موجودہ معاشی نظام، بینک اور ٹیکس

جتنے کسی ملک کے پاس ذخائر ہوں گے، اتنی کرنسی وہ ملک جاری کرسکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ معاشی نظام، پوری دنیا میں اور ہر ملک میں ہی غیر متوازن ہے۔ نائیجیریا کے پاس تیل کے کثیر ذرائع ہیں، لیکن وہ غریب ملک ہے۔ کچھ ممالک میں سونے کے ذخائر ہیں لیکن ان ممالک کی کرنسی کمزور ہے۔

کوآپریٹو بینک پاکستان میں بنے۔ لوگوں نے پیسہ جمع کروادیا۔ ایسے ہی ہوا چل اٹھی کہ کوآپریٹو بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ بند ہورہے ہیں۔ لوگوں کی قطاریں لگ گئیں، چیک کیش کروانے کے لئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بینکنگ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کوآپریٹو بینک دھڑام سے نیچے آگرے۔ یہ اوقات ہے اس بینکنگ سسٹم کی۔ آج بھی اگر ہم اپنا پیسہ صرف بینکوں سے نکلوانا شروع کردیں اور کوئی شہری بھی اپنی رقم بینک میں نہ رکھے۔ آپ لمحوں میں موجودہ نظام بینکاری و معیشت کو تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ کیونکہ بینکوں کے پاس اتنا پیسہ ہی نہیں ہے جتنا کاغذات میں درج ہے۔

2006ء میں پاکستان میں ڈالر کی قیمت ایک دم اوپر چلی گئی۔ شور یہ تھا کہ پیسہ پاکستان سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔ ظاہری بات ہے اگر صاحب اختیار و اقتدار ایماندار نہیں ہوں گے تو لوگ اپنے تئیں محفوظ مقامات پہ رقم منتقل کرنا شروع کردیں گے۔ اب جیسے ہی پاکستان سے بھاری رقوم باہر گئیں، ڈالر مہنگا ہوگیا۔ اس دوران ذرائع ابلاغ پہ ایک معیشت دان نے بتایا کہ ایک سو پچیس ارب ڈالر، پاکستانی پاسپورٹس پہ باہر کے ملکوں میں پڑا ہوا ہے۔ اگر آپ کسی دوسرے ملک کی شہریت لے لیتے ہیں تو آپ اس ملک کے شہری دستاویز پہ بینک میں اکاﺅنٹ کھلوائیں گے۔ورنہ آپ اپنے ملک کے پاسپورٹ پہ اکاﺅنٹ کھلوائیں گے۔ ایک سو پچیس ارب ڈالر پاکستانی پاسپورٹس بیرون ممالک میں جمع ہے۔ جو پیسہ پاکستانی نژاد لوگوں کا وہاں پہ ہے، اس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔وہ مجبوری میں ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور انھوں نے بھی بالآخر پاکستان ہی آناہے۔ اگر وطن عزیز کے معاشی حالات بہتر ہوں تو پاکستانیوں کا ملک سے باہرموجود اتنا پیسہ پاکستان میں آجائے کہ ایک ڈالر اگر سو روپے کا ہے تو ایک ڈالر کا ایک پاکستانی روپیہ ہو جائے۔

پاکستان میں اوسطا 40 فیصد سے 60 فیصد ٹیکسز ہیں ۔کچھ ٹیکسز تو 100 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ کچھ بالواسطہ اور کچھ بلا واسطہ ہیں۔ جن میں زیادہ تر جو ہمارے علم میں ہیں کہ سیلز ٹیکس ، انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس ، ودہولڈنگ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ اشیاء ضروریہ پہ لاگو ٹیکس ، ایک بھکاری بھی ادا کررہا ہے۔ جس شہری کا کہنا ہے کہ میں حکومت کوٹیکس نہیں دیتا۔غریب آدمی، جس کی دن کی آمدن ۵۰۰ سے ۷۰۰روپے یومیہ ہے، کہتا ہے کہ میں ان میں سے کوئی ٹیکس نہیں دیتا ،وہ بھی حکومت کو کم و بیش سالانہ پچاس ہزار روپے تک ٹیکس دیتا ہے ۔ کیونکہ اس نے کپڑا،کوکنگ آئل یا گھی ، صابن یعنی اشیاء صرف توخریدنا ہی ہیں۔ جس پہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس اورودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس پہلے ہی شامل کر لئے گئے ہوتے ہیں اور ایسے وہ ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اب کپڑا انسانی جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے۔ زمین میں بویا جانے والا کپاس کا بیج، بیج کو لانے کےدوران پٹرول پہ بھی ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ اب وہ بیج زمین پہ بونے کے لئے پہنچ گیا اور زمین میں بو دیا گیا ۔ پانی دیا گیا ۔ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کی وصولی بجلی کے بل میں وصول کرلی گئی۔ ورنہ جو انجن میں تیل جل رہا ہے اس میں بھی ٹیکس ادا کردیا گیا ہے۔ اب فصل کٹ گئی، اس دوران بھی ٹریکٹر یا زرعی آلات جو استعمال ہورہے ہیں، ان پہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اور اب کپاس کو منڈ ی تک جاتے ہوئے ٹیکس، ڈیزل پہ ٹیکسوں کی بھرمار وغیرہ ، اب دھاگہ بننے کے مرحلہ میں داخل ہوا۔ اس فیکٹری پہ بھی سیلز ٹیکس ، انکم ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، اور دیگر ٹیکس ادا کئے گئے، اب وہاں سے ویونگ ملز میں آیا اور پھر ٹیکسوں کی بھرمار، ابھی ٹیکس ختم نہیں ہوئے ۔کپڑا رنگنے والی فیکٹری اور پھر ہول سیلر بھی ٹیکس ادا کرے گا۔ اور پھر دکاندار کے پاس کپڑا آجاتا ہے ۔ دکاندار انکم ٹیکس،ضلع ٹیکس، تحصیل ٹیکس، کاروباری فیس اور دیگر ٹیکسوں کو ادا کرتا ہے۔ بجلی کے بلوں میں ٹیکس، اب اس دوران جتنی فیکٹریز یا گوداموں میں یہ بیج سے کپڑے تک کا پروسیس کیا گیا، اس دوران عمارتوں پہ پراپرٹی ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کا بوجھ بالآخرہر صارف پہ ہی آتا ہے۔

