

اسلامی حکومت کو خواتین کے مسائل کی نشاندہی کیلئے خواتین کی نمائندگی کیسی ہوسکتی ہے؟ ۔۔۔  جیسا کہ امہات المومنین تک خواتین اپنےمعاملات اور مسائل لے کر جاتی تھیں اور امہات المومنین، نبی کریم ﷺ سے پوچھ کر ان کی رہنمائی فرما دیتی تھیں۔ ہر ایک کونسل کے نمائندہ کی بیوی یا والدہ  میں سے کسی ایک خاتون کو خواتین کے مسائل جاننے اور اپنے شوہر یا بیٹے تک پہنچانے کا بار سونپنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہوسکتی ہے۔ تاکہ خواتین کے مسائل کی بنیادی سطح پہ ہی نشاندہی ممکن ہوسکے۔  وہ خواتین سے متعلقہ سفارشات اپنے شوہریابیٹے کے ذریعےارباب اختیار تک پہنچا سکیں۔

اسلامی اقدار اور حدود و قیود اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ خواتین کو رائے زنی کیلئے قطاروں میں لگا کر سارا دن ذلیل کیا جائے اور ان کے وقار کو مجروح کیا جائے۔ البتہ ان کی رائے معلوم کرنے کا کوئی باعزت طریقہ ہو تو اس میں حرج نہیں جیسے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے گھروں میں جا کر پردے کے پیچھے بیٹھی خواتین سے حضرت عثمان اور حضرت علی کے خلیفہ بننے کے معاملے میں رائے لی۔  اسلام نے جو اعلی مقام خواتین کو عطا کیا ہے، ایسی مثال تاریخ انسانی میں نہیں مل سکتی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے بارہا بار مشاورت فرمائی۔

خواتین ڈاکٹرز، خواتین وکلاء، کاروباری خواتین اور دیگر اہم شعبوں میں سے بھی خاتون نمائندہ خواتین کی رائے سے ہی منتخب ہوں۔ ایسے ہی خواتین علماء اور خواتین اساتذہ  معاشرے میں تعلیم و تبلیغ میں بہت اہم کردار ادا کررہی ہیں اور مزید بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان شعبوں کی  خواتین کو مجالس شوری میں نمائندگی دی جائے۔ اس طرح خواتین کے  مسائل کی نشاندہی کی جاسکے اور ان کو حل بھی کیا جاسکے گا اور دستور سازی میں بھی ان سے مدد بھی لی جاسکے گی۔

2013ء تک سوئٹزرلینڈ کے جمہوری نظام میں خواتین کو رائے دینے کی اجازت نہیں تھی۔ صرف مردوں کو انتخابات میں رائے دینے کا حق حاصل تھا۔ جب یہ آواز اٹھی کہ خواتین کو بھی انتخابات میں رائے دینے کا حق دیا جائے تو خواتین نے ہی اس کی مخالفت کی کہ ہمیں یہ حق نہیں چاہئے۔ گھروں میں سیاست گس جانے سے لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔اگر مرد ایک امیدواار کو ووٹ دینا چاہے گا اور خاتون دوسرے امیدوار کو ووٹ دینا چاہے گی تو گھروں کا ماحول خراب ہوجائے گا۔لیکن پھر بھی انھوں نے خواتین کو ووٹ دینے کا حق دے دیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!