دور تابعین و تبع تابعین اور فقہ

"سب سے پہلے مہاجرین اور انصار اور جنہوں نے ان کی نیکیوں میں اتباع کی اللہ ان سے راضی ہیں اور وہ اللہ سے راضی ہیں”  )القرآن(

قرآن مجید میں صحابہ اکرام کی اتباع کا حکم بہت واضح ہے۔ مہاجرین و انصار نبی کریم ﷺ کے قریب رہے اور نبی کریم ﷺ  کے حکم کے مطابق ہی اپنی صبح و شام کے اعمال سرانجام دیتے رہے، ان کی فضیلت اللہ تعالی خود امت مسلمہ پہ بیان فرما رہے ہیں اور حکم دیا کہ ان کی اتباع کرنا اللہ کو راضی کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ  نے خلفاء راشدین کے اقدامات کو امور سیاست و ریاست میں سنت کا درجہ دیا ہے۔

"علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء راشدین
"تمہارے اوپر میری اور خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے"

ریاست اسلامیہ مدینہ کی حدود میں وسعت کے ساتھ ساتھ، علم و حکمت اور یونانی فلسفے کے فروغ سے نئے نئے مسائل ابھرنے شروع  ہوئے۔ یہ ہر دور میں ہوتا ہے۔ جیسے آج کل دور جدید میں بہت سے معاملات  وضاحت طلب ہیں۔ اس لیے تابعین کے دور میں فقہ کی تدوین کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ تمام سوالوں کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں ضبط تحریر کئے جائیں۔ چار فقہاء کی تحقیق پایہ ء تکمیل تک پہنچی۔ بعد ازاں، ان کے وضع کردہ انداز تحقیق سے ہی ان کے شاگردوں نے مزید تحقیق کو رواں رکھا۔

۱۔       امام ابو حنیفہ ، تابعی                     فقہ حنفی                    ۸۰ھ سے ۱۵۰ ھ

۲۔      امام مالک ،  تابعی                        فقہ مالکی                    ۹۵ھ سے ۱۷۹ھ

۳۔      امام شافعی تبع تابعی                    فقہ شافعی                    ۱۵۰ھ سے ۲۰۴ھ

۴۔      امام احمد بن حنبل، تبع تابعی              فقہ حنبلی                    ۱۶۴ھ سے ۲۶۱ ھ

صرف فقہ حنفی کا ہی  یہ امتیاز ہے کہ یہ کسی فرد واحد کی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ ۴۰ علماء کے کامل غورو خوض اور بحث و تمحیص کے بعد استنباط ہوتا تھا۔ یہ کام ۳۰ برس کی مدت میں انجام کو پہنچا۔ جبکہ باقی تینوں فقہ انفرادی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں زیادہ وضاحت اور وسعت علم موجود ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!