احکام و اصول کی اقسام

دین اسلام ہمیں دو قسم کے احکام و اصول تعلیم فرماتا ہے۔

اول:     ناقابل تغیر احکام و اصول جیسے عقائد ضروریہ۔ نماز، روزہ، طریق نکاح، عدلیہ کی حدود و قیود وغیرہ

دوئم :    قابل تغیر احکام و اصول، جو مقامات، اوقات اور حالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے طلب و رسد کو مدنظر رکھ کر عشور، غیر مسلم حکومتوں سے تعلقات، بقدر ضرورت نئے محکموں کو بنانا، جدید سامان حرب کا اختیار کرنا وغیرہ

فقہاء کا ہی منسب ہے کہ وہ قابل تغیر احکامات کی حدود مقرر کریں۔ اسلام کے سیاسی نظام کے بارے  میں بھی دونوں طرح کے احکامات ہیں۔ کچھ احکامات مستقل اور متعین ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور دوسرا حصہ حالات کے تابع ہے جس میں مواقع کے لحاظ سے گنجائش ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر سربراہ مملکت کا منتخب شدہ ہونا اور بیعت کی صورت میں عوامی تائید ہونا واجب و لازم ہے، اس اصول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ البتہ عقل سلیم کو اصول شریعت کی روشنی میں فیصلہ کرنے اجازت  ہے۔ یہیں پہ فقہاء میں ترجیحی اختلاف ہوا ہے کہ فقہاء دلائل دیتے ہیں کہ  ایسا کرنا زیادہ بہتر ہے، جبکہ دوسرے فقہاء دلائل دیتے ہیں کہ ایسا کرنا زیادہ بہتر ہے۔ یہ بحث بلاشک و شبہ بہتری کے لئے ہی ہوتی ہے اور امت مسلمہ میں فقہاء نے اسے تحقیق کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔

اسلام کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اسلام کے آنے سے پہلے  علوم دنیا میں کہیں بھی اتنے واضح انداز میں کسی طور بھی انفرادی، خانگی، شہری، صوبائی، ملکی، بین الاقوامی سطح کے تمام معاملات کا احاطہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی یہ سب کرنا کسی دوسرے مذہب یا نظام میں ممکن ہے۔  تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام سے زیادہ متوازن کوئی دوسرا ضابطہ حیات و دنیا نہیں ہے۔ فقہاء عظام نے ہی قرآن و حدیث کے تمام احکام کو مرتب کرکے یہ کارنامہ سر انجام دیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!