حضرت نعمت شاہ ولی اللہ کی پیشگوئیاں

انبیاء اکرام کا درجہ تو سب مخلوق میں بلند ترین ہے۔ لیکن پشین گوئی کی صلاحیت اللہ تعالی اپنے بندوں میں جسے عطا کردیں۔ پیشگوئی کوئی آسان کام نہیں۔ پیشگوئی کا فن ایک نازک اور نادر علم ہے۔ مستقبل کا صحیح علم صرف اللہ تعالی کی ذات کو ہے۔ تاہم قرآن حکیم اور احادیث نبوی ﷺ میں پیشگوئیوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جو کہ وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوتی رہیں اور اسی سے شہ پا کر علماء و صوفیاء نے آنے والے حالات کی نشاندہی فرمائی۔

حضرت نعمت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ علیہ نے۵۴۷ ھجری میں "قصیدہ شاہ نعمت اللہ ولی” کے نام سے فارسی اشعار میں  پشین گوئیاں فرمائیں۔ان میں سے چند اشعار کا ترجمہ اور  میری  سمجھ  کے مطابق تشریح  بھی درج ہے۔

انگریز ہندوستان سے اپنی حکمرانی چھوڑ کر چلے جائیں گے لیکن اپنی کمینہ برائیوں کا بیج بو جائیں گے۔

تشریح: یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انگریز تو ہندوستان کی حکمرانی چھوڑ کر چلے گئے لیکن نظام حکومت کے ذریعے اپنے مقبوضہ علاقوں کو فسادات میں جھونک گئے۔

ہندوستان کی تقسیم دو حصوں میں ہوجائے گی۔ مگر مکر و بہانہ سے باہمی رنج اور فسادات پیدا ہوجائیں گے۔

مسلمان کی جان اور جائیداد برابر کی سستی ہوجائے گی اور ان کے خون کے بے کنار دریا بہنے لگیں گے۔

پنجاب کے قلب سے دوزخی کافر خارج ہوجائیں گے اور ان کی جائیداد پر مسلمان غاصبانہ قبضہ جما لیں گے۔

اس کے برعکس مسلمانوں کے شہر میں یہی واقعہ رونما ہوگااور ہندو ہر شہر پر زبردستی قبضہ کر لیں گے۔

مسلمانوں کا سب سے بڑا شہر سب سے بڑی قتل گاہ بن جائے گا۔تباہی و بربادی ایسی ہوگی کہ گھر گھر کربلا بن جائے گی۔

تشریح: پاکستان کی سرحد سے لیکر دہلی تک کے علاقے میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔

بغیر تاج کے بادشاہ نادان بادشاہی کرنے لگیں گےاور فرمان بھی جاری کریں گے مگر یہ سب مہمل قسم کے ہوں گے۔

تشریح : جیسا کہ آج کل جمہوری حکمران بے اثر قسم کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ احکامات کچھ ہوتے ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے۔

رشوت، لاپرواہی اور دیدہ و دانستہ غفلت سے یہ شاہی احکام تاویل کا شکارہوں جائیں گے۔

تشریح : آج کل رشوت ستانی کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ جبکہ احادیث میں رشوت دینے اور رشوت لینے والے کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔ اور فرائض میں جان بوجھ کر لاپرواہی اور غفلت  برتی جاتی ہے۔ احادیث میں اس بارے میں بہت سخت وعیدیں ہیں۔ اصل میں اللہ تعالی کے احکامات سے غفلت برتی جارہی ہے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے کیونکہ اس سے عوام کے حقوق غصب ہوتے ہیں۔

عالم، علم پر اور عقلمند عقل و دانش پر روئیں گے۔  نالائق اور احمق لوگ ننگے ناچ میں والہانہ انداز میں مصروف ہوں گے۔

امت محمدیہ  سے بے حد مجرمانہ افعال اور گناہ کے کام سرزد ہوں گے۔

شفقت، لاپرواہی میں اور بزرگوں کی تعظیم، دلیری میں تبدیل ہوکر رہ جائے گی۔

لڑکے ماں سے اور بہن بھائیوں سے ، باپ بیٹیوں سے مجرمانہ عشق میں ملوث پائے جائیں گے۔

حلت اور حرمت سراسر چلی جائے گی اور عصمت بھی اغوا اور جبر کے ذریعے لوٹ لی جائے گی۔

عورتیں بے پردگی کے اور مرد پردہ دری کے عادی ہوجائیں گے۔ ظاہرا معصوم لیکن در باطن  عفت فروش ہوں گے۔

کمینے مرد جن کی ظاہری وضع قطع زاہدانہ ہوگی، دراصل بیٹیوں کو فروخت کرنے اور عصمت فروشی کا پیشہ اختیار کر لیں گے۔

نماز، روزہ، حج و زکوۃ اور فطرہ کا شوق مسلمانوں میں ختم ہو جائے گا اور یہ سب کچھ طبیعت پر بوجھ ہوگا۔

اپنا خون جگر پیتے ہوئے اور رنج و افسوس سے میں کہتا ہوں کہ خدارا حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرو، گوشہ نشینی چھوڑ دو۔

