جمہوریت، داعی ختم نبوت مولانا یوسف لدھیانوی کی نظر میں

بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کرلیتے ہیں کہ بڑے بڑے عقلاء (اور عالم کہلانے والے بھی) اس قبولیتِ عامہ کے آگے سر ڈال دیتے ہیں، وہ یا تو ان غلطیوں کا ادراک ہی نہیں کر پاتے یا اگر ان کو غلطی کا احساس ہوبھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔ دنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں، ان کے بارے میں اہل عقل اسی لئے المیے کا شکار ہیں! اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج ’’جمہوریت‘‘میں چل رہاہے ۔جمہوریت دورِ جدید کا وہ ’’صنمِ اکبر‘‘ہے جس کی پرستش اول  دانایانِ مغربنے شروع کی ۔چونکہ وہ آسمانی ہدایت سےمحروم تھے، اس لئے ان کی عقل ِنارسا نے دیگرنظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کومثالی طرزِحکومت قرار دے کر اس کا صور بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دنیا میں اس کاغلغلہ بلند ہوا، یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِمغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کردی۔ کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ ’’اسلام جمہوریت کا علم بردار ہے‘‘ اور کبھی ’’اسلامی جمہوریت ‘‘(جیسی خبیث اصطلاح) وضع کی گئی۔ حالانکہ مغرب ’’جمہوریت‘‘ کےجس بت کا پجاری ہے، اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلّق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے۔ اس لئے اسلام کے ساتھ جمہوریت (یا اس کی اصطلاحات) کا پیوند لگا نا اور جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنا صریحاً غلط ہے‘‘۔ الغرض! جمہوریت کے عنوان سے عوام کی حکومت، عوام کے لئے’ کا دعوی ٰمحض ایک فریب ہے، اوراسلام کے ساتھ اس کی پیوندکاری فریب در فریب ہے، اسلام کا جدید جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، نہ جمہوریت کو اسلام سے کوئی واسطہ ہے، ‘ضدان لایجتمعان’ (یہ دومتضادجنسیں ہیں جو اکٹھی نہیں ہوسکتیں)۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!