عہد نبوی ﷺ میں فقہ

نبی کریم ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے معاشرے میں جو مسائل در پیش آتے تھے، ان کا حل وحی الہی کے ذریعے یا نبی کریم ﷺ کے قول و فعل سے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین معلوم کر لیتے تھے۔ اسلام رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے تاکہ نظم،  امن، فلاح و بہبود معاشرے میں برقرار رہے۔قرآن کیا ہے ، نبی کریم ﷺنے کہا کہ یہ قرآن ہے، اللہ کی طرف سے وحی ہے۔تو وہ قرآن ہے۔میرے ذاتی خیال کے مطابق اللہ پہ ایمان لانے سے قبل نبی کریمﷺ کو اللہ کا آخری رسول ﷺ اور سچا مانا جائے تو ہم اللہ پہ ایمان لاسکتے ہیں کیونکہ ہمیں نبی کریمﷺ کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ اللہ ایک ہیں اور وہی عبادت کے لائق ہیں۔ ایسے ہی جو نبی کریم ﷺنے فرمایا، وہ حدیث مبارک ہے۔جو صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  نے کیا اور نبی کریم ﷺنے پسند فرما لیا ، وہ بھی سنت کا درجہ پاگیا۔ جس کام کو کسی صحابی نے کیا لیکن نبی کریم ﷺنے ناپسند فرمایا  یا  منع کردیا وہ ممنوع پاگیا۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا۔

"میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی بھی پیروی کرو گے فلاح پا جا گے”

اور ایک موقع پہ فرمایا

"علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء راشدین
"تمہارے اوپر میری اور خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے"

یعنی خلفاء راشدین کے عمل کو بھی پسندیدگی کا درجہ دیا گیا ہے۔ معاملات سیاست میں خلفاء راشدین کا دور اور طرز عمل  ہمارے لئے سند ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ

"بنی اسرائیل کے معاملاتِ سیاست انبیاء چلاتے تھے ، جیسے ہی کوئی نبی دنیا سے جاتا ، دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔
اب یقینا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہاں خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے”

قرآن و سنت کے مطابق احکامات الہیہ کے علوم کو جاننے والوں یعنی علماء اکرام  کے بارے میں نبی کریم ﷺنے فرمایا۔

"العماء ورثۃ الانبیاء ۔۔۔ علماء،انبیاء کے وارث ہیں”

پہلے انبیاء اکرام  علیہم السلام ہر کام کے کرنے کی حدود و قیود طے فرماتے ہیں اور طریقہ کار مقرر فرماتے تھے۔ علوم نبوت کے وارث علماء قرار دے دئیے۔  عہد رسالت میں نبی کریمﷺ نے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  کو بطور فقیہہ تعینات کیا۔ ان کی تعیناتی اور نبی کریمﷺ کی ہدایات دینے کا منظر ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا۔

"تمہارے سامنے کوئی مسئلہ پیش آئے تو کیا کرو گے؟”

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اللہ کی کتاب کے ذریعے فیصلہ کروں گا”۔

آپ ﷺنے فرمایا "اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو  کیا کرو  گے؟”

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اللہ کے رسولﷺ کی سنت کے ذریعے فیصلہ کروں گا”

آپ ﷺنے فرمایا "اگر اللہ کے رسول ﷺکی سنت میں بھی وہ حکم نہ پاﺅ توکیا کرو گے؟”

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔”

حضور ﷺنے خوشی سے ان کے سینہ پہ اپنا دست مبارک مارااور فرمایا

"تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں ، جس نے رسول اللہ ﷺکے قاصد
کو اس چیز کی توفیق دی جسے اللہ کا رسول ﷺ پسند کرتا ہے۔”

       اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ مسائل میں استدلال کرنا امت مسلمہ کے فقہاء کے لئے جائز ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!