اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی احادیث

پاکستان ہند کے خطے میں ہے ۔ برصغیر، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش پہ مشتمل ہے اور اس علاقے کو ہند کہا جاتا تھا۔ الصدق الصادقین، نبی کریم ﷺنے بھی قیامت سے قبل  کے حالات و واقعات سے مطلع فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام  کا نزول اور امام مہدی کا ظہور، دجال کا نمودار ہونا، قیامت کی نشانیاں وغیرہ۔

نبی کریم ﷺنے امت کے دو ادوار کو بہت اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ ایک غزوۃ الہند کا دور، جسے علماء اکرام تاریخ میں "اسلام کی نشاۃ ثانیہ” کا دورفرماتے تھے اوردوسرا دور حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا دور۔ ان ادوار کی تمام احادیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کے دور  سے قبل ہی غزوۃالہند کا تذکرہ ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ آگ سے محفوظ رکھے گا۔
ایک جو غزوۃ الہند میں شریک ہوگا اور دوسرا وہ جو حضرت عیسی کے ساتھ مل کر جہاد کرے گا”

حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کریم  نے آسمانوں پہ زندہ اٹھا لیا اور اب وہ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے۔ وہ نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے پہلو ہی میں روضہ اطہر میں ان کو دفن کیا جائے گا۔ لیکن وہ امتی ہونے کے ساتھ ساتھ اب صحابی بھی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ہی آسمانوں کی جانب اٹھا لیا گیا۔ اور جس کسی نے اپنی زندگی میں اور حالت ایمان میں نبی کریم ﷺ  کی حیات مبارکہ میں زیارت کی، وہ صحابی ہے اور بیت المقدس میں معراج کے موقع پہ تمام انبیاء اکرام میں صرف حضرت عیسی علیہ السلام  ہی بقید حیات تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی زیارت کرنے والے خوش نصیب تابعی کے درجے کو پائیں گے۔ اور یہ کتنا بڑا انعام ہے کہ  ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والے بلاحساب جنت میں جائیں گے۔

حدیث میں متذکرہ دوسرے پہلے دور کی جانب آتے ہیں، جسےاللہ کے آخری نبی ﷺنے  غزوۃ الہندکہا ہے۔غزوۃ الہند ، ایک ایسا جہاد ہے، جو کہ ہند میں ہوگا اور جس میں نبی کریم ﷺ تمام مجاہدین غزوۃالہند کی قیادت  فرمائیں گے جیسے کہ غزوات میں ہوتا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ تمام غزوات صرف نبی کریم ﷺ کی قیادت میں ہی لڑی گئیں اور ایسا جہاد جو کہ نبی کریم ﷺ نے ہی لشکرکشی کا حکم دیا تو اس کو "سریہ” فرمایا گیا۔ لیکن یہ ایسا معرکہ ہوگا کہ جس میں  کوئی صحابی  موجود نہ  ہوں گے لیکن قیادت خود نبی کریم ﷺ فرمائیں گے۔ کیسے نبی کریم ﷺ قیادت فرمائیں گے؟۔۔۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ  سچ ہے اور ویساہونا یقینی ہے۔ جس کا مطلب میں یہ سمجھ سکا ہوں کہ مجاہدین غزوۃ الہند نبی کریم ﷺ کے ایک ایک حکم کے مطابق تمام افعال ادا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی محبت رکھتے ہوں گے کہ فنا فی الرسول ﷺ کے ایسے اعلی  درجے میں ہوں گے  کہ انھیں بیداری میں بھی رسول اللہ ﷺکا دیدار نصیب ہوتا ہوگا اور وہ نبی کریم ﷺ سے ہی ہدایات لے رہے ہوں گے۔ واللہ اعلم

قیامت کے دن ہر ایک کو جہاں کوئی سایہ نہیں ملے گا۔ کوئی کسی کا سہارا نہیں ہوگا۔ کوئی کسی کو پہچانے گا نہیں۔ وہیں قیامت کے ہی دن کچھ ایسے مسلمان ہوں گے جو بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے۔ اللہ کریم ان سے کچھ باز پرس نہیں فرمائیں گے۔ کون بد بخت اس سے محروم رہنا چاہے گا؟۔۔۔

ایک موقع پہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ

"ہند کے مسلمان، بیت المقدس کو آزاد کروا کر ، واپس ہند میں ،
حضرت عیسی
علیہ السلام کا چار سو سال تک انتظار کریں گے”

ایک اور موقع پہ نبی کریم ﷺنے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا کہ

"ضرور تمہارا ایک لشکر ہند سے جنگ کرے گا۔وہاں کے بادشاہوں کو جکڑ لے گا، اللہ تعالی ان کی
مغفرت فرما دے گا اور پھر جب مسلمان پلٹیں گے تو اپنے درمیان حضرت عیسی کو پائیں گے”

حضرت ابوہریرہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں فرمایا۔

"اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ کر اس میں شرکت کروں گا۔
فتح ملی تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا، میں ملک شام پہنچ کر عیسی ان مریم کو بتلا
ں گاکہ
میں آپ
کا صحابی ہوں”

خاتم النبین ﷺ مسکرائے اور فرمایا۔

  "بہت دور، بہت دور” اور بعض جگہ یہ روایت ہے "بہت مشکل، بہت مشکل”

ایک اور موقع پہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"میں عرب ہوں لیکن عرب مجھ میں نہیں اور میں ہند میں نہیں ، لیکن ہند مجھ میں ہے”

امت کے مشکلات میں گھرے ہونے کے وقت کی نشاندہی فرماتے ہوئے، ایک موقع پہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"مجھے ہند سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے”

علامہ اقبال نے بھی اس حدیث مبارک کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا۔

” میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا یہاں سے”

غزوۃ الہند میں شریک ہونے والے خوش نصیب ہوں گے، اللہ کی اطاعت کریں گے۔ اللہ کی مانیں گے اور ایسے ہی وہ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے اور اگر وہ زندہ ہوں گے تو صرف اللہ کی اطاعت کریں گے۔ اور غازی کہلائیں گے۔

ایک تابعی کی قبر کراچی کے ساحل کے قریب ملتی ہے، جو کہ عوام الناس میں صحابی کی قبر مشہور ہے۔ ان کی سوانح میں بھی ملتا ہے کہ انھوں نے جب غزوۃ الہند کی حدیث سنی تو انھوں نے ہند کی طرف رخت سفر باندھا۔ کراچی کے ساحل پہ انتقال ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ غزوۃ الہند کا جذبہ قرون اولی کے اصحاب میں بھی کارفرما رہا۔

بخاری میں غزوۃ الہند کے بارے میں ایک باب ہے۔ ان احادیث کو موجودہ دور میں زندہ کرنے کی سعادت الشیخ حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کو موجودہ  دور میں حاصل ہوئی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!