جمہوریت، مولانا فضل محمد کی نظر میں

اسلامی شرعی شوریٰ اور موجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرقے جتنا آسمان اورزمین میں، وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے۔ جس کا شرعی شورائی نظام سے دورکا واسطہ بھی نہیں۔ "اسلامی خلافت”، صفحہ ۱۱۷

کچھ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریت، یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ اسلامی شراب۔ جمہوریت میں اسلام کی بو تک نہیں دنیا میں جو ممالک امریکی بلاک میں شامل ہیں اور وہاں جمہوریتیں قائم ہیں۔ تو ہر کافر، مشرک، یہودی، عیسائی، بدھ مت، ہندو، پارسی اور منکرِخدا جمہوریت کو اچھا سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں جو پارٹیاں اسلام کے نام کو سننا گوارا نہیں کرتی ہیں۔ وہ صبح وشام جمہوریت کے راگ الاپتی ہیں۔ اگر جمہوریت میں ایک ذرہ برابر بھی اسلام ہوتا تو یہ اسلام کے پکے دشمن کبھی بھی جمہوریت کا نام نہیں لیتے۔ معلوم ہوا کہ جمہوریت میں اسلام کی بو تک نہیں ہے۔ علمائے کرام کو خوب یاد رکھ لینا چاہیے کہ جمہوریت میں اسلام تلاش کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ "اسلامی خلافت”، صفحہ 176

کسے درصحن کا چی قلیہ جید اضاع العمر فی طلب للح
ترجمہ: کھیر کے پیالے میں بوٹیاں تلاش کرنا فضول وقت ضائع کرنا ہے

 کچھ حضرات کہتے ہیں اسلامی جمہوریت، یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے اسلامی شراب، اسلامی فساد (فتنہ ارتداد اور جہاد فی سبیل اللہ)، صفحہ نمبر:139۔ مولانا فضل محمد حفظہ اللہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!