اسلامی ریاستیں

حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانے میں منادی سڑکوں پہ گھومتا آواز دیتا ہے کہ

"کسی کو پیسوں کی ضرورت ہے؟ ۔۔۔ کھانے، پینے، لباس حتی کہ شادی کیلئے”

 کوئی حاجت مند نہیں، سب خوشحال تھے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا دور حکومت سنہری اور مثالی دور تھا۔ انتہائی وسیع اوربہت بڑے رقبے پہ انھوں نے حکومت کی، لیکن انتقال کے وقت ان کی میراث صرف سترہ دینار تھے، جن میں سے سات دینار تجہیز و تکفین میں خرچ ہوگئے۔ باقی دس دینار ان کے گیارہ بیٹوں میں تقسیم کردئیے گئے۔ یعنی ایک بیٹے کو ایک دینار بھی پورا نہ مل سکا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے انتقال کے وقت ان کے وزراء اور مشیران نے ان سے یہ سوال کیا کہ آپ اپنی اولاد کے ساتھ کیا کرکے جارہے ہیں؟۔۔۔ ان کا جواب تھا کہ اگر میرے جانے کے بعد میری اولاد نیک رہی اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتی رہی تو اللہ ان کی مدد اور سرپرستی فرمائے گااور اگر یہ نافرمان بن گئے تو میں ان کے گناہ کے کاموں میں ان کا مددگار نہیں بننا چاہتا۔ چنانچہ انتقال کے بعد ان کے ایک بیٹے کو خلیفہ وقت کی جانب سے ایک صوبے کا گورنر بنادیا جاتا ہے۔ وہ انتہائی مثالی اور معیاری حسن انتظام کے ساتھ اس صوبے کا نظام چلاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا چرچا ہونے لگتا ہے۔ اس پر خلیفہ وقت دوسرے بھائی کو دوسرے صوبے کا گورنر اور پھر کرتے کرتے گیارہ بھائی مختلف صوبوں کے گورنر مقرر کردئیے جاتے ہیں۔ اللہ کریم نے ان بھائیوں کو اتنا نوازا کہ جہاد کیلئے ایک ایک بھائی نے ایک ایک وقت میں کئی سو گھوڑے بھی دئیے۔

دنیا میں وقت کی سب سے بڑی قوت، خلیفہ ہارون الرشید سر اٹھا کر بادلوں سے کہتے ہیں کہ

” جہاں چاہو برسو خراج تو ہمارے پاس ہی آئے گا"

ہارون الرشید کے دور میں ملکہ عالیہ نے اپنی گرہ سے ایک نہر تعمیر کروائی جس کے ذریعے مکہ مکرمہ تک پانی پہنچنا ممکن ہوا تاکہ عمرہ و حج کیلئے آنے والے مسلمانوں کو سہولت مل سکے۔

دور خلافت عباسیہ میں اعلی درجہ کے ہسپتال اور ڈاکٹرز تھے۔ جس میں بغداد، دمشق، قاہرہ، یروشلم، اسکندریہ، قرطبہ، ثمرقند اور بہت سے علاقے شامل ہیں۔ صرف بغداد میں ہی چھوٹے بڑے ساٹھ ہسپتال تھے۔ جہاں پر مریضوں کیلئے الگ الگ محکمہ جات تھے اور ایک ہزار سے زائد فزیشن موجود تھے۔ المنصوری ہسپتال جو کہ 1283ء میں قاہرہ میں تعمیر کیا گیا، آٹھ ہزار بستروں پر مشتمل تھا۔ ہر مریض کیلئے دو میزبان ہوتے تھے جو مریض کے بستر پہ ہی اس کو ہر طرح کا آرام اور سہولیات مہیا کرنے کے ذمہ دار تھے۔ ہر مریض کیلئے الگ برتن اور بستر تھا جبکہ مریضوں کو دوائیاں اور کھانا مفت فراہم کیا جا تا تھا۔ دیہی علاقوں کے لوگوں اور معذور افراد کیلئے الگ سے موبائل ڈسپنسری اور کلینک تھے۔ جو ان کو مکمل علاج کی سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ خلیفہ وقت نےیہ حکم بھی جاری کیا ہوا تھا کہ ہر موبائل یونٹ کچھ وقت کے بعد دیہی علاقوں میں جایا کرے اور وہاں پر کچھ دن قیام بھی کرے گا۔ مسلمان ریاستوں کے اعلی انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ موجودہ دور میں دنیا کی تمام جدتوں اور سہولتوں کے ساتھ دس ہزار بستر پہ مشتمل دنیا کا سب سے بڑا ہسپتا ل تائیوان میں ہے۔ جس کے بعد دوسرے نمبر پہ چین میں چار ہزار تین سو بستروں پہ مشتمل دوسرا بڑا ہسپتال ہے۔

امیر المومنین حضرت عمرفاروق نے اونٹ والوں کو مقرر کیا تھا۔ جن کی ذمہ داری یہ تھی کہ جن شہریوں کے پاس سواری نہیں، ان کو مطلوبہ جگہ پہنچائیں۔ یعنی تعلیم، صحت، سفری سہولتیں مہیا کرنے کا آغاز بھی اسلامی ریاستوں سے ہی ہوا۔

اسلامی نظام حکومت سے ایک شخص کی انفرادی زندگی سے لیکر پوری ریاست کی اجتماعی زندگی تک سب کچھ ایک نظم میں آجائے گا۔ یہاں تک کہ کچرے سے لیکر ذرائع آمدورفت ، عدل و انصاف و معیشت تک کا مسئلہ حل ہوگا۔ اسلامی ریاست میں ہی عدل و انصاف کو یقینی بنانے کے ساتھ روٹی، کپڑا، مکان، جدید سفری سہولیات، جدید علوم کی درسگاہیں، ہسپتال اور تحقیقاتی اداروں کی ابتداء بھی ہوئی۔

مسلمان بادشاہ ، اللہ کے قانون کے پابند ہوتے تھے۔ ان کے دل اللہ کے خوف سے لرزتے تھے۔ عدلیہ بااختیار تھی کہ وہ بادشاہ کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے میں بااختیار تھی۔ فوج کے سپہ سالار بادشاہ خود ہوتے تھے اور فوج کے سپہ سالاران بھی موجود ہوتے تھے۔ خلیفہ، بادشاہ، عدلیہ اور امرائے سلطنت ہر سوال کے جوابدہ ہوتے تھے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا تھا۔ انصاف کیلئے سالہا سال نہیں لگتے تھے۔ معیشت، سیاست، مذہبی امور یعنی ہر طبقہ کےلوگ مشاورت کیلئے حکومت میں موجود ہوتے تھے۔ بادشاہ بھی قرآن و سنت کا پابند ہوتا اور بادشاہ کو بھی کچھ اقدامات کرنے کیلئے مجلس شوری سے مشاورت کرکے توثیق کروانی پڑتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ جو دل میں آیا بادشاہ نے کرلیا۔

جب اسلام ایک فرد واحد سے لیکر نظام دنیا تک رہنمائی کرتا ہے اور ایک مکمل ضابطہء حیات اور کائنات ہے تو کیوں نہ اسے مکمل طور پہ اپنائیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!