فقہ کے ماخذ اور استنباط مسائل

فقہ اسلام سے باہر یا اسلام کے بعد  کسی نئی ایجاد کا نام نہیں ہے۔ بلکہ عوام الناس کی سہولت کے لئے قرآن و سنت سے تمام احکامات کو مرتب کرنا،فقہ کا کام ہے۔ ہر سوال کا جواب فقہ کے ذریعے باآسانی مل جاتا ہے۔ فقہء اسلامی / شریعت کے ماخذ دو ہی ہیں۔ اول کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور دوم قرآن حکیم کی وہ تعبیر جو نبی آخر الزماں ﷺنے اپنے قول و فعل سے پیش کی۔ حالات کے بدلنے سے ہر دور میں مختلف مسائل کا حل قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں اخذ کرنا ، ہردور کی بنیادی ضرورت رہی ہے۔ استنباط مسائل کے لیے دو صورتیں اختیار کی گئیں، جن کے اصطلاحی نام اجماع اور قیاس ہیں۔ چاروں ذرائع سے مسائل کو حل کرنے کا فن ہی "فقہ” قرار پایا۔

اجماع    :         یعنی جو مسئلہ قرآن و سنت سے مستنبط ہو اور اس پر صحابہ یا فقہاء کا اجماع ہو۔ ایک زمانہ کے سب علماء و مشائخ کا کسی مسئلہ پر متفق الرائے ہوجانا، ایسی صورت میں وہ مسئلہ "قطعی الثبوت” ہوجاتا ہے اور اس کو صحیح سمجھنا واجب ہو جاتا ہے۔

قیاس    :        جو مسئلہ قرآن و سنت کے بعد اجماع میں بھی نہ پایا جائے ۔ مگر اس سے ملتا جلتا کوئی مسئلہ موجود ہوتو اشتراک علت کی بناء پر نئے پیدا شدہ مسئلہ کا حل نکالناقیاس ہے۔جبکہ  قیاس سے مراد ہر گز یہ نہ ہے کہ اٹکل پچو لگا لیا جائے۔ بلکہ اس کے تین رکن ہیں۔ مقیس ،مقیس علیہ اور اشتراک علت۔

علماء اسلام نے انفرادی اور اجتماعی طور پر مسائل کا استنباط کرکے ہی مختلف کتب کی تدوین کی۔ اصطلاح شرع میں فقہ کا مفہوم شرعی احکام کا علم ہے جو قرآن و سنت سے اخذ کیے گئےاور قرآن و سنت کی روشنی میں استنباط کیا گیاہو۔ تمام مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ اصول و ضوابط بنائے تاکہ امت مسلمہ قرآن و سنت کی روشنی میں تمام مسائل کو حل کرسکے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!