عہد صحابہ میں فقہ

صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین براہ راست نبی کریمﷺ سے تربیت یافتہ تھے ۔چونکہ ہر شخص کی فطری استعداد اور فطری میلان مختلف ہوتا ہے ۔ کسی ایک زمانہ میں، کسی بھی مقام پہ ایک جیسی صلاحیتوں، استعداد اور میلان کے دو افراد نظر نہیں آئیں گے۔ اس لیے چند صحابہ امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان میں خلفاء راشدین اور عبادلہ یعنی عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ اجمعین شامل ہیں۔ اسلامی سلطنت میں وسعت کے ساتھ ساتھ عبادلہ صحابہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔

مکہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

مدینہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

کوفہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

مصر میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فقہ اسلامی کی مجسم درسگاہ بنے۔

ان اصحاب کے علاوہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق، امیر المومنین حضرت علی، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت زید بن ثابت سے فتاوی کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت جابر، حضرت ام سلمہ، حضرت معاذ ابن جبل، حضرت انس، حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابوہریرہ، حضرت طلحہ، حضرت عثمان غنی، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عمران بن حصین، حضرت ابوموسی اشعری، حضرت ابوبکرہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت سلمان فارسی، حضرت امیر معاویہ سے بھی بکثرت فتاوی جات ملتے ہیں۔ ان حضرات کے فتاوی جات اس کثرت سے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے ہر صحابی کے مسائل و فتاوی جات کئی کئی ضخیم جلدوں میں تیار ہوسکیں۔ ابوبکر محمد بن موسی نے صرف حضرت عبداللہ بن عباس کے فتاوی بیس جلدوں میں جمع کئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک سو بائیس صحابہ اکرام ایسے ہیں کہ کسی کا ایک، کسی کے دو، کسی کے چار فتاوی کے آثار ملتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

"جو آدمی کسی کے طریقے کو اختیار کرنا چاہےتو اسے چاہئے کہ وہ ان لوگوں کا طریقہ اختیار کرے جو دنیا سے جاچکے ہیں اور وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ہیں جو کہ اس امت میں سب سے بہترین اور سب سے زیادہ نیک دل اور سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف برتنے والے تھے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لئے اور اپنے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لئے چن لیا  ہے۔ لہذا ان جیسے اخلاق اور ان جیسی زندگی گزارنے کے طریقے اپنا۔ رب کعبۃ اللہ کی قسم، نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ ہدایت مستقیم پر تھے”

سبحان اللہ ۔۔۔  مزاج صحابہ کو کیا کمال بیان فرمایا۔

” حق تو یہ ہے کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  نے دین پہ عمل کرنے اور اس کو پھیلانے کا حق ادا کیا”

اللہ کے نبی ﷺسے سیکھنے والے لوگ جو کہ انبیاء کے بعد تاریخ دنیا کے بہترین انسان ہیں ۔جنھوں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار فرمایا۔ آپ ﷺکے ساتھ نشستیں کیں اور آپ ﷺکے ساتھ وقت گزارا۔ آپ ﷺکے ساتھ سفر کیا۔ آپ ﷺکے زیر کمان جہاد کیا۔ آپ ﷺسے سیکھا۔ آپ ﷺکی زبان مبارک سے قرآن و حدیث کو سنا۔ کیا ہی خوش نصیب لوگ تھے۔  آپ ﷺنے فرمایا۔

” سب سے بہتر دور میرا اور پھر میرے صحابہ کا ، پھر تابعین کا ، پھر تبع تابعین کا”

ایک موقع پہ فرمایا۔

"میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ جس کی بھی پیروی کرو گے فلاح پا جا گے”

ایسے ہی  حکم فرمایا۔

"علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء راشدین
"تمہارے اوپر میری اور خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے"

یعنی خلفاء راشدین کے دور میں جو بھی فیصلے ہوئے ، وہ جید صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  کے اتفاق رائے سے ہوئے اور وہ بھی سنت ثانیہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بعد سب سے زیادہ صحابہ کے عمل کو فقہ میں اہمیت حاصل ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!