قرآن و حدیث

قرآن مجید کلام الہی ہے اور سنت وہ افعال ہیں جو کہ اللہ کے آخری رسولﷺ نے پسند فرمائے یا کرنے کا حکم دیا۔ قرآن و سنت ہی صراط مستقیم ہے۔ ہر چیز کو اللہ کریم کے علوم نے گھیر رکھا ہے۔ اور نبی کریمﷺ واحد ذریعہ ہیں مخلوق اور خالق کے درمیان جو ہمیں بتاتے ہیں کہ خالق کائنات کی بندگی کس طرح کی جائے گی۔ نبی کریمﷺ  کے فرمان عالی سے ہی ہمیں پتہ چلا یہ قرآن ہے یا حدیث  ہے۔ آپ ﷺنے جوفرمایا وہی حق ہے۔  اصدق الصادقینﷺ۔ قرآن مجید کیا ہے؟۔۔۔ جو نبی کریم ﷺنے بتایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور کتاب اللہ کی آیت ہے۔ کوئی گواہ نہیں کہ میں سن رہا تھا یا دیکھ رہا تھا کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔ قرآن مجید کی فضیلت یہ بھی ہے کہ چار الہامی کتابوں میں سے صرف قرآن مجید ہی کلام الہی ہے۔ باقی صحیفے اور کتابیں الہامی ضرور ہیں اور ان میں بھی احکامات الہی ہی تھے لیکن  وہ کلام الہی نہیں۔ باقی الہامی کتابیں اپنی اصل حالت میں نہ رہیں، اگر وہ اللہ کا کلام ہوتیں تو وہ اپنی اصل حالت میں قائم و دائم رہتیں وہ بھی قرآن مجید کی طرح الہامی کتب ہی ہیں، لیکن کلام ذات باری تعالی صرف قرآن مجید ہے۔ ایسے ہی الہامی کتب یا انبیاء و  رسل  کی رسالت پوری انسانیت کے لئےنہ  تھیں بلکہ مخصوص خطہ یا قوم کے لئے ہوتی تھی لیکن آخری نبی و رسول محمد ﷺ کی رسالت تمام کائنات کے لئے ہے ۔ چونکہ صرف اللہ کی ذات کو دوام ہے اور اسی طرح اللہ  کا کلام بھی دائمی ہے۔ایسے ہی قرآن مجید جس ماہ میں نازل ہوا وہ اعلی ترین مہینہ، جس دن نازل ہوا وہ لیلۃ القدر کا دن قرار پایا، یعنی سال کا افضل ترین دن۔ نبی کریم ﷺ کے قلب اطہر پہ نازل ہوا وہ اشرف المخلوقات میں سے بھی افضل ترین ہیں، جو فرشتہ لے کر آتا تھا وہ فرشتوں میں افضل ترین، جس امت پہ نازل ہوا وہ امتوں میں افضل ترین۔ جس دن کی ابتدا کلام الہی کی تلاوت سے ہوتی ہے، وہ دن اس انسان کے لئے بہترین دن ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی واضح فرمارہے ہیں کہ

” میرے نبی ﷺ اپنی مرضی سے کوئی حکم نہیں دیتے”

یعنی نبی کریم ﷺ کا حکم دراصل اللہ کا ہی حکم ہے۔ قرآن مجید میں فرائض نبوت اللہ تعالی نے بیان فرمائیں ہیں کہ میرے نبی ﷺ میرا کلام یعنی احکامات الہی مخلوق تک پہنچاتے ہیں، ان کا تزکیہ فرماتے ہیں اور علم و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

جو بھی اللہ کی مرضی  سے ہٹ کر کیا جاتا ہے، وہ ظلم ہے۔کیونکہ ہر معاملے میں اللہ کے رسول ﷺنے   ہماری رہنمائی کی۔ ایک بچے کی پیدائش سے لیکر اس کے مرنے تک کے تمام معاملات میں کیا کیا کرنا ہے ،اللہ نے محمد رسول  اللہﷺکے زریعے وہ سب علوم عطا کردئیے۔   صحابہ اکرام میں اکثریت اہل عرب کی  تھے اور ان کی مادری زبان عربی ہی تھی۔ لیکن وہ بھی فرماتے تھے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ ہی رموز و اسرار سے واقف ہیں۔  پھر نبی کریم ﷺ نے عملی طور پر صحابہ اکرام کی زندگیاں قرآن مجید کے مطابق ڈھال دیں۔ اس لئے قرآن مجید کے پہلے مخاطب بھی امت مسلمہ میں افضل ترین یعنی صحابہ اکرام ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید کی تفسیر احادیث مبارکہ کے بغیر ممکن نہیں تو صحابہ اکرام کے روزمرہ کے افعال کے مطالعہ کے بغیر بھی ممکن نہیں کیونکہ صحابہ اکرام ہی وہ ہستیاں ہیں جن پہ نبی کریم ﷺ نے اسلام کو نافذ کیا اور ان کی تربیت کی، ان کی رہنمائی کی، ان کے افعال کو پسند یا نا پسند فرمایا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!