اسلامی معاشی نظام اور اس کے اثرات

عالمی سطح پہ اسلامی معاشی نظام کو تمام دیگر معاشی نظاموں پہ اعلی فوقیت حاصل ہے۔ کیونکہ اسلام کا معاشی نظام ہر سطح پہ معیشت کی تشریح کرتا ہےاور معاشی غلامی سے آزادی دلاتا ہے۔ اس کا اندازہ ہم اس سے لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے غلام کے نظرئیے کی کمر توڑ دی اور صدیوں سے چلے آتے نظام کو ایسے فلاحی اصولوں سے مزین کیا کہ بالآخر غلام ختم ہوگئے ۔

مسلمان تاجر جب تجارت کی غرض سے دور دراز کے علاقوں کی طرف روانہ ہوتے تو تجارت کے اسلامی اصولوں کی وجہ سے لوگ اسلام سے متاثر ہوتے اور اس طرح اسلام کو اپناتے چلے گئے۔ تاجر حضرات نے اپنے عمل سے تبلیغ اسلام میں اپنا کردار ادا کیا۔ انھوں نے ان منڈیوں کے قریب اپنی رہائشیں بنائیں، شادیاں کیں اور اسلام کے فروغ کیلئے جدوجہد بھی کی۔ یہ تاجرحضرات علماء و مشائخ سے اسلام کے فروغ کیلئے مدد بھی لیتے تھے اور ان کو تبلیغ دین کیلئے  علاقوں کی نشاندہی بھی کرتے تھے۔

اسلامی ریاستوں کی اسلامی احکامات پہ عمل درآمد کرنے کی وجہ سے بھی اسلام کو فروغ ملا۔ جدید مغربی علم سیاسیات میں مونتیسکو کا نام بہت معروف اور اہل مغرب کے نزدیک بہت معتبر ہے۔ موونتیسکو اپنی متعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف  لکھتا ہے۔

“It was the excess of the taxes that occasioned the prodigious facility with which the mohametans carried on their conquests. Instead of a continual series of extortions devised by the subtle avaice of the Greek emperors, the people were subjected to a simple tribute which was paid and collected with ease. Thus they were far happer in obeying a barbarous nation than a corrupt government in which they suffered every inconvenience of lost liberty. (Montesque: The Spirit of Laws, Book 13, Chapter 16, Great Books, v.35, P.100)”

یہ ٹیکسوں کی بہتات ہی تھی جس نے مسلمانوں کو اپنی فتوحات میں زبردست آسانی مہیا کی۔ یونانی بادشاہوں کے  ٹھا ٹھ باٹھ نے لوٹ کھسوٹ کا جو ایک سلسلہ جاری کیا ہوا تھا، اس کے بجائے مسلمانوں نے ان پر ایک معمولی سا  اعزازیہ / جزیہ مقرر کردیا تھا، جسے دینا بھی آسان تھا اور آسان ہی طریقے سے وہ وصول بھی کرلیا جاتا تھا۔ اس طرح  وہ ایک غیر متمدن قوم کی اطاعت میں اس بدعنوان حکومت کے مقابلے میں زیادہ خوش تھے۔ جس نے ان کی  آزادی سلب کرکے انھیں ہر طرح کی مشکلات میں مبتلا کردیا تھا”

اس اقتباس میں مغربی مصنف نے مسلمانوں کو غیر متمدن قوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ ان کے غیر متوازن اور متعصبانہ روئیے کی عکاس ہے۔ شدید متعصبانہ سوچ کے باوجود وہ اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ اسلامی ریاستیں غیرمسلموں سے جو جزیہ وصول کرتی تھی وہ معمولی سا ہوتا تھا اور اسے ادا کرنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی اور جو غیرمسلم آمر بادشاہوں نے لوٹ کھسوٹ مچا رکھی تھی، اس کے مقابلے میں بہت ہلکا تھا۔

وہ یہ بھی ماننے پہ مجبور ہیں کہ کافر حکومتیں بدعنوان تھیں اور عوام کی فلاح سے زیادہ  حکمرانوں کو اپنے ٹھاٹھ باٹھ کا خیال ہوتا تھا۔ جبکہ اسلامی ریاستوں میں رشوت ستانی، بدعنوانی نہ تھی اور نہ ہی بادشاہ عیاش تھے اور نہ ہی لوٹ گھسوٹ کرتے تھے۔یہ تحریر اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اسلامی ریاستوں کی جانب سے صرف شرعی محاصل ہی وصول کئے جاسکتے ہیں، ناجائز وصولی نہیں کی جاتی تھی۔ اسلامی ریاستوں میں امن و امان اور اصول و قوانین کی حکومت ہونے کی وجہ سے بھی اسلام قریب کی ریاستوں یا علاقوں میں پسند کا باعث بنتا تھا اور لوگ اسلامی ریاستوں کے زیر نگیں رہنا پسند کرتے تھے اور اسلامی  ریاستوں کو مدد پہنچاتے تھے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق رواداری اور حسن سلوک بالآخر ان کے مسلمان ہونے کا باعث بنتا تھا۔ اسلام کے متوازن نظام سیاست و حکومت کی وجہ سے ہی غیرمسلم، اسلامی ریاست میں آکر زیادہ عافیت محسوس کرتے تھے اور مسلمانوں کا عدل و انصاف اور ایفائے عہد کے ساتھ ساتھ معاشی نظام بھی اسلامی ریاستوں کی وسعتوں کا باعث بنتا تھا۔