ایک ایسا قہر عظیم آئے گا۔ جو اس قسم کی سزاں کیلئے موزوں ہوگا۔ اللہ تعالی خود ایک قاتلانہ حکم صادر فرمائیں گے۔

مسلمان مارے جائیں گے، تباہ و برباد ہو کر بھاگیں گے، ہندوں کی ایک نیزہ بند قوم ان پر حملہ آور ہوگی۔

تشریح: بھارت میں جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا جارہا ہے، اس کی منظر کشی اس پشین گوئی میں کی گئی ہے۔
ہندو اورسکھ برچھیوں، نیزوں سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

مسلمانوں کے رہنما در پردہ مسلمانوں کے دشمنوں کے دوست ہوں گے اور
اپنے  گناہ گارانہ وعدوں کے مطابق کافروں کو مدد پہنچاِئیں گے۔

تشریح: پاکستان کے سیاستدان خفیہ راز دشمن ممالک کودے دیتے ہیں۔ بہت سی جماعتوں اور  اداروں میں کئی غدار پاکستان میں پائے جاتے ہیں، جن کو سیاسی مصلحتوں اور ان کے سابق عہدوں اور رتبے کی بناء پہ گرفتار نہیں کیا جاتا۔ اب بھی بہت سے اعلی عہدیداران،  بیوروکریسی اور سیاستدانوں میں موجود ہیں۔

یہ قصہ دو عیدوں کے درمیان جبکہ چاند منزل سرطین سے اور آفتاب جدول دو از دہم کے پچاسویں قطر محوری سے گزر جائے گا
تو رونما ہوگا اور تمام دنیا ہندو
ں پر اظہار ملامت کرے گی۔

تشریح: ہندوﺅں اور سکھوں نے جو مسلمانوں کا قتل عام کیا ، اس پہ پوری دنیا نے ہندوﺅں کو آج تک ملامت کیا۔

کوہ قاف میں روسیوں کی حکومت ختم ہو جائے گی اور وہ خوارزم اور خیوہ سے لیکر کرکرانہ تک کا علاقہ سنبھال لیں گے۔

نیپال ، تبت ، یاسین ، چترال، نانگا پربت کو ان کی حدود تک فتح کرلیں گے۔

دونوں بادشاہ شطرنج کے بادشاہوں کی طرح میدان میں صلح کرنے کے لئے ثالث کی تلاش کریں گے۔

کافر مسلمانوں کو اپنے طریقے پہ چلنے کی ترغیب دیں گے۔حج سے روک دیں گےاور قرآن کا پڑھنا بند کردیں گے۔

عین بے قراری اور گھبراہٹ کے وقت اللہ تعالی مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے گا۔

اچانک مومنوں میں ایک ولولہ اور جرات پیدا ہو جائے گی اور وہ کفار سے انتہائی دلیری سے جنگ کریں گے۔

پٹھانوں پر اللہ تعالی کا خاص فضل ہو جائے گا اور وہ پوری دنیا میں شہرت حاصل کرلیں گے۔

دین کے تمام بد خواہ مار ڈالے جائیں گےاور ایسے موقع پر خالق مہرباں اپنے لطف و کرم سے "اکرم” نامی ایک شخص کو ظاہر فرمائیں گے۔

تشریح: غزوۃ الہند سے پہلے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا منظر اس پشین گوئی میں پیش کیا جارہا ہے۔

ماہ محرم میں تلوار اٹھا کر مسلمان جارحانہ اقدام کریں گے۔

تشریح: اس شعرمیں اسلامی ریاست کی جانب سے ظلم کے خلاف جارحانہ اقدامات کی نشاندہی کی جارہی ہے۔

اس کے بعد پورا ہندوستان اٹھ کھڑا ہوگا۔ اس وقت فیاضانہ دولت خرچ کرنے والے جہاد کیلئے مال خرچ کریں گے
جیساکہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ  نے جہاد میں مال کثیر خرچ کیا تھا۔

اس وقت اللہ کا ایک دوست جو اللہ کی طرف سے قرآن حکیم کے خاص علم سے نوازا گیا ہوگا۔
اللہ کی مدد سے میان سے تلوار نکال کر جہاد کا ارادہ کرے گا۔

تشریح: غزوۃ الہند کے امیر کی نشانی بیان کی جارہی ہے۔ وہ شخص اللہ کے مقربین میں سے ہوگا اور
قرآن مجید کے خاص علم سے نوازا گیا ہوگا۔وہ اللہ کی مدد سے ہتھیار اٹھا کر جہاد کا ارادہ فرمائیں گے۔

سرحد کے بہادر غازی اس بڑی تعداد میں آ جائیں گے کہ زمین کانپنے لگے گی
او ر وہ مقصد کے حصول کے لئے والہانہ انداز میں پیش قدمی کریں گے۔

دو ٹڈی دل اور چیونٹیوں کی طرح بہت بڑی تعداد میں راتوں رات حملہ کریں گے ۔ حق تو یہ ہے کہ افغاں قوم برابر فتح یاب ہوگی۔

عرب لوگ بھی پہاڑوں، جنگلوں اور بیابانوں سے آجائیں گےاور عام مسلمان بھی اسلام کی حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

