اسلام میں خواتین کے حقوق

ملازمت، کاروبار کرنے کی اجازت دینے کے باوجود مرد کو عورت کا کفیل بنایا ہے۔ ایک خاتون کی جتنی بھی آمدن ہو، لیکن باپ پہلے ہر طرح کی ضرورتیں پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر باپ نہیں تو بھائی اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ اگر وہ شادی شدہ ہے تو شوہر ہر ضرورت پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر بیٹا کفیل ہے تو وہ ماں کی  ہر خواہش پوری کرنے کا پابند ہے، خدمت کا پابند ہے۔ ہرایک مرد کو دین اسلام نے پابند کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کو پورا کریں۔ اس کی نسبت ایک عورت کو صرف گھر کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے اور بچوں کی پیدائش، تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھائے۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی سی ذمہ داری ہے لیکن دراصل بنیادی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پہ ہی ہے اور یہیں سے معاشرہ تشکیل پانا شروع ہوتا ہے۔جبکہ ایک مرد کو ماں کی بھی خدمت کرنا ہے، بیوی کے نان و نفقہ کے ذمہ دار ہے، بیٹی کی پرورش اور ضرورتوں کا بھی کفیل ہے، اس کو کما کر بھی لانا ہے۔

ہر وارڈ / علاقہ میں کم از کم ایک لیڈی ڈاکٹر اور ضروری زنانہ سٹاف نہ صرف موجود ہو بلکہ طبی امداد کی شکل میں تمام سہولتیں باہم پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان مقامی سطح کے بنیادی صحت مراکز میں صحت عامہ کے علاج کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ، زچگی کے معاملات بھی دیکھے جاسکیں۔ ہسپتالوں میں کافی حد تک خواتین کیلئے پہلے ہی الگ انتظام موجود ہے جہاں خاتون ڈاکٹرز اور خاتون سٹاف ہی موجود ہوتا ہے۔ لیکن ہسپتالوں میں مردوں کے وارڈز میں مردوں کو ہی تعینات کیا جائے اور خواتین وارڈز میں خواتین کو ہی تعینات کیا جائے۔ایسے ہی انتہائی نگہداشت یعنی ایمرجنسی وارڈ میں دیکھا ہے کہ خواتین مریض بھی وہیں ایمرجنسی میں داخل  ہیں اور مرد مریض بھی وہیں داخل ہیں۔ اس معاملے کیلئے اقدامات  بھی ضروری ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کے وارڈز ہر شعبے میں الگ موجود ہوں اور ان کی نگہداشت بھی خواتین ہی کررہی ہوں۔

حکومت نے سرکاری درسگاہوں اور پولیس اسٹیشن میں بھی خواتین کو تعینات کیا ہے۔ لیکن ہر تھانے میں خواتین کی سہولت کیلئے الگ خواتین کا مکمل شعبہ قائم کردیا جائے۔ جس کی سربراہ بھی خاتون ہی ہو۔ خواتین کی حوالات بھی الگ ہوں۔ سرکاری درس گاہوں میں یا مرد اساتذہ تعینات ہوں یا خواتین اساتذہ اور مرد اساتذہ پہ مرد استاد سربراہ ہوں اور اگر خواتین اساتذہ ہیں تو خاتون سربراہ ہوں۔ سرکاری یا غیرسرکاری کسی بھی سطح پہ مرد و زن  کے آزادانہ میل ملاپ کو روکا جائے۔ تاکہ معاشرے میں بگاڑ نہ پیدا ہو۔

تاریخ انسانی میں یہ پہلی دفعہ نہیں کہ موجودہ دور میں خواتین کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحابیات ہی نہیں بلکہ صحابہ اکرام بھی فقہی مسائل کے بارے میں دریافت فرماتے تھے۔

"صحابہ اکرام کا امہات المومنین سے استفتاء کرنا، علم حاصل کرنا اور مسائل و احکام دینیہ دریافت کرنا  بکثرت روایات بلکہ تقریبا تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ جس سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ مستورات قوانین و احکام شرعیہ کو بیان اور ان کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرسکتی ہیں”۔ اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۳۱۷

انسانی ارتقاء اور بلوغت جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، وہیں خواتین کے کندھوں پہ بار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور خواتین بھی ہر شعبے میں اپنا مثبت  کردار ادا کرتی نظر آتی  ہیں۔ بہترین اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء، کاروبار، جہاد ہر ایک میدان میں خواتین اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ لیکن اسلام نے جو حدود آج سے چودہ سو سال پہلے مقرر کیں، وہ آج بھی نافذ العمل ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!