اسلام کا معاشی نظام صرف حکومت میں موجود افراد کی کفالت کیلئے نہیں بلکہ سب سے پہلے غریبوں، یتیموں، بیوگان، بیروزگاروں یعنی حقداروں کی کفالت کیلئے ہے۔ حقداروں کی کفالت کے بعد ایک ریاست کے تمام اخراجات پورے کرنے کیلئے اسلام نے ایک مکمل معاشی نظام عطا کیا ہے۔ اسلام نے اصول مقرر کر رکھے ہیں کہ

"تمام وسائل اور ذرائع خلیفہ یا  امیر کے ہاتھ میں امانت ہیں اور اسے کہاں کہاں خرچ کرنا ہے”

محاصل یعنی حکومتی آمدن کیسے اکٹھی کی جائے گی اور اس کی مقدار کیا کیا ہوگی۔ اسلام میں معیشت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ

” قرآن مجید میں جہاں نماز کا حکم ہے وہاں معیشت یعنی زکوۃ کا حکم بھی آیا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق حصولِ رزقِ حلال، عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے کسی شخص کی محتاجی نہیں ہوتی اور پیسہ ایک جگہ مرتکز بھی نہیں ہوتا”

اسلامی حکومت میں کوئی بھی فرد واحد  یا غیرمتعلقہ ادارہ سوائے حکومت کے زکوۃ، فطرانہ، فدیہ، عشریا ٹیکس وغیرہ اکٹھا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی ادارہ یا فرد واحد ،کسی فیکٹری کو کہے  کہ مجھے اتنا ٹیکس ادا کرنا ہے ۔ جو کہ جائز نہیں ہے۔ محکمہ بیت المال کے عاملین/ ملازمین کے ذریعے شرعی محاصل کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو اس کے عوض تنخواہ دی جاتی ہے۔

البتہ محاصل کی وصولی کا نظام بہتر اور موثر ہونا چاہئے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کی بچت پہ شرعی محاصل وصول کریں، جیسا کہ اسلام میں ہے۔ لیکن ہم فلاح کی طرف جا  نہیں رہے۔ اسلام حکومت کو ہی یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ہر صاحب نصاب سے زکوۃ و عشر و دیگر شرعی محاصل وصول کرے۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ تاریخ دعوت و عزیمت جلد اول صفحہ ۳۷ پہ لکھتے ہیں کہ یمن کے حاکم نے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو اطلاع دی کہ اگر ان کی ہدایات کے مطابق زمین کی پیداوار کا صرف شرعی حصہ وصول کیا جائے تو آمدنی بہت کم ہو جائے گی۔ اس کے جواب میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے لکھا کہ فصل کے مطابق رقم وصول ہونی چاہیے خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ سارے یمن سے صرف ایک مٹھی غلہ وصول ہو، میں اس پر راضی ہوں۔ آپ نے چونگی ساری مملکت سے ختم کر دی اور عمال کو لکھا کہ وہ نجس ہے اور نام بدل کر اس کو جائز نہیں بنا یا جاسکتا۔ چند شرعی محاصل کے علاوہ ہر طرح کے ناجائز محاصل اور بیسیوں ٹیکس جو سابق فرمانرواؤں اور عمال حکومت نے ایجاد کیے تھے، انہوں نے مکمل طور پہ ختم  کر دئیے۔

اسلام معاشرے میں توازن لانے کے اصول عطا کرتا ہے۔ اسلام ہر ایک کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ آمدن کے ذرائع کا تعین بھی کرتا ہے اور اخراجات کی حدود بھی تعلیم فرماتا ہے۔ ہر معاملے میں، ہر جگہ اور ہر وقت رہنمائی کرتا ہے۔ کسی دوسرے  نظام  میں” اخلاقیات  اور احساسات” کا درس نہیں ملتا۔ اسلام حسن اخلاق اور فلاح انسانیت کا درس دیتا ہے۔اسلام کسی طرح سے بھی ارتکاز دولت کی تعلیم نہیں دیتا۔

