جمہوریت، مولانا سید عطاء المحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ

اگرکسی ایک قبر کو مشکل کشا ماننا شرک ہے تو کسی اور نظامِ ریاست، امپریل ازم، ڈیموکریسی، کمیونزم، کیپٹل ازم اور تمام باطل نظام ہائے ریاست کو ماننا کیسے اسلام ہو سکتا ہے؟۔۔۔ قبر کو سجدہ کرنے والا مشرک، پتھر لکڑی اور درخت کو مشکل کشا ماننے والا، حاجت روا ماننے والا مشرک، اور غیراللہ کے نظاموں کو مرتب کرنا اور اس کے لیے تگ و دو کرنا اور اس نظام کو قبول کرنا، یہ توحید ہے؟۔۔۔ کہاں ہے جمہوریت اسلام میں؟۔۔۔ نہ ووٹ ہے، نہ مفاہمت ہے، نہ ان کا وجود برداشت ہے، نہ ان کی تہذیب برداشت ہے۔  اسلام آپ سے اطاعت مانگتا ہے۔ آپ سے ووٹ نہیں مانگتا، آپ کی رائے نہیں مانگتا۔ من یطع الرسول فقد أطاع اللہ۔۔۔ خطاب بموقع توحید و سنت کانفرنس، ۲۶ ستمبر، ۱۹۸۷ء، جامع مسجد برمنگھم، برطانیہ، بحوالہ ماہنامہ سنابل کراچی

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!