جمہوریت، مولانا عبدالحق حقانی کی نظر میں

اسلام ایک ایسا نظم حیات ہے جو اپنی خصوصیات کی وجہ سے مستقل تشخص کا مالک ہے، اس کا تعلق جمہوریت یا سوشلزم سے جوڑنا اسلامی نظام حیات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ یہ تو ہر شحص جانتا ہے کہ مغربی طرز کی حکومت میں طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں، عوام جس طرح چاہیں مل کے قانون پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ملک کے کسی بھی رائج الوقت قانون کو محض اکثریت کے بل بوتے پر ختم کرسکتے ہیں  اور اگر چاہیں تو بے دینی اور خلاف انسانیت قانون کو راتوں رات پاس کرکے ملک پر نافذ کر سکتے ہیں۔ ایسے نظام میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں جبکہ عوام کے نمائندے وزیراعظم کو ملک کی قسمت سے کھیلنے کیلئے لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں، ایسے فرسوده نظام میں صرف افراد گنے جاتےہیں، باطنی معانی اور علم و دانش کی کوئی قدر نہیں ہوتی، معاشره کی قابل فخر شحصیات اور ادنی فرد کی رائے ایک شمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جمہوریت کےذریعے قائم ہونے والی حکومت بظاہر اپنے آپ کو عوام کا ترجمان شمار کرتی ہے لیکن عوام کے حقوق سب سے زیاده اسی کے ذریعے پامال ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان کے معاشرے کے حوالہ سے یہ بات کسی سےڈهکی چهپی نہیں کہ جمہوری نظام ہی میں قوم نے تباہی وبربادی اور ہلاکت کے کون سےمواقع نہیں دیکھے۔ جبکہ اس کے برعکس اسلام میں طاقت کا سر چشمہ الله تعالی کی ذات ہے اور خلیفہ صرف تنفیذ احکام الہی کے لیے نیابت کی ذمہ داری نبهاتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (1) إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا للہِ(سورۃالانعام آیت 75 ،سورۃ یوسف آیت 40/67) (2) إنِّي جَاعِل ٌفِي الْأَرْضِ خَلِيفَۃ ( سورۃ البقرۃ آیت 30) (3) أَلَا لَہ الْخَلْقُوَالْأَمْرُ ( سورۃ الاعراف آیت 54)۔ علاوہ ازیں جمہوری نظام میں یہ طریقہ انتخاب بھی اسلام کے طریقہ انتخاب سے مختلف ہوتا ہے۔ جس میں شوریٰ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے خلاف کوئی فیصلہ کرے، شوریٰ کی تمام سرگرمیاں دین کے ماتحت رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک خلیفہ اللہ تعالیٰ کے قانون کا تابع ہو تو اس کی خلاف ورزی ناجائز بلکہ بغاوت تصور ہوگی۔ (الاحکام السلطانیہ 54)۔ اسلام ایک مستقل نظام حیات ہے۔ جو مروجہ مغربی جمہوریت سے جدا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت بعض امور میں اسلام کی خوشہ چین ہے، ووٹنگ کے مروجہ نظام کے مقابلہ میں اسلام میں شورائی اور استخلاف کا نظام موجود ہے۔ قولہ تعالیٰ : وَشَاوِرْھمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَاعَزَمْتَفَتَوَكَّلْ عَلَی اللّہ ( سورۃآل عمران آیت 159)۔ فتاویٰ حقانیہ ج 2 ، ص 354

علاوه ازیں جمہوری نظام میں طریقہ انتخاب بھی اسلام کے طریقہ انتخاب سے مختلف ہوتا ہے ، جس میں شوری کو یہ اختیار نہیں کہ وه الله تعالی کے مقرر کرده قانون کے خلاف فیصلہ کرے، شوری کی تمام سرگرمیاں دین کے ماتحت رہتی ہیں، یہی وجہ کہ جب تک خلیفہ الله تعالی کے قانون کا تابع ہو تو اس کی خلاف ورزی ناجائز بلکہ بغاوت تصور ہو گی۔ بہرحال اسلام ایک مستقل نظام حیات ہے جو مروجہ مغربی جمہوریت کی خوشہ چین ہے۔ فتاوی حقانیہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!