فلاحی اداروں یا مدارس کے ذریعے زکوۃ و عشر کو اکٹھا کرنے کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلامی معاشی نظام کی جگہ انگریزوں نے اپنی مرضی کا غیر اسلامی معاشی نظام نافذ کیا۔ اس وقت علماء نے تعلیمی اداروں کیلئے زکوۃ و عشر اکٹھا کرکے مسلمانوں کے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق پاک کرنے کا طریقہ اختیار کیااور اس کو شرعی حدود کے مطابق حقداروں تک پہنچایا۔ جب شرعی محاصل اکٹھا کرنے والی اسلامی حکومت موجود نہ تھی، یہ اس وقت کے حالات کے مطابق درست اقدام تھا۔ اسلامی ریاست میں فلاحی ادارے صدقات کے ذریعے چلائے جاسکتے ہیں۔ جیسے ایدھی ، چھیپا اور ان جیسے بہت سے دوسرے فلاحی ادارے معاشرے میں  بہت مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اپنے والدین، بیوی بچوں کے علاوہ رشتہ داروں، ہمسائے سب کا خیال رکھو۔ بیوی بچوں کی کفالت کرنا بھی صدقہ ہے۔ یعنی اللہ کریم اس پہ بھی صدقہ کا اجر عطا فرمائیں گے۔ اسلام کہتا ہے کہ معاشرے میں ہمسائے، دوستوں کے علاوہ دوسروں کے حالات سے واقفیت رکھو کہ کسی پر تنگ دستی تو نہیں، اس کی مدد کرسکو تو کرو۔اسلام معاشرے کے ہر فرد میں احساس  پیدا کرتا ہے، ترغیب دیتا ہے لیکن مجبور نہیں کرتا اسی لئے صدقہ دینا نفلی عبادت ہے۔

اسلام معاشی فلاح کی  ذمہ داری حکومت پہ ڈالتا ہے لیکن ہر شہری  کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ ایک دفعہ نبی کریمﷺ نے حضرت عثمان غنی کی جانب کسی حاجت مند کو بھیجا کہ وہ تمہیں گھر کا سودا سلف دے دیں گے۔ جب وہ شخص پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضرت عثمان غنی اپنے غلام کو اس بات پہ ڈانٹ رہے ہیں کہ تیل کا پیمانہ تیل کے کنستر میں ڈبو کر تیل کی پیمائش کرنے سے دوسرے برتن میں پیمانے کے ساتھ لگا ہوا تیل بھی چلا جاتا ہے۔ اس لئے پہلے کسی دوسرے برتن سے پیمانے میں ڈالو۔ پھر دوسرے برتن میں الٹاؤ۔ حاجت مند وہیں سے واپس لوٹ گئے اور جا کر نبی کریمﷺکی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔نبی کریمﷺ نے دوبارہ جا کر حاجت بیان کرنے کا فرمایا۔وہ دوبارہ حضرت عثمان غنی کے پاس آئے اور آنے کا مقصد بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تو غلہ وغیرہ موجود نہیں لیکن رکو ایک قافلہ آنے والا ہے۔ اتنے میں اطلاع آئی کہ قافلہ مدینہ منورہ میں داخل ہوگیا ہے۔  آپ نے حکم دیا کہ پہلا اونٹ اس شخص کو دے دو۔خادم نے عرض کی کہ وہ باقی اونٹوں کا سردار ہے اور باقی اونٹ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ پھر سارا قافلہ ہی دے دو۔ سبحان اللہ ۔۔۔ پہلے والا معاملہ ان کا کاروباری انداز تھا۔ جس میں وہ ہر طرح کی احتیاط ملحوظ رکھے ہوئے تھے اور ناپ تول پورا کررہے تھے۔ نہ زیادہ اور نہ کم لیکن دوسرا معاملہ اللہ کی خوشنودی کا تھا اور اللہ کی خوشنودی کا کوئی موقع صحابہ اکرام  ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ یہ اسلام کی سنہری  تعلیمات کی ایک جھلک ہے۔

اسلامی معاشی نظام کے ساتھ آنے والی برکات  کا ہم ایک باب میں اندازہ ہی نہیں لگا سکتے ۔آج کل کے معاشی نظاموں میں آپ کو صرف پیسہ کمانا اور اکٹھا کرنا سیکھایا جاتا ہے۔ خرچ کرنے کا کمانے والے کو اختیار ہے کہ وہ جیسے مرضی زندگی گزارے۔ وہ  شراب پیئے یا زنا کاری اور عیاشی میں خرچ کردے۔ آج کل کے سماجی ذرائع ابلاغ اور فور جنریشن وار کے ذریعے ایسی ترغیبات دی جاتی ہیں، جو کہ معاشرے میں بگاڑ اور عدم توازن کا سبب بنتا ہے۔ ذرائع ابلاغ پہ اشتہارات کی بھرمار نے جہاں سرمایہ داروں کی اجارہ داری بنا دی ہے وہاں کم آمدنی والے احساس کمتری کا شکار بھی ہورہے ہیں۔جبکہ اسلام ذرائع آمدن اختیار کرنے میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور خرچ کرنے میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔

اسلامی معاشی نظام کی مکمل بحالی سے ہمارے سارے کام بطریق اَحسن انجام پاسکتے ہیں۔ مسلمان اپنے ممالک کے اقتصادی نظام کو بطریق اَحسن قرآن و سنت کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق چلا سکتے ہیں۔ بلکہ مسلمان دنیا کو پھر سے امن و توازن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!