علم سیاسیات پہ فقہی کتب

اموی اور عباسی دور میں جب اسلامی حکومت  اپنے کمال پر پہنچ گئی اور اس زمانہ کی معلوم دنیا کا بڑا حصہ سلطنت اسلامیہ کا حصہ بن چکا تھا۔ اس دور میں امام ابو یوسف نے حکومت کے محاصل، اس کی آمد و صرف، حکام و عہدیداروں کے حدود اور اختیارات اور غیرمسلم رعایا کے حقوق وغیرہ پر "کتاب الخراج” لکھی۔ اس کتاب کو امور سیاست پہ فقہ کی پہلی کتاب کا درجہ بھی  حاصل ہے۔ ابوعبیدبن سلام نے اسلامی مالیات پر "کتاب الاموال” تالیف کی، جو کہ معیشت پہ فقہ کی کتاب ہے۔ قاضی ابوالحسن ماوردی اور قاضی ابویعلی نے اسلامی حکومت کے دستور اور سیاسی نظام پر "احکام السلطانیہ” لکھی۔ ابن قیم جوزی کے نظام عدالت و قضاء پر "الطریق الحکمیہ” تصنیف کی۔ الغرض مختلف شعبوں پہ کتابیں لکھی گئیں۔ ایسے ہی فقہ کی کتابوں میں ان مسائل پر مستقل ابواب ہیں، جن سے بھی اسلامی حکومت کے  نظام کے لئے رہنمائی ملتی ہے۔ یہاں فقہ کا مقصد واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں شعبہ جات کے مطابق احکامات کو ترتیب دینا ہی فقہ کا دائرہ کار ہے۔ خلافت عثمانیہ میں "مجلہ الاحکام العدلیہ” فقہ حنفی کے تحت ایک اہم دستوری دستاویز ہے۔ایسے ہی اورنگزیب عالمگیر نے شیخ نظام الدین برہانپوری کی سربراہی میں چوبیس علماء کی زیر نگرانی، فقہ کی  کتب متون و شروح کی مدد سے امور ریاست میں رہنمائی کے لیے "فتاوی عالمگیری” تیار کروایا۔

اردو میں ایک قابل قدر کتاب بعنوان "اسلام کا سیاسی نظام” مرتبہ مولانا اسحاق سندیلوی نہایت اہم تاریخی دستاویز ہے ،جس میں مغربی طرزِ سیاست و جمہوریت کو دلائل کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے، کو بھی اردو میں اسلامی نظام حکومت پہ ایک مستند و متفق کتاب مانا جاتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!