فقہ کا دائرہ کار

فقہ کا دائرہ کار، انسان کے مالہ، و ماعلیہ یعنی حقوق و فرائض انسانی ہے۔حقوق میں حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔

حقوق اللہ

حقو ق اللہ میں ایمانیات، عبادات مثلا نماز، روزہ، حج اور زکوۃ  وغیرہ ۔

حقوق العباد

۱۔ مناکحات   :      اس میں نکاح ، طلاق، عدت ،نسب، نان و نفقہ، پرورش اولاد، حق ولدیت، وصیت، وراثت وغیرہ

۲۔تعزیرات  :    قتل ، چوری، زنا، شراب، جوا، قذف، قصاص، دیت، قید وغیرہ ۔

تعزیرات کی آگے دو قسمیں ہیں ۔ اول حدود، دوم تعزیر

۳۔معاملات  :      خریدو فروخت، ہبہ ، امانت ، ضمانت، شرکت، مصالحت، ناجائز قبضہ، دھوکا، اتلاف مال وغیرہ

الغرض فقہ میں انفرادی اور اجتماعی اور حکومتی ، تمام معاملات کو شعبوں کے لحاظ سے الگ الگ کرکے قرآن و حدیث میں بیان کردہ احکامات کے مطابق وضاحت بھی کی گئی ہے۔ اسلام فرائض و حقوق کی حدود کے تعین کے لئے قوانین کے مجموعے کا نام ہے۔ زندگی کے جتنے شعبے نکلتے ہیں انہیں کے اعتبار و تناسب سے اسلامی قوانین کی اقسام بھی نکلتی ہیں۔ اجمالی طور پر قوانین کی تین قسمیں ” فکری، اخلاقی اور عملی”۔ یہ اقسام تمام قوانین کا احاطہ کرتی ہیں۔  تفصیل کے لئے حقوق العباد میں قانون معاشرت، قانون معاش، قانون تمدن، قانون سیاست ہیں۔ پھر ان کی بہت سی اقسام نکلتی ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کے نفاذ سے ہی معاشرے میں توازن آتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!