جمہوریت، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کی نظر میں

 "ملفوظاتِ تھانوی”، صفحہ 252 پرلکھتےہیں ۔” غرض اسلام میں جمہوری سلطنت کوئی چیز نہیں۔ یہ مخترعہ متعارفہ جمہوریت محض گهڑاہوا ڈهکوسلہ ہے، بالخصوص ایسی جمہوری سلطنت جو مسلم و کافر ارکان سے مرکب ہو وه تو غیر مسلم سلطنت ہی ہوگی”۔ ایک وعظ میں فرماتے ہیں۔ "آجکل یہ عجیب مسئلہ نکلا ہے کہ جس طرف کثرتِ رائے ہو وہ بات حق ہوتی ہے۔ صاحبو! یہ ایک حد تک صحیح ہے مگر یہ بھی معلوم ہے کہ رائے سے کس کی رائے مراد ہے؟۔۔۔ کیا ان عوام کالانعام کی؟۔۔۔ اگر انہی کی رائے مراد ہے تو کیا وجہ ہے کہ حضرت ہود علیہ السّلام نے اپنی قوم کی رائے پر عمل نہیں کیا، ساری قوم ایک طرف رہی اور حضرت ہود علیہ السّلام ایک طرف۔ آخر اُنہوں نے کیوں توحید کو چھوڑ کربُت پرستی اختیار نہیں کی؟۔۔۔ کیوں تفریقِ قوم کا الزام سر لیا؟۔۔۔ اسی لئے کہ وہ قوم جاہل تھی۔ اسکی رائے جاہلانہ رائےتھی۔” (معارفِ حکیمُ الامّت، صفحہ 617)”

مولانامحمد حسین الٰہ آبادی رحمہ اللہ نے سیداحمد خان سےکہا تھا کہ آپ لوگ جو کثرتِ رائے پر فیصلہ کرتے ہیں، اس کا حاصل یہ ہےکہ حماقت کی رائے پر فیصلہ کرتے ہو، کیونکہ قانونِ فطرت یہ ہے کہ دنیا میں عقلاء کم ہیں اوربیوقوف زیادہ، تو اس قاعدے کی بنا پر کثرتِ رائے کا فیصلہ بیوقوفی کا فیصلہ ہوگا۔” (معارفِ حکیمُ الامّت، صفحہ 626)

عہدِحاضر میں جو سیاسی جماعتیں اسلام کا نام لیکراُٹھی ہیں، ان کی اکثریت بھی نہ صرف یہ کہ جمہوریت کو ایک مسلم اصول قرار دے کرآگے بڑھی ہے، بلکہ انہوں نے بھی اپنےمقاصد میں جمہوریت کے قیام کو سرفہرست رکھا ہےاور خود اپنی جماعت کو بھی جمہوری ڈھانچے پر تعمیر کیا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں یہ دعوے بھی بکثرت کئے گئے ہیں کہ جمہوریت اسلام کے عین مطابق ہے بلکہ اسلام نےجمہوریت ہی کی تعلیم دی ہے، کسی نےبہت احتیاط کی تو یہ کہہ دیا کہ جمہوریت کے جواجزاء اسلام کے خلاف ہیں، ہم ان کےقائل نہیں ہیں۔ لہٰذا ہماری جمہوریت "اسلامی جمہوریت” ہے۔ یہ تصورات ہمارے دور میں اس قدر مشہور ہوگئے ہیں کہ انکے خلاف کچھ سوچنا، کہہ دینا دنیا بھرکی لعنت و ملامت کو اپنے سر لینے کے مترادف ہے، اور اگر ایسے ماحول میں کوئی شخص جمہوری حکومت کے بجائے شخصی حکومت (حکیم الامت رحمہ اللہ "شخصی حکومت” سے مراد وہ مثالی حکمران” مراد لیتے ہیں جسے امیرلمومنین یا خلیفہ وقت کہا جاتا ہے۔ص37) کی حمایت کرے تو ایسا شخص تو آج کی سیاسی فضا میں تقریباً کلمہ کفر کہنے کا مرتکب سمجھا جانے لگا ہے۔ (حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکارصفحہ نمبر: 31، مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ

جمہوریت نے کثرتِ رائے کو (معاذ اللہ) خدائی کا مقام دیا ہوا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ ردّ نہیں کیا جاسکتا ۔ (حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکار صفحہ نمبر:32، مفتی تقی عثمانی مدظلہ)

"بعض لوگوں کو یہ حماقت سوجھی کہ وه جمہوری سلطنت کو اسلام میں ٹھونسنا چاہتے ہیں اوردعوی کرتے ہیں اسلام میں جمہوریت ہی کی تعلیم ہے اور استدلال میں یہ آیت پیش کرتےہیں "وشاورھم فی الامر” (اور تم معمولات میں ان سے مشوره کرو) مگر یہ بلکل غلط ہے . لوگوں نے مشوره کی دفعات ہی کو دفع کر دیا ہے . اسلام میں جو مشوره کا درجہ ہے اس کو بلکل نہیں سمجها۔ جس آیت سے یہ جمہوریت کا استدلال کرتے ہیں اس کا اخیر جزو خود ان کے دعوی کی تردید کررہا ہے۔ مگر ان کی حالت یه ہے کہ ایک جزو کو دیکهتے ہیں اور دوسرے جزو سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکار صفحہ نمبر: ۴۳،مفتی تقی عثمانی مدظلہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!