اٹک کا دریا کفار کے خون سے تیسری دفعہ بھرے گاکہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔

پنجاب کے شہر لاہور کے شہری اور بنوں ڈیرہ جات کے بہادر قبائل کشمیر پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیں گے۔

افغانی ، دکنی اور ایرانی ، بلوچستان کے لوگ مل کر تمام ہندوستان کو مردانہ وار فتح کرلیں گے۔

اللہ کے لطف و کرم سے ایک کینہ پرور ہندو بنیاجس کا نام "گ” سے شروع ہوتا ہے اور چھ حروف پر مشتمل ہے، مسلمان ہوجائے گا۔

تمام ہندوستان کفر سے پاک ہوجائے گااور مسلمان اللہ کے فضل اور مہربانی سے خوش ہو جائیں گے۔

تشریح: یہ سب اشعار غزوۃ الہند کے دوران پیش آنے والے مختلف حالات و واقعات کی پشین گوئی کرتے ہیں، کشمیر آزاد  ہوگا  اور آخر میں ہندکے کفر سے پاک ہوجانے کی نوید بھی ہے۔

ہندوستان کی طرح یورپ کی قسمت بھی خراب ہو جائے گی اور پھر از سر نو تیسری جنگ شروع ہو جائے گی۔

جب ترک ایسی خوشخبریاں سنیں گے تو وہ سب باب استنبول پر جمع ہوجائیں گے۔

سب سے پہلے فرانس کو تباہ کریں گے اور اس کے بعد انگلستان اور اٹلی کے ساتھ جنگیں کریں گے۔

یہ لڑائی چھ سال تک جاری رہے گی۔ سلطان اور غازی مسلمان قربان ہوکر اپنا خون بہائیں گے۔

ایک الف بد لگام گھوڑے کی طرح سیدھا ہو کر شریک جنگ ہوگااور "ر” الف مغربانہ پر حملہ کردے گا۔

تشریح: روس، امریکہ پر  حملہ آور ہوگا۔انگلستان بھی تیسری عالمی جنگ میں شریک ہوگا۔

شکست خوردہ جیم روس کے ساتھ شریک ہوگا اور جہنمی اسلحہ آتش فشاں ساتھ لائے گا۔

تشریح: جاپان جو کہ امریکہ سے شکست خوردہ ہے وہ روس کا ساتھ دیتے ہوئے ، جنگ میں شامل ہوجائے گا۔

"الف” دنیا سے اسطرح مٹ جائے گاکہ اس کا ایک لفظ بھی صفحہ ہستی پر سوائے تاریخ کے باقی نہ رہے گا۔

تشریح: متحدہ ہائے ریاست امریکہ کا وجود دنیا سے مٹ جائے گا۔ اس کی ریاستیں کا اتحاد ٹوٹ  جائے گا ۔ تاریخ کے علاوہ امریکہ کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔

غیب سے ایسی سزا ملے گی کہ کوئی ان سے بات کرنے کا روادار بھی نہ ہوگا۔ ان کا عیسائی تمدن پھر کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔

تشریح: اللہ تعالی کی طرف سے امریکہ  کو ایسا نشان عبرت بنا دیا جائے گا کہ  کوئی ان سے سفارتی تعلقات بھی نہیں رکھنا چاہے گا۔ عیسائیت کا جو پرچار ذرائع ابلاغ کے ذریعے کررہے ہیں، یہ سب ختم ہو جائے گا۔ قبروں پہ پھول رکھنا، ایک منٹ کی خاموشی، مرنے والے کی یاد میں موم بتیاں جلانا جیسے کام ختم ہوجائیں گے۔

ان بے ایمانوں نے پوری دنیا میں فتنہ و فساد برپاکررکھاہوگا اور بالآخر یہ جہنمی آگ کے شعلوں میں تباہ ہوجائیں گے۔

میں نے سر بستہ راز جو کہ موتیوں کی طرح سے شعروں میں پرو دئیے ہیں مسلمانوں کی فتح  کیلئے غیبی امداد و نصرت کا کام کریں گے۔

اگر ان تمام کاموں جلد از جلد ہوتا  دیکھنا چاہتے ہو اور اللہ کی مدد کے خواہاں ہو
تو خدا کے لئے اللہ کے احکام کی دل و جان سے پیروی کرو۔

جب آئندہ "کان زھوقا” کا سال آئے گا توحضرت  مہدی مسند مہدیانہ پہ جلوہ افروز ہوں گے۔

امید ہے کہ یہ چند اشعار کا ترجمہ و تشریح کافی ثابت ہوگا۔ تقسیم پاکستان سے لیکر حضرت مہدی کے ظہور  اور کشمیر کی آزادی سے لیکر متحدہ ہائے ریاست امریکہ کے خاتمہ، روس، جاپان، انگلستان، افغانستان، پاکستان کے مستقبل کی تمام پشین گوئیاں دہلی کے علاقے میں بیٹھ کر لکھنا بلاشک و شبہ  اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ تعلق اور اللہ کی خصوصی رحمت کو واضح کرتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!