خطہ ہند کی معیشت

تقسیم ہند سے پہلے، ریاست ہند پہ ایک روپیہ بھی قرضہ نہ تھا۔ نہ اس سے پہلے یہ خطہ کبھی مقروض رہا تھا اور نہ ہی آج کی طرح اس خطے کے بارے میں دیوالیہ کی بازگشت کبھی سنائی دی تھی۔ بلکہ انگریزوں کےقابض ہونے سے قبل اس خطے کو "سونے کی چڑیا” کہا جاتا تھا۔

 یہ ایک بہت بڑا ملک تھا۔ جو آج کل افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے خطوں پہ مشتمل ہے۔ امور ریاست کے لئے  اسلامی ریاست کے معاشی نظام کی جگہ، انگریزوں نے زیادہ شرح کے ساتھ ٹیکس لگایا یا مالیہ / لگان لگایا۔ انگریزوں نے ٹیکسوں کی بھرمار کرکے ہند کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا۔ عوام جو خوشحال تھے اور ایک بھی بھکاری نہ ملتا تھا وہاں لوگ فاقوں پہ مجبور ہوگئے۔ انگریزوں نے انھی ٹیکسوں کی وصولی سے ریلوے، سکول، کالج، سڑکیں بنائیں۔ یہ سب انھوں نے برطانیہ سے دولت لا کر نہیں کیا۔ ریاستی اخراجات کے علاوہ پانچ کروڑ ہر سال ٹیکس حکومت برطانیہ ہند سے لے کر جاتی تھی۔ لیکن ہند پہ کوئی قرض نہ تھا اور نہ ہی دیوالیہ ہوا۔  یہاں پہ قابض ہونے سے لیکر یہاں سے جانے تک وہ دولت کے انبار برطانیہ میں اکٹھے کرتے رہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ دنیا میں مغربی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے ریاستیں مقروض نہ ہوتی تھیں۔ یہ موجودہ نظام کی پالیسیوں کا تسلسل ہے کہ کمزور ریاستوں کو بڑی ریاستوں نے مقروض کرلیا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!