آجکل بڑی عالمی طاقتیں جہاں عسکری جارحیت کا استعمال کرتی ہیں وہاں معیشت اور معاشی نظام کے ذریعے بھی قوموں کو محکوم بنایا جانے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ترقی پزیر ممالک کو تو قرضوں میں جکڑا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اس وقت سب سے زیادہ مقروض ہیں۔ جن میں پہلے دس ممالک بالترتیب امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، فرانس، انگلینڈ، اٹلی، برازیل، کینیڈا اور روس ہیں۔ ان کی ترقی کا راز بہت زیادہ ملکی آمدن ہونا نہیں بلکہ مقروض ہونے میں چھپا ہواہے، جبکہ ان ممالک کے پاس ابھی تک کوئی متعین اہداف نہیں کہ وہ ان قرضوں سے اپنے ممالک اور عوام کی جان چھڑوالیں گے۔ قرضوں کے اس بوجھ کی وجہ سے معاشی طور پہ یہ ممالک تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکے ہیں۔

پوری دنیا میں یہ سودی معاشی نظام ناکام ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ کہ جاپان، انگلستان جیسے دوسرے ممالک اب اپنے بینکنگ سسٹم کو اسلامی کررہے ہیں۔ ان کا مذہب اسلام نہیں ہے، لیکن انھیں اس بات کا یقین ہے کہ موجودہ بینکنگ نظام زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔اسلام کے تعلیم کردہ رہنما اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہی ترتیب دیا گیا نظام انفرادی معیشت سے لیکر ملکی اور عالمی معیشت کو بچا سکتا ہے اور دنیا میں خوشحالی لا سکتاہے۔

مسلم ممالک نے اسلامی بینکنگ سسٹم بنایا وہ بھی سودی نظام کی طرز پہ ہی چل رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں ذاتی طور پر اس کا حامی ہوں کہ بجائے روایتی بینکنگ کے ہم اسلامی بینکنگ کو ہی رواج دیں کیونکہ اس کی تمام تر ذمہ داری مفتیان پہ ہے، جنھوں نے یہ نظام ترتیب دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے دو فائدے ہوں گے۔ ایک یہ کہ ہم اسلامی بینکنگ کی خامیاں دور کرکے اسے اسلام کے عین مطابق تو کرسکتے ہیں لیکن سودی بینکنگ سسٹم اور سودی معاشی نظام کی کیا اصلاح کریں گے؟۔۔۔ جو مرضی کر لیں، حرام پھر حرام ہے اور اس کو ہم کسی طرح بھی جائز ثابت نہیں کرسکتے۔ اور دوسرا یہ کہ اسلامی بینکنگ اختیار کرنے سے روایتی سودی بینکنگ خود بہ خود ختم ہو جائے گی۔

اسلامی بینکنگ میں بینک شراکت دار ہو کر پیسہ آپ کے کاروبار میں لگاتا ہے جبکہ موجودہ نظام آپ کو مقروض کرتا ہے اور ویسے بھی موجودہ بینکاری نظام میں کوئی ایسا طریقہ کار ہی نہیں ہے کہ حقدار کو قرض مل سکے اور وہ کوئی کام کرکے مفید شہری بنے اور نہ ہی باصلاحیت افراد اور ضرورت مندسے بینک شراکت داری کرتا ہے۔موجودہ بینکاری نظام کی کسی نے کیا خوب مثال دی کہ

"اگر آپ کے پاس اتنی جائیداد، کاروبار اور بینک بیلنس ہے کہ آپ کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے
تو بینک آپ کو قرض دینے پہ راضی ہوجائے گا"

الغرض جمہوری نظام میں موجودہ معاشی نظام بھی مسائلستان ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کی بچت پہ ٹیکس لیں، جیسا کہ اسلام میں ہے۔اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی بہترین اور مکمل نظام ہے، لیکن ہم فلاح کی طرف جا نہیں رہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!