فقہ کا اختیار کرنا

تابعین کے دور سے لیکر خلافت کے تسلسل کے رکنے تک،فقہ کو اختیار کرنے کے معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ملتا، نہ ہی مسلکی تعصب نظر آتا ہے۔ البتہ جید علماء کے درمیان کچھ مسائل پہ اختلاف رائے پایا جاتا تھا، جو کہ اعلی سطح پہ ہی رہتا تھا۔ قابل تغیر احکامات میں ہی فقہاء میں ترجیحی اختلاف ہوا ہے کہ فقہاء دلائل دیتے ہیں کہ  ایسا کرنا زیادہ بہتر ہے، جبکہ دوسرے فقہاء دلائل دیتے ہیں کہ ایسا کرنا زیادہ بہتر ہے۔ یہ بحث بلاشک و شبہ بہتری کیلئے ہی ہوتی ہے اور امت مسلمہ میں فقہاء نے اسے تحقیق کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔ جب بھی اختلافی یا ترجیحی اختلافات منبر یا جلسوں تک پہنچے، مسلکی تعصب اور فرقہ واریت کا سبب بنے اور اس کا امت مسلمہ کو شدید نقصان ہوا۔

قابل تغیر احاکامات میں ہی عقل سلیم کواصول شریعت کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی اجازت اسلام دیتا ہے۔ اسلام نے "مباحات” میں اکثر معاملات کو عقل انسانی اور حالات کے تقاضوں کے مطابق فیصلوں پہ چھوڑا ہے۔ اسلام میں جہاں اصول سیاست کے کچھ احکامات ناقابل تغیر ہیں، وہیں بہت سے معاملات کا طریقہ کارحالات و واقعات  کے تقاضوں  کے مطابق متعین کیا جاسکتا ہے۔ جیسے اہل شوری کی تعداد کاتعین، محکموں کی تعداد کا تعین،  محکموں کے کام کرنے کا طریقہ کار، وزراء کی تعداد کا تعین وغیر وغیرہ۔ البتہ مباحات کے معاملے میں  اگر حکومت عمل کرنے کا کوئی طریقہ دے تو وہ واجب ہوجاتا ہے۔ مثلا ٹریفک قوانین میں سرخ بتی پہ رکنا اور سبز بتی پہ روانہ ہونے  کا قانون۔ ریاست کے قوانین پہ ہر شہری کا عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

تاریخ میں غیر مقلد علماء اکرام بھی گزرے ہیں۔ یہ علماء اکرام فرقہ پرستی میں ملوث نہ ہوتے تھے۔ بلکہ درس و تدریس،  تبلیغ و اصلاح اور تزکیہ کے احکامات کے مصداق، یہ عظیم ہستیاں تاریخ اسلام کا سرمایہ ہیں۔ انھوں نے عالم اسلام کو چاروں فقہ کو مدنظر رکھ کر تحقیقی خدمات دی ہیں۔ لیکن فقہ کے انکار کا کوئی ثبوت ان سے  نہیں ملتا۔ انھی غیرمقلد حضرات میں سے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ مولانا عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔ جبکہ ان کے بعد سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ، مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کے مقلد تھے۔  سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ  میں ہر فقہ کے مقلدین کے ساتھ ساتھ غیرمقلدحضرات بھی ہیں لیکن فقہ حنفیہ کے مقلدین بکثرت ملتے ہیں اور ان کے مابین کوئی اختلافات نہیں ملتے۔ تاریخ میں ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہے کہ  امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے قریب کے علاقے سے گزرے تو انھوں نے بھی رفع یدین نہ کیا کہ یہاں فقہ حنفی رائج ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر فقہی تحقیق میں اعتدال اور خلوص نہ ہوتا تو امت مسلمہ کبھی استنباط مسائل پہ اکٹھی نہ ہوسکتی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!