حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ، سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے "شیخ"  ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنے استادحضرت مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ سے ظاہری و باطنی علوم حاصل کئے اور ان کی ہدایت پہ قرآن مجید کی تفسیر لکھنا شروع فرمائی۔

آپ نے قرآن مجید کی تین تفاسیر فرمائیں۔ قرآن مجید کی تین تفاسیر کرنے کا اعزاز تاریخ میں اللہ تعالی نے صرف آپ کو ہی عطا کیا ہے۔ آپ نے تحریری تفسیر "اسرار التنزیل” کے نام سے فرمائی۔ جبکہ قرآن مجید کی پنجابی زبان میں پہلی بیانیہ تفسیر "رب دیاں گلاں” کے نام سے فرمائی اور "اکرام التفاسیر” کے نام سے اردو میں بیانیہ تفسیر فرمائی۔ اس کے علاوہ "اکرم التراجم” کے نام سے قرآن مجید کا آسان اردو ترجمہ کرنے کی بھی سعادت پائی۔

آپ نے اپنے شیخ حضرت مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ کے مشن "ذکر الہی” کو پوری دنیا میں پھیلانے کیلئے اندرون و بیرون ملک دورے کئے اور سالکین کی تربیت کی۔ آپ کی شبانہ روز محنت سے بےشمار لوگ مسلمان ہوئے اور لاکھوں سالکین کے سینے نورنبوت ﷺ سے منور ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مراکز دنیا بھر میں قائم ہوئے۔ آپ شاعری بھی کرتے تھے۔ آپ نے بہت سی کتب کے علاوہ سفرنامے بھی تحریر فرمائے۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمی نظام کی اصلاح کیلئے "صقارہ نظام تعلیم” کی بنیاد رکھی۔ صقارہ نظام تعلیم کے اداروں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پہ بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ صقارہ نظام تعلیم کے تحت تعلیمی مراکز منارہ، ضلع چکوال اور اویسیہ ہاؤسنگ سوسائٹی، لاہور میں بہت کامیابی سے کام کررہے ہیں۔

آپ زمینداری کرتے تھے اور اس کے علاوہ معدنیات کی کانیں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کی زندگی کے بے شمار پہلو ہیں، جیسے الفلاح فاؤنڈیشن کے بانی و سرپرست اعلی بھی تھے۔  آپ نے الفلاح فاؤنڈیشن  کے ذریعے شہری و دیہی علاقوں کے علاوہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں بھی طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے دو قومی نظریہ، علم سیاسیات اسلامی اور وحدت المسلمین کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کیلئے "تنظیم الاخوان پاکستان” کی بنیاد رکھی اور اسلامی نظام حکومت و معیشت کے نفاذ کیلئے بھرپور کوشش کی۔

مجھ میں اسلامی نظام حکومت پہ تحقیق کی جستجو آپ کے بیانات  سے ہی اجاگر ہوئی لیکن میں یہ تحقیق مکمل کرکے آپ کی زندگی میں آپ کی خدمت میں پیش نہ کرسکا۔ جس کا مجھے ہمیشہ  افسوس رہے گا۔ اپنے کلام میں فرمایا۔

بے قراری ہے دل مسلم میں آج
جس نے بخشا تھا جہاں بھر کو قرار
ہو جبیں روشن خدا کے نور سے
ہو بحال اقوام میں اپنا وقار
اپنے حصے کا تو کر جاؤ فقیر
تم نہ آؤ گے جہاں میں بار بار

آپ بہت شفقت کرنے والی شخصیت اور دنیا کے پانچ سو بااثر ترین رہنماؤں کی فہرست میں شامل تھے۔ آپ کی وفات کے وقت دنیا بھر میں آپ کے سالکین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی۔ آپ نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 7 دسمبر2017ء کو دنیا سے پردہ فرمایا۔ آپ نے آخری دم تک دین اسلام کی خدمت فرمائی۔

آپ کے بیٹے "حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی” نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں ہی آپ کے مشن کی باگ دوڑ میں حصہ لینا شروع کیا اور آپ کے جانشین نامزد ہوئے۔ اب حضرت امیر عبدالقدیر اعوان ہی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و امیر تنظیم الاخوان  ہیں اور صقارہ نظام تعلیم و الفلاح فاؤنڈیشن کی بھی سرپرستی کررہے ہیں اور آپ کے مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالی  آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائیں اور خصوصی مدد فرمائیں۔۔۔ آمین

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!