اسلامی سیاسی نظام پہ اردو کی پہلی کتاب

ماضی قریب اور پاکستان بننے سے قبل، مسلمانوں کے نئے بننے والے ملک کے لئے آئین کو ترتیب دینے کے کام کے آغاز کے سلسلے میں،۱۹۴۰ء میں قراردادِ پاکستان کے اعلان کے بعد اِسی سال ایک اعلیٰ کمیٹی مسلم لیگ نے قائم کی تاکہ مجوزہ پاکستان کے لئے ایک سیاسی نظام مدوّن کیا جاسکے۔ مسلم لیگ(یوپی) کے زیراہتمام تشکیل پانے والی اس کمیٹی میں علامہ سلیمان ندوی، مولانا آزاد سبحانی، مولانا عبدالماجد دریاآبادی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جیسے محققین اور مدبرین شریعت بھی شامل تھے۔ علومِ قدیم و جدید کے ان مشاہیر و ماہرین نے پاکستان کے لئے اسلامی نظام حکومت و سیاست کا تفصیلی مسودہ ۱۹۴۲ء میں مکمل کردیا تھا۔ جسے بعد میں دارالمصنّفین اعظم گڑھ (بھارت) نے کتابی شکل میں شائع کیا۔یہ قابل قدر کتاب بعنوان  "اسلام کا سیاسی نظام” مرتبہ مولانا اسحاق سندیلوی نہایت اہم تاریخی دستاویز ہے ،جس میں مغربی طرزِ سیاست و جمہوریت کو دلائل کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے اور اسلامی نظامِ حکومت، شورائیت کا ایک عملی خاکہ عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق دیا۔ اسی تاریخی دستاویز میں مغربی نظام جمہوریت کو ردّ کیا گیا ہے کہ اس لادینی نظام سے گروہ بندی پیدا ہوتی ہے اور جماعتی تعصب قائم ہوجاتا ہے۔حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کی مستقل تقسیم سے تفریق و تفرقہ اور خانہ جنگی کی نوبت آجاتی ہے۔ اقتدار وہ پارٹی حاصل کرلیتی ہے، جو دولت و سرمایہ سے مالا مال ہو اور اہل اقتدار کے لئے انتخاب بلا شرط اور بغیر معیار کے ہوتا ہے، یعنی یہ کہ وہاں نہ صلاحیت کی شرط ہوتی ہے اور نہ صالحیت کا معیار۔ غرضیکہ ۱۹۴۲ء میں اہل علم و دانش نے متفقہ طور پر مغربی طرزِ جمہوریت کو انتہائی مضر اور ناجائز قرار دے دیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!