جمہوریت، مولانا خالد سیف الله رحمانی کی نظر میں

 "کتاب الفتاوی” میں فرماتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ملک اور اکثر ملکوں میں جمہوریت کا جو تصور ہے، وه بنیادی طور پر اسلام کے خلاف ہی ہے۔ موجوده جمہوریت اور اسلام کے تصور میں دو اساسی فرق ہیں۔ جمہوریت میں عوام کو مصدرقانون مانا جاتا ہے، ہر طرح کی قانون سازی کا حق ہوتا ہے، گویا تحلیل و تحریم کی کلید خیر و شر کے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جن کو عوام نے منتخب کیا ہے، یہ سراسر اسلامی نقطہ نظر کے خلاف ہے، اسلام کی نظر میں اصل سرچشمہ قانون کتاب الله اور سنت رسولﷺ ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے انسان شارح قانون ہے نہ کہ وضع قانون۔ اس کی تشریح کا حق ان لوگوں کوحاصل ہے جو براه راست قرآن و حدیث پر نظر رکهتے ہوں، البتہ مجلس شوری کو انتظامی مسائل میں قانون سازی اور مشوره کا حق حاصل ہوتا ہے، یہ نہایت دور رس نظریاتی اختلاف ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!