خواتین اور موجودہ دور

خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر مردوں کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پہ نہیں لینی بلکہ وہ ذمہ داریاں جو مرد ادا نہیں کرسکتے، ان کاموں کو سرانجام دینا ہوتا ہے۔ خواتین انسانی آبادی کی آدھی حصہ دار ہی نہیں بلکہ نظام دنیا خواتین کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اسلام  نے عورتوں کو محدود ذمہ داریاں دی ہیں اور عورتوں کی نسبت مردوں کی ذمہ داریاں لامحدود ہیں۔ ایک خاتون ماں بھی ہے، بہن بھی ہے، بیوی بھی ہے، بیٹی بھی ہے۔ یہ تو وہ ذمہ داری ہے جو ایک گھر کے اندر ایک خاتون نبھاتی ہے، جیسا کہ مرد باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا بن کر کفیل کے طور پہ گھر کی کفالت اور حفاظت کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔  اسلام  نے خواتین کو اتنے حقوق دئیے ہیں کہ اگر خواتین سمجھ جائیں تو کبھی بھی یہ حقوق نسواں والی تنظیموں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ وہ اسلام سے لپٹ جائیں۔ اسلام کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

"عورت نبی نہیں لیکن عورت نبی کی ماں ہے۔
ماں کے سینے سے لگ کر ہی نبوت نے پرورش پائی”

موجودہ دور میں غیر مسلم معاشرہ اور نام نہاد جدید تہذیب، جدیدیت کے نام پہ عورتوں پہ مردوں کے حصے کا بوجھ بھی لادنا چاہتا ہے۔ ایک عورت  کی بے فکری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ خواتین پہ اضافی بوجھ لادنا چاہتا ہے۔ جدید نظریات کے تحت عورت پہ مردوں کے حصے کا بوجھ لاد کر  مردوں کا بوجھ کم کرنا ہی مغرب کی جدیدیت کا مقصد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بیزار لوگ عورت کو ایک ایسی مشین بنانا چاہتے ہیں جو کہ عورتوں والی ذمہ داری تو پورا کریں ہی لیکن مردوں کی ذمہ داری بھی ادا کریں۔ جبکہ اہل مغرب اب اس بات کا اقرار کرنے پہ مجبور ہیں کہ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کے نتیجے میں خاندان کا شیرازہ بکھر گیا ہےاور اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ عورت کو واپس کیسے لایا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!