فقہ کا آغاز

حدیث مبارک کی رو سے صحابہ کا زمانہ پانے والے تابعین، امت مسلمہ میں صحابہ کے بعد بہترین قرار پائے اور ان کے بعد تبع تابعین۔ تابعین کے دور میں یونان کا علاقے سےعلم و فلسفہ آیا تو مسائل کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ مرتب کرنا شروع کئے گئے۔ اس طرح فقہ کی بنیاد پڑی۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روزمرہ بیشمار مسائل ابھرتے ہیں یا پیش آتے رہتے ہیں۔ ان مسائل کا حل معلوم کیے بغیر خوشگوار زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ فقہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس فطری ضرورت کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔  تابعین نے ہی یہ ضرورت محسوس کرلی کہ تمام اسلامی احکامات کو محفوظ کرلیا جائے۔قرآن و سنت کے تمام قانون اور احکامات اور ان کی ترتیب اور حدود کی تشریح ہمیں فقہ کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ یہ فقہاء عظام کا ہم پہ احسان ہے کہ انھوں نے احادیث اور ان سے مسائل کا حل اخذ کرکے محفوظ کردیا۔

صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  جیسے جیسے دنیا سے پردہ فرماتے گئے اور جو صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین رہ گئے وہ بھی ضعیف ہوگئے تو اس امر کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ جو احکامات و ہدایات نبی کریمﷺ سے صحابہ نے حاصل کی ہیں، وہ سب مرتب کیا جائے۔ فقہ کی ضرورت، صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  کے دور کے آخری سالوں میں ہی محسوس کی جانے لگی، جب لوگوں کے سوالات نے جنم لیا تو اس وقت کے جید علماء نے  اٹھنے والے سوالوں یا مسائل کے حل تجویز کئے۔ بعد ازاں ان مسائل کے جوابات کو مرتب کرنا  شروع کیا گیا تاکہ مسائل کے حل کو لے کر امت مسلمہ میں انتشار نہ پھیل سکے۔ ابھی تو سینہ بہ سینہ یہ علوم مل رہے ہیں اور اٹھنے والے سوالوں کے جوابات بھی مل رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ سب کچھ مرتب نہ ہوا تو  کہیں امت میں مسائل کو لیکر انتشارنہ  پھیل جائے۔ ظاہری سی بات ہے کہ قرون اولی کے پائے کے علماء ہر دوور میں نہ ہوں گے۔ امام ابوحنیفہ  کے اکثر بیانات میں ملتا ہے کہ

"ہم یہ اس لئے مرتب کررہے ہیں کہ  پیش آنے والے مسائل کے پہلے ہی جوابات دے دئیے جائیں”

سب سے پہلے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ذہن اس طرف گیا اور ایسے فقہ کے کام  کا آغاز ہوا۔ آپ نے یہ کام  ۴۰ علماء کے ساتھ مل کرکیا۔ اس دوران تنخواہیں اور دیگر ا خراجات آپ نے اپنی گرہ سے اداکئے۔ ایسے ہی امام مالک نے مدینہ منورہ میں "موطا” مرتب کی۔ جس میں احادیث بیان کرکے فقہی انداز میں یہ سمجھاتے ہیں کہ صحابہ اکرام نےاس حدیث پہ کیسے عمل کیا اور  نبی کریم ﷺکو پسند ہوا۔ امام شافعی کی مرتب کردہ کتابوں میں  "کتاب الام”  ہے اور آپ  کے شاگرد امام بخاری بھی احادیث کو فقہی ترتیب میں "صحیح بخاری” کے نام سے  مرتب کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں عوام میں صحیح بخاری کو صرف احادیث کی کتاب سمجھاجاتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!