اسلام میں تعطیل کے بارے تعلیمات

اسلام میں تعطیل کا کوئی تصور نہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی حکم دے رہے ہیں کہ

"جمعہ کی نماز ادا کرکے، زمین پہ اپنے رزق کی تلاش میں پھیل جاؤ”

اللہ تعالی حکم دے رہے ہیں کہ جمعہ کی نماز ادا کرکے زمین پہ اپنے رزق کی تلاش میں پھیل جاؤ۔ تعطیل سے معاشی نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے جمعہ کی نماز کیلئے معاشی سرگرمیاں معطل کرکے وقفہ کرنے کا حکم دیا اور باقی وقت اپنے رزق کی تلاش کا حکم دیا۔ یعنی چھٹی کیلئے اسلام نے کوئی ایک دن مخصوص نہیں کیا۔ کفار کے مشابہ ہفتہ یا اتوار کی تعطیل بالکل بھی جائز نہیں۔

حج بدنی و مالی عبادت ہے۔ حج کے دوران تجارت کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں واضح احکامات ہیں کہ روزی کی تلاش کرنا منع نہیں۔

"تم کو اس میں ذرا بھی گناہ نہیں کہ )حج میں( معاش کی تلاش کرو، جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے”

اس سے بھی بڑھ کر اگر عام تعطیل میں سارے ملک میں ہی  کوئی تجارتی سرگرمی نہ ہو تو قومی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ جبکہ ایک بندہ ہفتے کے سات دنوں میں سے پانچ یا چھ دن کام کرتا ہے اور چھٹی والے دن وہ گھر میں بجلی کا کام کروانا چاہتا ہے یا  گھر کی کوئی مشین ٹھیک کروانا چاہتا ہے تو چھٹی کے باعث وہ کام نہ ہوسکے گا۔ اب اگر وہ شخص اپنی نوکری یا کاروبار سے چھٹی کرکے گھر کا کام کروائے گا، جس سے اس کی آمدن متاثر ہوگی۔

جبکہ اگر دیکھا جائے تو حساس اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، موٹروے پولیس، فوج، رینجرز وغیرہ میں عام تعطیل نہیں ہوتی۔ بلکہ ان محکموں کے اعلی افسران کا  عملہ رات کو بھی موجود ہوتا ہے اور ہنگامی صورتحال میں افسران دفتروں میں فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی تعطیل نہیں ہوتی بلکہ میڈیکل سٹور بھی دن رات کھلے ہوتے ہیں۔ عید پہ بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کیلئے مختلف محکموں کا عملہ دن رات موجود ہوتا ہے۔

عیدالفطر اور عیدالضحی کے علاوہ چھٹیاں نہ ہوں۔ البتہ جن علاقوں میں موسم کی شدت، برفباری، سخت ترین سردی کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوجائے، ان علاقوں میں مقامی سطح پہ ضلعی انتظامیہ چھٹی دے۔

قومی دنوں میں تعطیل کرنے کی بجائے کام کرنے کے اوقات کار ایک یا دو گھنٹہ بڑھا لئے جائیں تو ملک کو معاشی فائدہ کرکے ملک سے محبت کا ثبوت دیا جائے۔ جیسے 14 اگست یا 23 مارچ کو پوری قوم ایک یا دو گھنٹہ زیادہ کام کرے۔

دیکھا جائے تو پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تین ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات، سردیوں کی دس دن کی تعطیلات اور ہفتہ، اتوار کی ایک سو سے زیادہ تعطیلات ہی ملا کر سال میں کل دو سو دن سے زیادہ تعلیمی سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ جبکہ گرمیوں میں تعلیمی اداروں کے اوقات کار کو علی الصبح سے شروع کرکےجلدی چھٹی دے دی جائے۔ سخت گرمی / سردی کی صورت میں حسب ضرورت چھوٹے نونہال بچوں کو چھٹیاں دے دی جائیں ۔ دوسرے سرکاری اداروں میں سال میں ایک صد سے بھی زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ جس سے ملک کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔

رمضان المبارک میں دن کے وقت کام کے اوقات کو کم کیا جاسکتا ہے، تاکہ روزہ داروں کو آسانی ہوسکے۔ آخری عشرے میں اوقات کار نصف کردئیے جائیں۔ تاکہ مسلمان اللہ کی عبادت کرکے اللہ کا قرب حاصل کرسکیں۔سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!