جمہوریت، حضرت مولانا عبیداللہ انور کی نظر میں

مقالات وارشادات ۔ 71 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ اسلامی جمہوریت اور اسلامی سوشلزم آج کل ان اصطلاحات پر بڑی بڑی بحثیں ہورہی ہیں اور اخبارات کے کالم کے کالم سیاہ ہورہے ہیں ۔حالانکہ یہ دونوں اصطلاحیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ جو شخص "اسلامی جمہوریت ” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، وہ بھی اسلام کو ناقص تصور کرتا ہے اور جو "اسلامی سوشلزم” کی اصطلاح کو رواج دینے کے غم میں گھلا جارہا ہے۔ وہ بھی حیات نہیں سمجھتا ۔ اس سلسلہ میں بڑا فریب یہ دیاجاتا ہے کہ ان ازموں اور طرز ہائے زندگی میں شامل سب کچھ اسلام میں ہے اور یہ نظریے اسلام کے خلاف نہیں تو پھر اس کا نام جمہوریت یا سوشلزم رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ اسے صرف اسلام ہی کیوں نہ کہہ دیا جائے؟۔۔۔ اسلامی جمہوریت یا اسلامی سوشلزم کی پیوندکاری سے کیا حاصل ہے؟۔۔۔ اور ریشم کے پاکیزہ اور صاف کپڑے میں یہ ٹاٹ کا پیوند کیوں لگانا چاہتے ہو؟۔۔۔ صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اسلام کا مزاج نہ مغربی جمہوریت سے لگاؤ کھاتا ہے اور نہ ہی کمیونزم سے اسلام کو سروکار ہے۔ اسلام فقط اللہ عزاسمہ جل مجدہ کی حاکمیت کا قائل ہے۔ اس کا اعلان ہے :ان الحکم الا اللہ۔

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزادی

 اسلام میں سربراہان مملکت کا کام نیابت وخلافت ہے۔ پیغمبر اسلام بھی قانون خداوندی کا نفاذ کرتا ہے اور اپنی خواہشات کے پیچھے کسی کو نہیں چلاتا ، اسی لیے اس کا معاشی نظام کسی فنی اور طبقاتی تقسیم کی نفرت پر مبنی نہیں بلکہ توحید کے فطری اصول پر قائم ہے ۔اسلام نہ اشتراکی آمریت کا حامی ہے ، نہ یورپ کے سرمایہ دار انہ نظام کا مؤید ہے ۔اسلام شخصی ملکیت کے بنیادی حق کو تسلیم کرتے ہوئے کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ دوسروں کے حقوق کا استحصال کرے ۔ مزید فرماتے ہیں کہ کیا ہمارا آئین اسلامی ہے؟۔۔۔ہماری دینی مذہبی،سیاسی جماعتوں‌کا چونسٹھ سال سے ایک ہی تحریکی ناکام طریقہ کارہےجس کی چند صورتیں یہ ہیں ۔انٹرویو دینا ۔مظاہرہ کرنا ۔احتجاجی جلوس نکالنا۔ہڑتالیں کروانا ۔احتجاجی جلسے کروانا ۔دھرنا دینا ۔لانگ مارچ ۔سوشل بائیکاٹ ۔ استقبالیہ، دعوتیں ، افطارپارٹیاں،عید ملن پارٹیاں،عشائیہ،ظہرانہ وغیرہ یہ سب طریقے اغیارسے لیے گئے ہیں۔ اس ناکام طریقہ کار کے ذریعےیہ جماعتیں تو آئین پاکستان کواسلامی آئین بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تواس ملک کو اسلامی مملکت بنانااوراسلامی نظام قائم ونافذ کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ایں خیال است محال است جنون۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!